قومی اسمبلی کا اجلاس، قومی تحفظ و باکفایت توانائی بل 2015ءپر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش، اپوزیشن کی شدید مخالفت

قومی اسمبلی کا اجلاس، قومی تحفظ و باکفایت توانائی بل 2015ءپر قائمہ کمیٹی کی ...
قومی اسمبلی کا اجلاس، قومی تحفظ و باکفایت توانائی بل 2015ءپر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش، اپوزیشن کی شدید مخالفت

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی تحفظ و باکفایت توانائی بل 2015ءسے متعلق قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ۔ اپوزیشن کی جانب سے بل کی مخالفت کے بعد اس کی منظوری کو موخر کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی تحفظ و باکفایت توانائی بل 2015ءسے متعلق رپورٹ پیش کی گئی تاہم اپوزیشن نے اس کی مخالفت کر دی۔ بل کے متن میں کہا گیا کہ بل کا مقصد بجلی کی کفایت کے ادارے انرکون کو مزید فعال کرنا ہے جس پر رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا افضل نے کہا کہ کیا ضرورت ہے بورڈ بنانے کی، پہلے والے بورڈزنے کیا کیا ، کسے نوازنے کیلئے یہ بل لایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی رہنماءشیریں مزاری نے کہا کہ ہمارے تحفظات ہیں، اس بل کو منظور نہیں کر سکتے۔ رکن قومی اسمبلی ایس اقبال قادری نے کہا کہ پہلے اس بل کو سی سی آئی میں جانا چاہئے کیونکہ صوبوں سے مشاورت بھی ضروری ہے۔

اپوزیشن کی شدید مخالفت کے بعد وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا کہ وہ عابد شیر علی سے بل پر مشاورت کیلئے اپوزیشن سے مزید مشاورت کرنے کا کہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انرکون پہلے سے موجود ہے اسے فعال کرنے کا بل ہے۔ سی سی آئی نے اپریل 2014ءمیں اس کو منظور کیا جس کے بعد وزیراعظم نے بھی بل کی منظوری دیدی اور قائمہ کمیٹی میں بھی اس بل کو اگست 2015 میں منظور کر چکی ہے ۔ جنوری 2016ءمیں بل قومی اسمبلی میں لایا گیا جسے موخر کر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کے پیچھے کوئی غلط نیت نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی ہے کیونکہ ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے پر سات سے آٹھ لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے اور ادارے کو فعال کرنے سے بجلی کی بچت سے دو سے ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی بچ سکتی ہے جبکہ اس سے بجلی کے نرخ کم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید : قومی /اہم خبریں