معاشرتی رویوں میں تبدیلی بے حد ضروری

معاشرتی رویوں میں تبدیلی بے حد ضروری
 معاشرتی رویوں میں تبدیلی بے حد ضروری

  

ہندو تہذیب اور اس کے فرسودہ استحصالی رویے ہمارے اذہان اور سوچوں پر کچھ اس طرح سے مسلط ہیں کہ ہم اسلام جیسے جامع مذہب کے پیروکار ہونے کے باوجود اپنے طورطریقوں اور رویوں کو کچھ اور ہی ڈھب سے اپنائے ہوئے ہیں کہ کبھی کبھی اپنے کئے گئے افعال پر خود شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔کہیں تو بچیوں کو تعلیم سے بے بہرہ رکھتے ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتے ہیں اور کہیں انہیں انسان ماننے سے ہی گریزاں ہوتے ہیں اور پھر مزے کی بات ہے کہ ان رویوں کی پرورش بھی کرتے ہیں اور بڑے بھرپور انداز میں انہیں اختیارکرکے خود کو مہذب دنیا کے باسی سمجھتے ہیں۔ ان رویوں کی ذمہ دار نہ تو حکومتیں ہیں اور نہ ہی کوئی خاص طبقہ بلکہ ذمہ دار تو ہم خود ہیں جب ہم بچوں اور بچیوں میں تمیز کرتے ہیں۔ بیٹوں کو ہانڈی میں سے اچھی بوٹیاں کھلاتے اور اچھے پرائیویٹ سکولوں میں تعلیم دلواتے ہیں اور بیٹیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھتے ہیں تو زمین اپنے سینے پر چلنے والوں سے سرگوشی کرتی ہے کیا یہ بیٹی بھی ان کی اولاد ہے ؟جی ہاں بیٹی کو بوجھ سمجھ کر بہت چھوٹی عمر میں ہی بیاہ دیا جاتاہے اس کی گڈیاں پٹولے چھین کر بیوی ،ماں ، چاچی، مامی، بھابھی اور جانے کیا کیا رشتو ں اور ذمہ داریوں کا بوجھ اس کے کمزور کندھوں پر ڈال کر عمر بھر کے لئے اس کے اعتماد کو مفلوج کردیا جاتاہے ۔ یوں اس کا اعتماد اور عزت نفس معذور ہوجاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ مرجاتی ہے۔

جانے ہم کب سوچ کی عینک لگا کر دوربینی سے دیکھنا شروع کریں گے دنیانہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم آج تک سوسائٹی کے ان نام نہاد فرسودہ رسم و رواج کی اذیتوں سے جان نہیں چھڑا سکے۔ چھوٹی عمر میں کئی گئی شادیاں آبادی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہیں اور ناخواندہ بچیوں کی شادی وقت سے پہلے جب کردی جاتی ہے تو بچوں میں مناسب وقفہ اور فیملی پلاننگ کے حوالے سے بہت سے ایشوز سر اٹھاتے ہیں وقت کا پہیہ دن بہ دن ہماری آبادی میں اضافے اور مستقبل میں اس سے جنم لینے والے بے شمار مسائل کا عندیہ دے رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ بہبود آبادی بھرپور طریقے سے لوگوں میں ان حوالوں سے شعور بیدار کررہاہے اپنی آگاہی مہم کے ذریعے دور دراز پسماندہ علاقوں کے مردو خواتین میں چھوٹی عمر میں شادیوں کے نقصانات خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں میں مناسب وقفے سے متعلق ضروری معلومات پھیلارہاہے نو بالغوں کے لئے بلوغت سنٹرز کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے یہاں ماہر نفسیات اور عملہ نوبالغوں کو تولیدی و نفسیاتی مسائل کے حوالے سے ضروری معلومات و رہنمائی مہیا کررہاہے اس طرح نو بالغ ماہر نفسیات سے کھل کراپنے مسائل شیئر اور ان کو حل کرتے ہیں ان سنٹرز کا دائرہ کار مزید بڑھا یا جارہاہے۔ سوشل موبلائزرز مردوں اور خواتین کی خاندانی منصوبہ بندی بارے کونسلنگ کرتے ہیں اور فیملی پلاننگ کے پروگرامز میں مردوں کی شمولیت کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں عوام کی آگہی کیلئے ایک مربوط آگہی مہم پروگرام تشکیل دیا گیا ہے جس سے نہ صرف لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی بارے آگہی دی جائے گی بلکہ لوگوں کے گھروں تک خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات بہم پہنچائی جائیں گی ۔آگہی مہم صوبائی ہیڈکوارٹر سے لیکر تمام اضلاع اور دوردراز علاقوں میں قائم فلاحی مراکزو فیملی ہیلتھ کلینکس کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔اس کے لئے روڈ میپ بھی بنایا گیا ہے۔ضلعی سطح پر بھی ایسی سرگرمیاں منعقد کی ہیں۔*جیسے ہفتہ برائے فیملی پلاننگ*سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے نمائش کا انعقاد*آگہی سمینارزوگروپ میٹینگز* واک/ریلیز*لوکل کیبل نیٹوورک اور ریڈیو پر اشتہارات*سٹیمرز اور بینرز کا آویزاں * پوسٹر ڈیزائننگ اور مقابلہ نویسی کا انعقاد اور لیکچرز کا اہتمام (کالجوں اور یونیورسٹیز میں) *دستاویزی فلم شوز *صحت مند بچوں کا مقابلہ * کھیلوں کا انعقاد *قرآت و مقابلہ نعت خوانی وغیرہ شامل ہیں۔

محکمہ بہبودِآبادی پنجاب کی طرف سے اپنے فیلڈ ورکرز جس میں سوشل موبلائزر اورمردو خواتین اسسٹنٹس شامل ہیں کی کارکردگی کو جانچنے اور اس کو مزید بہتر کرنے کیلئے ریفرل سسٹم متعارف کروایا گیا اس سسٹم کے تحت تمام فیلڈ ورکرز کو تین رنگوں کی ریفرل سلپس جاری کی گئی جوکہ وہ ایک اپنے پاس رکھے گا اور ایک اپنے متعلقہ تحصیل آفیسر کو اور ایک کلائنٹ کو دے گا جو یہ سلپ کو محکمہ کے سہولت سنٹر یعنی FWCاور FHCپر سہولت لینے کیلئے لے کر جائے گا مزید براں کلائنٹ یہ سلپ کو محکمہ صحت کے کسی بھی سہولت سنٹر میں لے جاسکتا ہے۔اور وہ متعلقہ فیلڈ ورکر کی کارکردگی میں ریکارڈ کیا جائے گا۔اسی سسٹم کے تحت محکمہ صحت کی LHWsکو بھی یہ ریفرل سلپس بھی جاری کی گئی ہیں اور وہ اپنے کلائنٹس کو نہ صرف محکمہ صحت بلکہ محکمہ بہبودِآبادی کے سہولت سنٹر میں بھیج سکتی ہے تاکہ لوگوں کو با آسانی فیملی پلاننگ کی سہولیات دستیاب ہو سکیں۔

محکمہ بہبودِآبادی نے مالی سال2014-16کیلئے مختلف سکیموں کا اجراء کیاان منصوبوں میں فلاحی مراکز کی تعداد میں400کا اضافہ کیا گیا جس میں فیملی ویلفیئر ورکرز بھرتی کی گئی ہیں جبکہ دوسرا عملہ بھرتی کے مراحل میں ہے۔اس کے علاوہ600فیملی کمیونٹی بیسڈ فیملی پلاننگ ورکرز بھی بھرتی کئے جارہے ہیں۔2014-15میں چھ فیملی ہیلتھ کلینکس بننے تھے جن میں مظفر گڑ ھ،راجن پور اور گجرات مکمل ہو چکے ہیں اور تین جس میں سیالکوٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور سرگودھا ہیں میں تعمیراتی کام جاری ہے2015-16میں بھی چھ نئےFHCبننے تھے اُن میں سے ڈی جی خان احمد پور سیال اور لالیاں میں تعمیر جاری ہے اور باقی تین جس میں راولپنڈی، شیخوپورہ اور بھوانہ ہیں میں جلد تعمیر شروع ہوجائے گی۔اس کے علاوہ پاپولیشن ویلفیئر ٹرینگ انسٹی ٹیوٹRestruturing &Re-cognization کر دی گئی ہے۔ریجنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس ملتان اور لاہور کی اَپ گریڈیشن کردی گئی ہے۔

محکمہ بہبودِآبادی نے انفارمشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک ایسا سوفٹ وئیر تیار کیا ہے جس کے تحت تمام کارکردگی رپورٹس اور مانٹیرنگ رپورٹس کو ویب سائیٹ کے ذریعے لنک کر دیا ہے تمام فیلڈ افسراان کو اینڈرائیڈ موبائل ٹیبلٹس دے دی گئی ہیں جس میں مانٹیرنگ سافٹ وئیر اپ لوڈ کردیا گیا ہے جیسے ہی کوئی آفیسر فیلڈ کا دورہ کرتا ہے تو اسی وقت وہ اپنی رپورٹ ٹیبلٹ کے ذریعے اَپ لوڈ کردیتا ہے ۔صوبائی دفاتر میں موجود اتھارٹیز کوOnline Mapکے ذریعے فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ کس کس آفیسر نے رپورٹ اَپ لوڈ کی ہے رپورٹ کی تفصیلات کیا ہیں۔موبائل گورننس سمارٹ فون مانٹیرنگ اور رپورٹننگ سسٹم ہے جس سے دورہ کا اصل ٹائم تاریخ اور جگہ کا تعین ہوتا ہے اور آفیسر کی لوکیشن کا بھی پتہ چلتا ہے۔اس سسٹم کے ذ ریعے محکمہ کے تمام سروس ڈیلوری آؤٹ لٹس اُن کی مانیٹرنگ تفصیلات کوبھی نقشے پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سافٹ وئیر میں مندرجہ ذیل معلومات شامل ہیں۔

*۔۔۔فلاحی مرکز کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ

*۔۔۔سوشل موبلائزرز کی کارکردگی کی رپورٹ

*۔۔۔فیملی ہیلتھ کلینکس کی ماہانہ کارکردگی کی رپورٹ

*۔۔۔فلاحی مرکز کی مانیٹرنگ رپورٹ کی تفصیلات

*۔۔۔سوشل موبلائزر کی مانیٹرنگ رپورٹ کی تفصیلات

*۔۔۔فیملی ہیلتھ کلینک کی مانیٹرنگ رپو رٹ تفصیلات

مزید براں اس سسٹم کے تحت تمام فیلڈ افسران کیلئے Data Packتیار کرلیا گیا ہے جس کے تحت تمام آفیسرز کو مختلف فلاحی مراکز اور فیملی ہیلتھ کلینک مختص کردئیے گئے ہیں اور ان کو کہا گیا ہے کہ ہر ماہ ضلع کے تمام سروس ڈلیوری آؤٹ لٹس ضرور مانیٹر ہوں گے ۔اس سسٹم کے ذریعے تمام رپورٹس کا تجزیاتی جائزہ بھی آسان ہو گیا ہے محکمہ اور دستیاب معلومات جن میں خالی آسامیاں، فرنیچر،مشینری ایکیوپمنٹ،مانع حمل ادویات اور جنرل میڈیسن وغیرہ شامل ہیں کی تعداد کا تعین کرنے میں آسانی ہوگئی ہے۔

دسمبر کے مہینے میں پورے پنجاب کے ننانوے فیصد فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفئیر سنٹر وزٹ کئے گئے اور اُن کی رپورٹس اَپ لوڈ کی گئیں جبکہ دیا گیا ٹارگٹ90فیصد تھا پورے پنجاب کی مانیٹرنگ کا Heat Mapبھی بنایا گیا۔جس میں تمام پنجاب کی اضلاع کی کارکردگی سبز رنگ سے دکھائی گئی جو کہ واضح کرتی ہے کہ تمام اضلاع اپنے دئیے ہوئے اہداف کے مطابق کا م کررہے ہیں۔

مزید : کالم