پی ایس ایل 5 اچھے بلے بازپیدا نہ کرسکی تو مقصد فوت ہوجائیگاٗعبدالقادر

پی ایس ایل 5 اچھے بلے بازپیدا نہ کرسکی تو مقصد فوت ہوجائیگاٗعبدالقادر

دبئی (این این آئی)سپنر عبد القادر نے کہاہے کہ پی ایس ایل پاکستان کو شدت سے درکارپانچ اچھے بلے باز پیدا کر نے میں ناکام رہی تو انعقاد کا مقصد فوت ہو جائیگا ۔ایک انٹرویو میں پاکستان کے سابق عظیم لیگ اسپنر عبدالقادر نے کہا کہ اگر پی ایس ایل پاکستان کو شدت سے درکار پانچ اچھے بلے باز پیدا کرنے میں ناکام رہی تو اس کے انعقاد کا مقصد فوت ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا اندازہ ہونا چاہیے کہ ہمارے ہاں قدرتی طور پر اچھے باؤلرز پیدا ہوتے ہیں ٗ آپ مجھے لیگ کے اختتام پر پانچ اچھے مقامی بلے با دکھا دیں اور میں اس لیگ کو کامیاب قرار دے دوں گابصورت دیگر پاکستان کرکٹ میں موجود خرابیوں سے شائقین کی توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس وقت پی ایس ایل میں بلے بازوں کی فہرست میں غیر ملکی کھلاڑیوں کا پلہ بھاری ہے جہاں روی پوپارہ، تمیم اقبال اور کیمرون ڈیلپورٹ کامیاب ترین بلے باز ہیں جس کے بعد پاکستان احمد شہزاد اور عمر اکمل کا نمبر آتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 70 اور 80 کی دہائی میں لیگ اسپن کے فن کو ازسرنو زندہ کرنے والے 60 سالہ کھلاڑی کے مطابق پی ایس ایل کیلئے کچھ عرصہ انتظار کرنا چاہیے تھا اور اس کے انعقاد سے قبل ملک میں کرکٹ کو درپیش مسائل کو حل کیا جانا چاہیے تھا ٗہم ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے، بنگلہ دیش کے ہاتھوں 3۔0 سے شکست ہوئی اور ہم نے زمبابوے سے دورہ پاکستان کیلئے منت سماجت کرتے رہے ٗپھر وعدہ کیا گیا پی ایس ایل کا انعقاد پاکستان میں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام چیزوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔کیا پی سی بی کے پاس کوئی منصوبہ بھی ہے؟عبدالقادر نے سابق کپتانوں وسیم اکرم اور رمیز راجہ کو لیگ کا سفیر بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر فرائض بھی ادا کرنے کرنے کی اجازت دینے پر بھی حیرانی کا اظہار کیا۔سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس لیگ کی طاقت کا اندازہ لگانے کیلئے کوئی منصوبہ بنانا چاہیے تھا اور اسے مقامی نوجوان کھلاڑیوں کیلئے پلیٹ فارم بنانا چاہیے تھا۔

ٗبورڈ کو ہر ٹیم میں مقامی نوجوان کھلاڑیوں کھلانا چاہیے تھا اور وہ یقیناًان میں سے کسی کو مستقبل کیلئے ڈھونڈ لیتے۔

ٗمیں ذاتی طور پر نئے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل کی ٹیموں کا کپتان بناتا کیونکہ شاہد آفریدی اور مصباح الحق جلد ریٹائر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں سمجھ آتا کہ جب ہر سرمایہ کار چاہے گا کہ اس کی ٹیم جیتے تو پھر ہم مقامی باصلاحیت کھلاڑیوں کو کیسے ڈھونڈیں گے ٗ وہ انی بہترین ٹیم سے کھیلیں گے۔ وہ ابھرتے ہوئے یا نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کیونکر انحصار کریں گے؟۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی