گرفتا دو افغان بھائیوں کامقدمہ ملٹری کورٹ بھجوانے کی سفارشات پرعملدرآمد روک دیا گیا

گرفتا دو افغان بھائیوں کامقدمہ ملٹری کورٹ بھجوانے کی سفارشات پرعملدرآمد ...

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل اور جسٹس مسزارشاد قیصرپرمشتمل دورکنی بنچ نے کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ڈی ایس پی کی جانب سے بھتہ خوری کے الزام میں گرفتا دو افغان بھائیوں کامقدمہ ملٹری کورٹ بھجوانے کی سفارشات پرعملدرآمد روک دیں اورصوبائی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ وہ اس حوالے سے واضح کریں کہ ملٹری کورٹ کو مقدمات بھجوانے کااختیار کس کو ہے اوراس کے لئے کیاطریقہ کاراختیارکیاجاتاہے فاضل بنچ نے حزب اللہ اورمحب اللہ کی جانب سے جمیل ورسک ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی تو عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذاروں پرالزام ہے کہ انہوں نے فقیرآباد کے رہائشی محمد بشیر سے10لاکھ روپے بھتہ طلب کیاتھاسی ٹی ڈی نے ٹیلی فون ڈیٹاکے ذریعے ملزموں کو گرفتارکیااوراس حوالے سے 7جولائی2015ء کو زیردفعات506-7(H)ATAکے تحت مقدمہ درج کیاگیاانسداددہشت گردی اوربعدازاں پشاورہائی کورٹ بھی درخواست گذاروں کی درخواست ضمانت خارج کرچکی ہے جبکہ عدالت عالیہ نے ٹرائل کورٹ کو تین ماہ کے اندرمقدمے کی سماعت مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تین ماہ کی مدت مکمل ہونے پر خصوصی عدالت میں درخواست ضمانت دائرکی گئی تو انہیں بتایاگیاکہ سی ٹی ڈی حکام نے اعلی حکام کو 28 اگست2015ء کو ا یک خط ارسال کیاہے جس میں مذکورہ مقدمے کو ملٹری کورٹ بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے پاس اس حوالے سے سفارشات بھجوانے کااختیار نہیں اوریہ حکومت کاکام ہے کہ وہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد کونسا کیس ملٹری کورٹ کو بھجواتی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملٹری کورٹ کیس بھجوانے کے لئے تین مختلف قوانین ہیں جن میں ایڈان سول پاؤرریگولیشن 2011 ٗ پاکستان پروٹیکشن ایکٹ اور21ویں ترمیم کے زمرے میں آتے ہوں حالانکہ مذکورہ مقدمے کی سماعت کااختیار صرف انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کو حاصل ہے لہذامذکورہ سفارشات غیرآئینی اورغیرقانونی ہیں جس پر فاضل بنچ نے عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عمرفاروق آدم کو مخاطب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے اپناجواب داخل کریں کہ ملٹری کورٹ مقدمات بھجوانے سے متعلق کیاطریقہ کاراختیارکیاجاتاہے اوریہ کس کے دائرہ اختیارمیں آتاہے عدالت نے مذکورہ سفارشات معطل کرتے ہوئے 24 فروری تک صوبائی حکومت کو جواب پیش کرنے کاحکم دے دیا۔

مزید : پشاورصفحہ اول