گیس کی قلت دور نہیں ہوئی

گیس کی قلت دور نہیں ہوئی

معاصرکی خبر ہے کہ موسمی حالات بہتر ہوئے ہیں اورسوئی ناردرن نے صنعتوں کو مرحلہ وار گیس مہیا کرنے پر غور شروع کردیا ہے، سوئی ناردرن کے اس فیصلے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ صورت حال بہتر ہوگئی اور گیس کی مانگ اورپیداوار میں توازن قائم ہو گا اس سے قبل سی این جی سٹیشنوں کو گیس کی فراہمی شروع کردی گئی ہے اگر چہ اب گیس سٹیشن ہی نہیں ہیں۔یہ خبریں درست ہیں تو پھر سوئی ناردرن گیس کی پالیسی یاحکمت عملی حکومت کے لئے بدنامی کا باعث بنے گی کہ ابھی تک گھریلو صارفین گیس کی قلت اور کم دباؤ کے شکار ہیں ، مختلف شہروں میں مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ لاہور کے تمام علاقوں میں بھی ابھی تک گیس مہیا نہیں ہو رہی اور اکثر علاقوں میں گیس ہے تو دباؤ کم ہے، ایسے میں صنعتوں اور گیس سٹیشنوں کو گیس مہیا کرنے کا فیصلہ قطعی طورپر عوام کے خلاف ہے اوران کا احتجاج بجا ہے، محکمہ کو سب سے پہلے گھریلو صارفین کے مسائل کو حل کرنا چاہئے، کہ پالیسی جو بیان کی گئی تھی اس کے مطابق ایل این جی کی درآمد تک گیس صرف گھریلو صارفین کو ملنا تھی اور ایل این جی کی آمد کے بعد صنعتوں اور گیس سٹیشنوں کو بھی گیس دی جانا تھی۔ ایل این جی کی پہلی شپمنٹ تو مارچ کے پہلے ہفتے میں آئے گی اور پھر اس کی ترسیل کا مسئلہ ہو گا، ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ بعض صنعتوں خصوصاً ٹیکسٹائل کو گیس دی جا رہی ہے اور پیداوار اور مانگ میں زیادہ فرق کی وجہ بھی یہی ہے، حالانکہ محکمہ کی طرف سے باربار کہا گیا کہ گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی۔ بہتر عمل یہ ہو گا کہ اب بھی جس قدر ممکن ہو گھریلو صارفین کی گیس اور دباؤ بحال کیا جائے۔ وزارتِ قدرتی وسائل کو چاہئے کہ وہ گیس کمپنیوں سے تفصیل طلب کرکے عوامی بہبود کے مطابق فیصلہ کرے۔

مزید : اداریہ