سعودی عرب نے ہمسایہ ملک میں ایک ایسا ہتھیار چلادیا کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپاہوگیا، سعودی عرب اور امریکہ دونوں بڑی مشکل میں پھنس گئے

سعودی عرب نے ہمسایہ ملک میں ایک ایسا ہتھیار چلادیا کہ دنیا بھر میں ہنگامہ ...
سعودی عرب نے ہمسایہ ملک میں ایک ایسا ہتھیار چلادیا کہ دنیا بھر میں ہنگامہ برپاہوگیا، سعودی عرب اور امریکہ دونوں بڑی مشکل میں پھنس گئے

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) یمن میں سعودی اتحاد کی عسکری کارروائی پہلے بھی ہدف تنقید رہی ہے لیکن اب انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اس جنگ کے حوالے سے سعودی عرب پر سنگین ترین الزامات عائد کردئیے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے اتوار کے روز ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی گئی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ سعودی عرب یمن میں کلسٹر بم استعمال کررہا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے یمن میں لی گئی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں جن میں ایسے کلسٹر بم دکھائے گئے ہیں جو پھٹنے میں ناکام رہے اور اب ایک مستقل خطرے کی صورت میں شہری علاقوں میں موجود ہیں۔ الزامات میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں امریکا کے دئیے ہوئے کلسٹر بم استعمال کررہے ہیں، اور اسی بناءپر سعودی عرب کے ساتھ امریکا کو بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے ۔

مزید جانئے: امریکہ طے کر ے وہ ہمارے ساتھ ہے یا کر ددہشتگردوں کے :ترک صدر طیب اردگا ن

کلسٹر بم درحقیقت بموں کی بڑی تعداد کا مجموعہ ہوتے ہیں اور یہ وسیع علاقے میں پھیل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت کا خدشہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ بم فوری طور پر نہیں پھٹ سکتے اور بعد میں ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں۔ سال 2008ءمیں ایک عالمی معاہدے کے تحت کلسٹر بموں کا استعمال ممنوع قرار دیا جاچکا ہے اور میدان جنگ میں ان کا استعمال جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ جان کربی کا کہنا تھا کہ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ یمن کی جنگ میں کلسٹر بموں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اطلاعات کی تحقیق کی جائے گی۔ دوسری جانب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سعودی حکام نے الزامات کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سعودی افسران کی طرف سے کبھی بھی کلسٹر بموں کے استعمال کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی