لوئر مال پولیس نے پیٹی بھائی کے مخالف کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

لوئر مال پولیس نے پیٹی بھائی کے مخالف کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

لاہور(وقائع نگار) لوئر مال پولیس نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پیٹی بھائی کے مخالف کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ، پولیس کے ظلم و ستم اور اعلیٰ پولیس افسران کی جانب سے دھتکارے جانے کے بعد متاثرہ شخص انصاف کی امید لیے دفتر ’’پاکستان‘‘ پہنچ گیا ۔نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ شخص محمد اشرف اور اس کے محلہ دار رانا شاہد حسین نے بتایا کہ محمد اشرف بڑھئی کا کام کرتا ہے اور بلال گنج فاروق اعظم مسجد گلی نمبر 3مکان نمبر 4کا رہائشی ہے ۔ان کی گلی میں دو سال قبل بشیر نامی شخص کرایہ پر آیا جو کہ اپنے آپ کو ایس پی کا ڈرائیور بتاتا تھا اور علاقہ میں ہر کسی سے لڑائی جھگڑا کرنا اس کا معمول بن گیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز صبح کے وقت محمد اشرف کا11سالہ بیٹا زین علی ،بشیر کے بیٹے کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ دونوں بچوں کے درمیان لڑائی ہو گئی جس پر بشیر اور اس کی اہلیہ نے اپنے ہمسائے محمد اشرف کے گھر میں گھس کر اس کی بیوی تہمینہ بی بی کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔بعد ازاں اطلاع ملنے پر اشرف بھی موقع پر پہنچا تو انہوں نے اس پر بھی مکوں اور لاتو ں کی بارش کر دی ۔اہل علاقہ نے انہیں علیحدہ کیا ۔بعد ازاں بشیر نے 15پر کال کر کے پولیس کو بلا لیا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں لوئر مال تھانہ کی حوالات میں بند کروا دیا ۔انہوں نے بتایا کہ صبح 11بجے سے لیکر رات 9بجے تک محمد اشرف کو تھا نہ میں رکھا گیا اور پولیس اہلکار گاہے بگاہے اس پر تشدد کرتے رہے اور اس کو بشیر سے معافی مانگنے کا کہتے رہے جبکہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے بعد ازاں رات کو 9بجے اس کو تھانہ سے یہ کہہ کر رہا کر دیا گیا کہ اگر اس نے صبح تک بشیر سے معافی نہ مانگی تو اس کے خلاف مختلف مقدمات درج کر دیئے جائیں گے اور وہ کئی سال تک جیل کی ہوا کھائے گا۔متاثرہ شخص نے موقف اختیار کیا کہ جب کہ وہ تھانہ میں تھا اس کی اہلیہ اور دیگر رشتہ دار پولیس اہلکاروں کی جانب سے اشرف کو بے جا حراست میں رکھ کر تشدد کرنے کے حوالے سے سی سی پی او اور ایس پی سٹی کے دفاتر میں بھی درخواست لیکر گئے لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی ۔متاثرہ شخص نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ معاملہ کا فوری نوٹس لیا جائے ورنہ لوئر مال پولیس کے اہلکار اس پر جھوٹے مقدمات بنا کر اس کی زندگی اجیرن کر دیں گے ۔اس حوالے سے لوئر مال تھانہ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ جھگڑے کا کیس تھا دونوں پارٹیوں کوآج تفتیش کے لیے بلایا گیا ہے ۔

مزید : علاقائی