امریکہ اور کیوبا کے درمیان 50سال بعد فضائی رابطہ بحال

امریکہ اور کیوبا کے درمیان 50سال بعد فضائی رابطہ بحال

ہوانا(آن لائن) امریکا اور کیوبا کے درمیان فضائی رابطوں کی با ضابطہ بحالی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے، دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط پچاس سال بعد بحال ہوئے،معاہدے کے تحت امریکا اور کیوبا کے درمیان یومیہ 10 پروازیں چلائی جائیں گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دستخط کی تقریب کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ہوئی،امریکہ اور کیوبا کے درمیان 50 سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ تجارتی پروازوں کے دوبارہ آغاز کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان چند چارٹر پروازوں کا سلسلہ تو ہے لیکن اس نئے معاہدے کے بعد اب یومیہ 10 کے قریب پروازوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔رواں سال خزاں میں ان نئی پروازوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔کیوبا اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کا یہ تازہ دور تصور کیا جا رہا ہے۔امریکہ کی ٹرانسپورٹیشن کے وزیر اینتھونی فاکس کا کہنا ہے کہ ’کیوبا کے ساتھ تعلقات کے لیے امریکی کوششوں میں کمرشل پروازیں ایک اہم سنگ میل ہے۔

جبکہ کیوبا کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اڈیل روڈریگز نے اسے ایک ’نیا دور‘ قرار دیا ہے۔تقریباً ایک سال قبل جب سابقہ سرد جنگ کے دشمنوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا شروع کیے تھے اس کے بعد یہ ایک بہت اہم قدم ہے۔امریکہ نے سنہ 1960 میں کیوبا پر تجارتی پابندی عائد کی تھی۔ جس کے بعد سنہ 2014 میں امریکی صدر باراک اوباما اور کیوبا کے راؤل کاسترو نے اعلان کیا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا آغاز کریں گے۔کیوبا نے واشنگٹن میں اپنا سفارتخانہ جولائی 2015 میں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے ماہ بعد ہی امریکہ نے بھی اپنا سفارتخانہ ہوانا میں کھول دیا تھا۔سفارتخانے کی تقریب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شرکت کی تھی جس کے بعد وہ 70 سالوں میں کیوبا کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی وزیر خارجہ بھی بن گئے۔

ہزاروں کی تعداد میں امریکی شہری پہلے ہی کیوبا کے جزیروں میں سیاحت کے لیے موجود ہیں اور وہاں کے ہوٹل اور ہوسٹل کئی کئی مہینوں کے لیے بْک ہورہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر