پنجاب اسمبلی، سپیکر کو قائد حزب اختلاف کی تعیناتی اور برطرفی کے اختیارات مشروط طور پر تفویض

پنجاب اسمبلی، سپیکر کو قائد حزب اختلاف کی تعیناتی اور برطرفی کے اختیارات ...

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی 1997ء میں ترامیم منظور کر لی گئی جس کے تحت پارلیمانی سال کے آغاز سے قبل ہی اجلاسوں کا کیلنڈر جاری کیا جائے گا اور اسی کے مطابق اجلاس منعقد ہوں گے جبکہ اجلاس کے آخر میں ’’ زیرو آور ‘‘ کے نام سے ایک مخصوص نشست ہو گی جس میں کسی اہم عوامی مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے گا۔ ان رولز میں ترامیم کے بعد اب تمام اراکین اسمبلی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اجلاس میں ایک روز میں ایک سے زائد تحریک التوائے پیش نہیں کر سکیں گے یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ اسمبلی رولز میں ترامیم کے دوران اپوزیشن غیر اعلانیہ واک آؤٹ کر گئی ایوان میں ترمیمی مسودہ قانون کینال اینڈ ڈرینج 2015 اور مسودہ قانون اوکاڑہ یونیورسٹی 2015کی منظوری دی گئی جبکہ مسودہ قانون ( ترمیم ) قیام امن عامہ اور مسودہ قانون ( تیسری ترمیم ) مقامی حکومت ایوان میں پیش کئے گئے تاہم قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید کووزیر اعظم کے نیب سے متعلق دئیے گئے بیان کو واپس لینے کے مطالبے پرمبنی قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ مل سکی ۔ تفصیلات کے مطابق اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی اپنے مقررہ وقت صبح دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ اور 12منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خاں کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں سرکاری کارروائی کے دوران صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے قواعد انضباط کار صوبائی اسمبلی پنجاب 1997میں میں ترامیم ایوان میں پیش کیں ان نئے رولز کے مطابق قائد حزب اختلاف کوتعینات اور اس کی برطرفی کے اختیارات مشروط طور پر سپیکر کو دئیے گئے اپوزیشن کے اکثریتی اراکین اگر قائد حزب اختلاف کے خلاف تحریری طور پر لکھ کر د ے دیتے ہیں تو سپیکر کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کو برطرف کر دے اور اپوزیشن کی اکثریت کاحمایت یافتہ نیا قائد حزب اختلاف تعینات کر دے رولز میں اس بات کی بھی منظوری دی گئی کہ ہر پارلیمانی سال کے آغاز پر حکومت سپیکر کو اسمبلی کے اجلاسوں کا کیلنڈر فراہم کر یگی اور اس کیلنڈر کے مطابق ہی دی گئی تاریخوں کے مطابق اجلاس بلائے جائیں گے تاہم گورنر کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کیلنڈر پر دی گئی تاریخ کے علاوہ بھی کسی وقت اجلاس بلا سکے گا سیکرٹری اسمبلی تمام اراکین میں یہ کیلنڈر تقسیم کر یگا ہر سال اسمبلی کے کم از کم تین اجلاس ہوں گے اور اسمبلی کے ایک اجلاس کی آخری نشست اور اگلے اجلاس کی پہلی نشست کے لئے مقرر کی گئی تاریخ کے درمیان ایک سو بیس یوم سے زائد کا وقفہ نہ ہوگا اسمبلی ہر پارلیمانی سال میں کم از کم ایک سو ایام کار میں اجلاس منعقد کر یگی اور کوئی رکن کسی نشست کے دوران ایک سے زائد تحریک التوائے کار پیش نہیں کرے گا لیکن اس شرظ کا پہلی نشست میں پیش کردہ کسی ایسی تحریک پر اطلاق نہ ہوگا جو متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کی درخواست پر جواب دینے کے لئے زیر التواء رکھی گئی ہو نئے رولز میں ’’ زیرو آور ‘‘ کا بھی اضافہ کیا گیا جس کا مطلب کہ پنجاب اسمبلی کے آخری آدھے گھنٹے کو حکومت سے متعلق اور اسمبلی کی مداخلت کے متقاضی عوامی اہمیت کے فوری نوعیت کے معاملات نمٹانے کی غرض سے ’’ زیرو آور کے لئے طور پر استعمال کیا جائے گا ایگر دو زاید زائد اراکین کی جانب سے زیرو آورز کے لئے دو یا زائد نوٹس وصول ہوتے ہیں تو سپیکر ایسی ترتیب کا فیصلہ کرے گا جس میں ایسے نوٹسز کو زیر بحث لایا جائے گا زیرو آور کے لئے مذکور شرط کو پورا نہ کرنے کی صورت میں سپیکر مذکورہ نوٹس کو نا قابل قبول قرار دینے سے پہلے رکن کو ذاتی شنوائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے معاملے کو پیش کرتے ہوئے رکن پانچ منٹ سے زائد بات نہیں کرے گا۔صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثنا اللہ خان نے ایوان میں بتایا کہ اسمبلی رولز میں مجموعی طو رپر 24ترامیم کی گئی ہیں جن میں 19مکمل جبکہ پانچ جزوی طور پر ہیں جو ترامیم باقی رہ گئی ہیں ان پر متعلقہ کمیٹی غور وخوض کر رہی ہے اس دوران قائد حزب اختلاف نے مطالبہ کیا کہ قائمہ کمیٹیوں کو با اختیار بنانے کے لئے سو موٹو ایکشن لینے کا اختیار دیا جائے اس سے نہ صرف حکومت بلکہ ایوان کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا جس پر رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ سو موٹو اختیار کا تجربہ قومی اسمبلی میں کیا جا چکا ہے اس لئے جو طریقہ پہلے سے موجود ہے وہی ٹھیک ہے اور قائمہ کمیٹیوں کوا پنے اجلاس بلانے کے لئے ایوان سے اجازت لینا ضرور ی ہے رولز کی منظوری کے دوران اپوزیشن خاموشی سے غیر اعلانیہ واک آؤٹ کر گئی -اجلاس میں وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے مسودہ قانون ( ترمیم ) کینال اینڈ ڈرینج 2015اور مسودہ قانون اوکاڑہ یونیورسٹی 2015ایوان میں پیش کئے جنہیں اپوزیشن کی عدم موجودگی میں منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن کی ایوان میں عدم موجودگی کے باعث ان کی تینوں ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ وزیر قانون نے مسودہ قانون ( ترمیم ) قیام امن عامہ پنجاب 2015اور مسودہ قانون ( تیسری ترمیم ) مقامی حکومت پنجاب 2015پیش کئے جنہیں سپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کی ۔ اس سے قبل وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیر بہبود آباد ی بیگم ذکیہ شاہنواز نے حکومتی رکن میاں طاہر کے سوال کے جواب میں کہا کہ تین سال قبل محکمے کو کوئی فنڈز نہیں ملتے تھے بلکہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہو تی تھی لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے ۔ فنڈز مل رہے اور مسنگ سہولیات کو مکمل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس کل 117ایمبولینسز ہیں جو پہلے خراب تھیں لیکن اب انہیں مرمت کر کے آپریشنل کیا جارہا ہے ۔ چھ موبائل سروس یونٹ تھے جو آپریشنل نہیں تھے انہیں بھی فنڈز کی دستیابی کے بعد آپریشنل کردیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر وسیم اختر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے بیت المال الیاس انصاری نے کہا کہ اس وقت بیت المال پنجاب کے سماجی بہبود و بیت المال پنجاب کے تحت 7516این جی اوز رجسٹرڈ ہیں جن کا باقاعدہ آڈٹ کرایا جاتا ہے ۔ اگر کسی رکن کو کسی این جی او پر اعتراض ہے تو اس کی نشاندہی کرے اس کا دوبارہ بھی آڈٹ کیا جا سکتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ طارق محمود باجوہ کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلع ننکانہ میں بہبود آبادی کے 21فلاحی مرکز ہیں ان مراکز میں عوام کے لئے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہی پروگرام کی سر گرمیاں کی جا تی ہیں۔ قبل ازیں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے وزیر اعظم نواز شریف کے نیب سے متعلق بیان کے حوالے سے کہا کہ میں نے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد جمع کرو ادی ہے اسے آؤٹ آف ٹرن پیش کرنے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے ناسور نے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور وزیر اعظم کرپشن کرنے والوں کی ہی حمایت کر رہے ہیں و زیر اعظم کی جانب سے نیب کے خلاف ا س طرح کا بیان اس ادارے کی کارروائیاں روکنے کے مترادف ہے ان کے اس بیان پر دنیا بھر میں پاکسان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے وزیر اعظم کے اس بیان سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ نہیں ہے اور خود بھی کرپشن میں ملوث ہے اسی لئے ہی حکومت کے اپنے ہاتھ نیب کے خلاف بڑھ رہے ہیں۔ اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا ۔

مزید : صفحہ اول