عالم اسلام میں قیام امن کے لئے کویت کا کردار

عالم اسلام میں قیام امن کے لئے کویت کا کردار
 عالم اسلام میں قیام امن کے لئے کویت کا کردار

  

کویت اسلامی دُنیا کی خوشحال ترین ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس خطے کو غیرمعمولی معدنی ذخائر سے نوازا ہے، لیکن اس ملک کی ترقی اور عظمت کا سفر ان ذخائر کی دریافت سے بہت پہلے ہی اس وقت شروع ہو گیا تھا جب 1756ء میں الصباح خاندان نے اس کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ اس سے پہلے یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اور محض ایک ساحلی مچھلی منڈی کے طور پر ہی جانا جاتا تھا۔ اٹھارھویں صدی کے شروع میں جب خلیج کے بحری راستوں کے ذریعے تجارت کا آغاز ہوا تو کویت کی جغرافیائی اہمیت نمایاں ہوئی۔ بھارت اور مشرق بعید سے تجارتی جہاز بصرہ اور کویت آتے جہاں سے سامان تجارت کی نقل و حمل خشکی کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے شمالی ممالک اور مشرقی یورپ تک ہوتی۔ اس وقت یہ شہر جو آج کویت سٹی کہلاتا ہے، یہ اور اس سے ملحقہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پھر 1756ء میں اس کو سلطنت عثمانیہ کی اجازت سے داخلی طور پر خود مختار بنا دیا گیا، جبکہ دفاع بدستور سلطنت عثمانیہ کی ذمہ داری رہا۔ اس وقت سے لے کر آج تک اس مملکت کی عنان اقتدار آل صباح کے ہاتھ میں ہے۔

ویسے تو الصباح خاندان کے اقتدار سنبھالتے ہی کویت کی ترقی کا سفر شروع ہو گیا تھا، لیکن خوشحالی کی یہ تیز رفتاری تین ادوار میں اس دور تک پہنچی جسے کویت کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ پہلا دور وہ ہے جب 1775ء میں بصرہ پر فارسیوں نے قبضہ کیا اور وہاں کے مالدار تاجر اپنے اثاثے لے کر نقل مکانی کر کے کویت میں آ گئے۔ انہوں نے وہاں اس سے بھی بڑا اور جدید شپ یارڈ قائم کیا جو انہوں نے بصرہ میں بنایا ہوا تھا۔ یوں کویت عالمی تجارت کا مرکز بن گیا۔1779ء میں بصرہ کا علاقہ فارسیوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہاں سلطنت عثمانیہ کا گورنر تعینات ہوا، لیکن یہ گورنر اس قدر بدعنوان تھا اور اس نے بصرہ کے عوام پر ٹیکسوں کی ایسی بھرمار کر دی کہ وہاں جو تاجر اپنی غیر منقولہ جائدادیں چھوڑ آئے تھے انہوں نے بھی اپنی جائدادیں بیچ دیں اور مستقل طور پر کویت میں آباد ہو گئے۔ اس طرح الصباح خاندان کی دانشمندانہ پالیسیوں کے باعث کویت کی طرف دولت کا بہاؤ ہوا اور یہ ایک ترقی یافتہ شہر کی شکل اختیار کرنے لگا۔

کویت کی خوشحالی کا دوسرا ارتقائی دور الصباح خاندان کی ایک اور بروقت دانشمندانہ پالیسی کے باعث شروع ہوا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں جب سلطنت عثمانیہ بالکل ہی زوال پذیر تھی اور ہر طرف لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانی کا بازار گرم تھا، خود سلطنت عثمانیہ کے ہی کرپٹ گورنر نے کویت پر قبضہ کرنا چاہا۔ اس پر 1899ء میں الصباح سربراہ مملکت نے سلطنت عثمانیہ سے الحاق ختم کر کے برطانیہ سے دفاع کا معاہدہ کر لیا جو اس دور میں اتنی بڑی عالمی قوت بن چکی تھی کہ برطانوی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں قدرتی طور پر برطانیہ سے تجارتی مراسم بھی استوار ہوئے جو خوش حالی میں اضافے کا باعث بنے۔ پھر 1937ء میں جب کویت میں برطانوی کمپنیوں نے تیل کے وسیع ذخائر ڈھونڈ نکالے تو خوشحالی کے سنہری دور کی ابتدا ہو گئی۔ اسی دور میں کویت مکمل طور پر خود مختار دولت الکویت بن گیا اور شیخ السالم الصباح نے امیر کویت کا لقب اختیار کر لیا۔ اسی زمانے میں کویت تہذیبی اور تمدنی اعتبار سے بھی جدید ترقی یافتہ معاشروں سے ہم آہنگ ہو گیا۔

ایران عراق جنگ میں کویت نے اپنے ہمسایہ ملک عراق کی حمایت کی اس وجہ سے ایران بھی کویت سے خفا تھا اور اس کی وجہ سے بعد میں کویت کو جارحیت، شیعہ سُنی مخاصمانہ کشیدگی اور دہشت گردی کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ عراق کے صدر صدام حسین کی نیت بھی خود کویت پر خراب ہونے لگی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ کویت عراق کا قرض معاف کر دے اور عراق کی سرحد کے قریب سے تیل نکالنا بند کر دے۔ ظاہر ہے یہ مطالبات قابل قبول نہ تھے۔ اس پر صدام نے کویت پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا، جس کو عالمی برادری نے دباؤ ڈال کے ختم کرایا۔ صدام کے اس اقدام کے نتیجے میں کویتی عوام میں صدام کے لئے نفرت نے جنم لیا اور پھر جب مغربی اقوام نے صدام کے خلاف کارروائی کی تو کویت نے اس کے لئے اپنا علاقہ استعمال کرنے کی بخوشی اجازت دی۔ امیر کویت شیخ احمد الصباح نہایت جہاندیدہ اور دور اندیش امیر ہیں اور اقتدار کے ہر پہلو، بالخصوص امور خارجہ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ ان کی امارت میں کویت ترقی و خوشحالی کی مزید منازل طے کرے گا۔

آج کویت سعودی عرب کا فطری اتحادی ہے اور عالم اسلام میں امن و سلامتی کی کوششوں کے لئے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے مسلم عسکری اتحاد کا رکن ہے۔ یہی مؤقف پاکستان کا ہے چنانچہ مؤقف کی ہم آہنگی کی وجہ سے پاکستان سے کویت کے گہرے برادرانہ تعلقات بھی روز افزوں ہیں، جس کا کریڈٹ بجا طور پر کویت کے پاکستان میں متعین سفیر عزت مآب الشیخ نواف عبدالعزیزالعنذی کو جاتا ہے۔ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ان کے دورِ سفارت کاری میں یہ باہمی تعلقات مزید گہرے ہوتے چلے جائیں گے۔

مزید : کالم