حکومت سے مدارس کی رجسٹریشن پر بات چیت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے،علامہ سید نیاز

حکومت سے مدارس کی رجسٹریشن پر بات چیت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے،علامہ سید نیاز

لاہور (نمائندہ خصوصی ) وفاق المدارس الشیعہ پاکستان اوراتحاد تنظیمات مدارس کے مرکزی نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن پر بات چیت مثبت سمت میں بڑھ رہی ہے ۔ صوبے قانونی سازی سے گریز کریں ،مزید تلخی پیدا نہ کریں،متنازع مسائل کو حل ہونے دیں۔کراچی میں گورنر سندھ عشرت العباد سے ملاقات کے بعد لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مدارس کی رجسٹریشن کو مشکل بنانے کے لئے قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ جس پر اتحاد تنظیمات مدارس نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قرآن و حدیث اور تعلیمات اہل بیت علیہم السلام کے مراکزکو دیوار سے لگانے کی کسی بھی سازش کی مزاحمت کریں گے۔ تعلیمات اسلامی سے آگاہی مسلم معاشرے کی ضرورت ہے۔ جس کا انکار پیدائش سے لے مرنے تک کے مراحل میں کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔ سندھ حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کے لئے جو مسودہ قانون تجویز کیا ہے ، اس سے لگتا ہے کہ وہ پہلے سے قائم مدارس ختم کرنا اور نئے مدارس کا قیام روکنا چاہتی ہے، جوکہ ممکن نہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ، جمہوری دور ہے، حکومتیں عوام کے ووٹوں سے تشکیل پاتی ہیں۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت کو اپنے رویے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ مسائل پید انہ ہوں۔ پاکستان میں ہزاروں مدارس دینیہ موجود ہیں، ان کی تحقیقات میں کتنا وقت لگائیں گے ؟ اگر سندھ حکومت رجسڑیشن کے لئے وفاقی حکومت سے ہٹ کر قانون بنانا چاہتی ہے تو اتحاد تنظیمات مدارس کو اعتماد میں لے۔ ورنہ فریقین کو اعتماد میں لئے بغیر کسی بھی قانون سازی کی کوئی اہمیت نہ ہوگی۔ علامہ نیاز نقوی نے کہا کہ سندھ حکومت سخت شرائط نافذ کرے گی تو پرانے مدارس کام کرسکیں گے اور نہ ہی نئے قائم ہوسکیں گے۔ اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لے اور وفاقی حکومت کی قانون سازی کا انتظار کرے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1