بجلی چوری کے نئے قوانین ۔ عوام پھنس گئے

بجلی چوری کے نئے قوانین ۔ عوام پھنس گئے

بجلی چوری کے نئے قوانین سامنے آگئے ہیں۔ حکومت نے بجلی چوری کی بھی دہشت گردی کی طرح سزائیں سخت کر دی ہیں۔ ہمارے ملک میں بجلی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بجلی کے بل دینے کا کلچر صرف شہروں کی حد تک محدود ہے۔ خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے اکثر علاقوں میں بجلی کا بل نہ دینے کا کلچر ہے۔ بجلی کا بل نہ دینا کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں بھی بجلی کا بل نہ دینے کا عمومی کلچر موجود ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی بجلی کا بل نہ دینے کا ایک رواج موجود ہے۔ اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بجلی کا پورا بل دینے کا رواج صرف اور صرف پنجاب میں ہے۔ پنجاب سے ہی بجلی کے بلوں کی ریکوری ہوتی ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب میں بجلی کا استعمال بھی زیادہ ہے۔

بجلی چوری کے جو نئے قوانین سامنے آئے ہیں ۔ وہ بلا شبہ سخت ہیں۔ انہیں دیکھ کر کوئی بھی بجلی چوری کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت پنجاب کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں بالخصوص لیسکو، فیسکو گیپکو میں لائن لاسز کو ایک خاص شرح سے نیچے رکھنے اورریکوری ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لئے زیادہ ریڈنگ کے بل بھیجے جاتے ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ لاہور میں لیسکو کے حکام نہایت سائنٹیفک طریقہ سے کام کر رہے ہیں۔ ہر سب ڈویژ ن میں ہر ماہ ایک فیڈر کے میٹرز کی ریڈنگ زیادہ کی جاتی ہے۔ اس طرح ہر کنزیومر کی باری چھے ماہ بعد ہی آتی ہے۔ اور اس طرح آپ کو سال میں دو دفعہ ریڈنگ سے زیادہ بل ڈال دیا جاتا ہے۔ اس طرح متعلقہ ایس ڈی او اپنے علاقہ کے لائن لاسز کو بھی ایک خاص شرح سے نیچے رکھنے میں کا میاب ہو جاتا ہے۔ اور ریکوری بھی ٹھیک رہتی ہے۔ باقی کنزیومر کے ساتھ جو ظلم ہو تا ہے۔ وہ اپنی جگہ۔ لیکن اس کی کوئی شنوائی نہیں۔

آج سے کچھ سال قبل بجلی کے میٹر ہر گھر کے اندر ہوتے تھے۔ لیکن پھر یہ توجیح سامنے آئی کہ لوگ گھروں کے اندر میٹر ہونے کی وجہ سے انہیں باآسانی ٹمپر کر لیتے ہیں۔ اس لئے اگر بجلی چوری کو روکنا ہے تو میٹر گھروں سے نکال کر کھمبوں پر لگا دئے جائیں ۔ اس طرح بجلی چوری رک جائے گی۔ جس کے بعد ہر گھر فیکٹری اور پلازے سے میٹر باہر نکال کر کھمبے پر لگا دیے گئے۔ لیکن یہ سکیم بھی بجلی چوری نہ روک سکی۔ اور میٹر کھمبوں پر بھی ٹمپر ہونے لگے۔ اس کے بعد واپڈا نے بجلی چوری کو روکنے کے لئے بڑے بڑے ڈیٹکشن بل ڈالنے شروع کر دئے۔ لیکن شاید لاکھوں کے ڈیٹکشن بل بھی بجلی چوری نہ روک سکے۔ اور اب یہ سخت سزائیں سامنے آگئی ہیں۔

ایک حقیقت اہم ہے جس کو ہر دفعہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔کہ واپڈا اہلکاروں کی مرضی کے بغیر ایک یونٹ کی بجلی چوری بھی پنجاب میں ممکن نہیں ہے۔ صرف نو گوایریاز جہاں بجلی چوری سینہ زوری بنیاد پر کی جاتی ہے۔ وہاں بجلی چوری کے لئے واپڈا اہلکاروں کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف جہاں بجلی چوری کو چوری سمجھ کر کیا جا تا ہے وہاں واپڈا اہلکاروں کا تعاون ناگزیر ہے۔ایک سوال اور بہت اہم ہے کہ واپڈا کا میٹر ریڈر ہر ماہ بجلی کی ریڈنگ لینے کا پابند ہے۔ اس طرح وہ ہر ماہ میٹر کی انسپکشن کرتا ہے۔ جب لیسکو اور دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں کنزیومر کا ایک ایک سال کا ڈیٹکشن بل ڈالتی ہیں۔تب وہ اپنے میٹر ریڈر۔ میٹر انسپکٹر ، اور ایس ڈی او کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتیں کہ انہوں نے اس میٹر کی جو ہر ماہ ریڈنگ لی۔ تو تب کیوں نہ بتا یا۔ میٹر ریڈر اور دیگر اہلکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرنا ہی بجلی چوری کا بنیادی سبب ہے۔ لیکن چونکہ ان اہلکاروں کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا یا جاتا ۔ اس لئے بجلی چوری بھی نہیں رکتی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ اہلکار ہڑتال کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اور بیچارہ صارف نہ تو ہڑتال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور نہ ہی اس کی کوئی آواز ہے۔ وہ تو بے زبان ہے۔ ویسے میٹر ٹمپر کرنے والے بھی محکمہ کے ہی لوگ ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جن علاقوں میں حکومت پاکستان آج تک بجلی کے بل وصول کرنے میں نا کام رہی ہے ۔کیا وہ ان نئے قوانین کو وہاں نا فذ کروا لے گی۔ جہاں واپڈا اہلکار بل لینے ، میٹر کی ریڈنگ لینے نہیں جا سکتا۔ وہاں ان قوانین پر کون عمل کروائے گا۔ اتفاق سے خیبر پختونخواہ ، سندھ، اور بلوچستان کی حکومتیں بھی ان نئے قوانین میں وفاق کی مدد نہیں کر سکتیں ۔ ایسے میں وفاقی ادارہ ایف آئی اے بھی ان صوبوں میں محدود حد تک ہی کاروائی کر سکتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ نئے قوانین صرف اور صرف پنجاب کے لئے ہی بنائے گئے ہیں۔

ایک اور بات اس وقت میٹر تو کھمبے پر لگے ہیں۔ اور اگر کوئی شرارت سے کسی کے میٹر کو ٹمپر کر دے تو وہ صارف کیا کر سکتا ہے۔ اور اس کے پاس اس بات کو چیک کرنے کا کیا پیمانہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا میٹر ٹمپر کر کے ایک دوسرے کو پھنسا بھی سکتے ہیں۔ میں یہی سوچ رہا ہوں کہ اب ان نئے قوانین کے بعد مجھے اپنے سے زیادہ اپنے میٹر کی حفاظت کرنی ہے۔ کیونکہ میٹر کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کی سزا سات سال قید اور تیس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ان نئے قوانین سے حکومت نے تو اپنا تحفظ کر لیا ہے۔ لیکن بیچارے صارف کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی ایک تو بجلی ہے نہیں اور جو ہے وہ اتنی مہنگی ہے کہ اس کی قیمت نا قابل برداشت ہے۔ شاید حکومت نے یہ قانون سازی کسی عالمی ادارے کے دباؤ میں کی ہے۔ اور اس میں عوام کے حقوق اور زمینی حقائق کو سامنے نہیں رکھا گیا۔

مزید : کالم