سعودی عرب میں آج کل نوجوانوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہے؟ایسی رپورٹ سامنے آگئی کہ جان کر آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں

سعودی عرب میں آج کل نوجوانوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہے؟ایسی رپورٹ سامنے ...
 سعودی عرب میں آج کل نوجوانوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہے؟ایسی رپورٹ سامنے آگئی کہ جان کر آپ بھی سوچنے پر مجبور ہوجائیں

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی معیشت تیل کی آمدنی پر بھاری انحصار کرتی ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اس آمدنی میں غیر معمولی کمی نے ناصرف معاشی توازن کو درہم برہم کردیا ہے بلکہ سعودی نوجوانوں کے لئے بھی ایسی پریشانیاں کھڑی کردی ہیں کہ جن کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔

سعودی عرب کی قومی آمدنی کا 90 فیصد تیل سے حاصل ہوتا ہے۔ جون 2014ءمیں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھی، جو اب 30 ڈالر فی بیرل سے بھی کم رہ گئی ہے۔ تیل کی آمدنی میں کمی کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ سعودی عرب کو بھاری بجٹ خسارے کا سامنا ہے جبکہ عوام کو ماضی میں دستیاب سہولتیں، سرکاری ملازمتیں اور سبسڈی کا بھی خاتمہ ہورہا ہے۔ اس ملک میں پہلی دفعہ عوام کو ٹیکسوں کا بھی سامنا ہے۔

اخبار ”نیویارک ٹائمز“ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 70 فیصد شہری سرکاری ملازمت کرتے ہیں لیکن تیل کی قیمت میں کمی کے بعد پیدا ہونے والے معاشی مسائل کی وجہ سے یہ ملازمتیں کم ہو رہی ہیں۔ سرکاری ملازمتوں کی ناصرف تعداد کم ہورہی ہے بلکہ تنخواہیں بھی پہلے جیسی نہیں رہیں، اور بڑی تعداد میں سعودی نوجوان ملازمت کے لئے پریشان ہیں۔ سرکاری ملازمتوں کا حصول مشکل ہونے کے بعد یہ نوجوان پرائیویٹ سیکٹر کا رخ کرتے نظر آرہے ہیں۔

مزید جانئے: دبئی جانے والے یا متحدہ عرب امارات میں مقیم افراد کسی بھی صورت یہ ایک کام کبھی نہ کریں، پکڑنے کیلئے جاسوس مقرر کردئیے گئے، بڑا خطرہ

اخبار کا کہنا ہے کہ سعودی دارالحکومت میں پہلی دفعہ سعودی نوجوانوں کو جوق در جوق جاب فیسٹیولز میں شرکت کرتے دیکھا گیا۔ پچھلے دو ہفتے کے دوران منعقد ہونے والے تین جاب فیسٹیولز میں سعودی یونیورسٹی گریجوایٹس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ سعودی نوجوانوں کو بدلے ہوئے حالات کا اندازہ ہوچکا ہے اور اب وہ نوکری کے حصول کے لئے سرگرم ہیں۔

مملکت میں انجینئرنگ اور طب سمیت متعدد شعبوں میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے مواقع کم ہونے پر سعودی عرب کے نوجوان، جو کہ کل آبادی کا 70 فیصد ہیں، اس شعبے کا رخ کرنے لگے ہیں۔ اس بڑی تبدیلی کے نتیجے میں متعدد شعبہ جات میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی ملازمتوں کے لئے بھی خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ سعودی حکام اس سے پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ اگرچہ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن بوقت ضرورت پرائیویٹ سیکٹر میں دستیاب ملازمتیں بھی غیر ملکیوں سے لے کر مقامی افراد کے حوالے کی جاسکتی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی