دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سعودی افواج کو تربیت دی جارہی ہے،سرتاج عزیز

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سعودی افواج کو تربیت دی جارہی ہے،سرتاج عزیز

اسلام آباد (آئی این پی)وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ34ممالک کے اتحاد میں دہشت گردی کے خلاف فوجی کوششوں کو مربوط بنانااور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہے،34 رکنی اتحاد کے وزرائے خارجہ اور دفاع کا اجلاس فروری میں ہونا تھا، جو ابھی نہیں ہو سکا،تجربے کی بنیاد پر ہماری افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سعودی افواج کو تربیت فراہم کر رہی ہے،سعودی عرب میں پاکستانی افواج کے 1000سے زائد فوجی سعودی افواج کو تربیت دے رہے ہیں۔وہ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جوابات دے رہے تھے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب سے 1982ء سے فوجی تعاون کا معاہدہ ہے، سعودی افواج کی تربیت کیلئے ایک ہزار سے بارہ سو پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہوتے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے پی آئی اے کی نجکاری بارے اپوزیشن تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان پی آئی اے بارے منظور کئے گئے بل کو پڑھے بغیر اس پر تنقید کر رہے ہیں، بل میں پی آئی اے کی نجکاری کا کوئی ذکر نہیں، صرف اسے کارپوریشن سے لمیٹڈ کمپنی بنانے اور اسے ابتری اور خسارے سے نکالنے کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے، وزیراعظم اور وزیر خزانہ یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ ادارے کے ملازمین کی نوکریوں اور دیگر مراعات کو تحفظ حاصل رہے گا، لازمی سروس ایکٹ بے نظیر کے دونوں ادوار اور گیلانی کے دور اقتدار 2010ء میں بھی نافذ رہا، پیپلز پارٹی کے سابق پانچ سالہ اقتدار میں پی آئی اے میں 3654 نئی بھرتیاں کی گئیں، ہمارے اڑھائی سالوں میں صرف 693 نئے ملازم بھرتی کئے گئے جبکہ اڑھائی سالوں میں ادارے سے 2969 ملازم ریٹائر بھی ہوئے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی کمی نہ کرنے، پی آئی اے کی نجکاری اور 101 ارب کے نئے گیس ٹیکس کے نفاذ پر حکومت کو شدید نکتہ جینی کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 سے 25 روپے کمی کی جائے، پی آئی اے کی نجکاری کی بجائے اس کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں، پی آئی اے ہڑتال میں شرکت کرنے والے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں، ایم کیو ایم نے مولوی عبدالعزیز کے ساتھ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا جبکہ اے این پی کے غلام احمد بلور نے پشتونوں کے بلاک شناختی کارڈز بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ افغانوں کے شناختی کارڈز بن گئے ہیں تو انہیں بھی بحال کر دیا جائے کیونکہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان تباہ ہو گیا۔ اپوزیشن کی تحریک پر بحث میں پی پی پی کی شازیہ مری ،قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب خان شیرپاؤ، اے این پی کے غلام احمد بلور، مسلم لیگ (ن) کے اویس لغاری اور ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے حصہ لیا۔شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں تیل کی قیمت 140 ڈالر تک گئی مگر اب 25 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، مگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ (ن) لیگ کے سردار اویس خان لغاری نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ سٹیل کی نجکاری نہ روکتی تو حکومت اس خسارے سے بچ جاتی، اس وقت اب تک قومی خزانے سے 85ارب روپے مزید کھا چکی ہے ۔ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، بے روزگاری کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے،حکومت نے لوڈشیڈنگ کو 2سال میں ختم کرنے کا وعدہ کیا، اب 2018ء میں ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، کے پی میں ضرورت سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے مگر 12گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، کے پی میں دوسرے صوبوں کی نسبت کم لوڈشیڈنگ کی جانی چاہیے ۔ آفتاب خان شیرپاؤ نے کہا کہ خورشید شاہ نے تین دن مسلسل تقریر کر کے بطور اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار کی طویل تقریر کاریکارڈ توڑ دیا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام کو منتقل نہ ہونا افسوسناک ہے۔ پی ٹی آئی کے غلام سرور نے کہا کہ پی پی پی اور (ق) لگ کے دور میں نجکاری کو جاری رکھا گیا مگر اس پالیسی میں تیزی ہمیشہ (ن) لیگ کے دور میں آئی، اس کے باوجود ملکی اور غیر ملکی قرضے بڑھے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے آصف حسنین نے کہا کہ نجکاری کے نام پر تعلیمی ادارے تک فروخت کئے گئے، ملکی قرضوں کے ذمہ دار بینکوں سے قرضے لے کر معاف کروانے والے ہیں، ماضی میں نجکاری کی تاریخ کی وجہ سے پی آئی اے کی نجکاری کی مخالفت کر رہے ہیں، نیب کو دھمکیاں اور کرپشن کیسز بند کرنے کی بات شرمناک ہے، نیب اور ایف آئی اے کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت دی جائے ۔شیر اکبر خان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت 45روپے اور اس پر ٹیکس 38روپے ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت پٹرول سے کم کی جائیں، حکومت پی آئی اے کی نجکاری کی بجائے اس کے معاملات درست کر کے اسے منافع بخش بنائے

سرتاج عزیز

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر