روسی صدر ولادی میر پیوٹن دراصل کون ہیں؟ بچپن کس حال میں گزارہ اور پھر صدر کیسے بن گئے؟ جانئے زندگی کے وہ خفیہ اور حیران کن پہلو جو بیشتر لوگوں کو معلوم نہیں

روسی صدر ولادی میر پیوٹن دراصل کون ہیں؟ بچپن کس حال میں گزارہ اور پھر صدر ...
روسی صدر ولادی میر پیوٹن دراصل کون ہیں؟ بچپن کس حال میں گزارہ اور پھر صدر کیسے بن گئے؟ جانئے زندگی کے وہ خفیہ اور حیران کن پہلو جو بیشتر لوگوں کو معلوم نہیں

  

ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا شمار جہاں دنیا کے طاقتور ترین رہنماﺅں میں ہوتا ہے وہیں انہیں ایک انتہائی پراسرار شخصیت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مشہور کتاب ”دی کولڈر وار“ کے مصنف مارن کاٹوسا کہتے ہیں کہ اگرچہ ولادی میر پیوٹن کسی بلا کا نام نہیں ہے لیکن وہ ایک انتہائی خطرناک شخص ہیں اور شاید کسی بلا سے کم بھی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ولادی میر پیوٹن عام سیاست دانوں کی طرح ہرگز نہیں ہیں، وہ انتہائی مختلف قسم کے شخص ہیں اور روس کو ماضی کے سوویت یونین جیسی سپر پاور بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔

مزید جانئے: دنیا کی طاقتور ترین شخصیت اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی آئندہ ماہ پاکستان آمد متوقع

جریدے ”دی فسیکل ٹائم“ کے مطابق ولادی میر پیوٹن 1952ءمیں سینٹ پیٹرز برگ میں پیدا ہوئے، جسے اس وقت لینن گراڈ کہا جاتا تھا۔ ان کی والدہ ماریہ ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں جبکہ والد ولادی میر جنگ عظیم دوئم میں معذور ہونے کے بعد محکمہ ریل میں مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ لینن گارڈ کے محاصرے میں ان کی والدہ مرتے مرتے بچیںاور اس حادثے کے بعد یہ خاندان اس جگہ کو چھوڑ کر ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں پناہ لینے پر مجبورہوگیا۔ نئی جگہ پر پیوٹن کا سارا کنبہ ایک ہی کمرے میں مقیم تھا، اور یہاں ان کا بچپن تنگ و تاریک گلیوں میں چوہوں کا تعاقب کرتے گزرا۔ وہ جس عمارت میں مقیم تھے اس میںصاف پانی ، غسل خانے اور حتیٰ کہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی دستیاب نہ تھی۔

پیوٹن اپنے دادا سپیری دون ایوانووچ پیوٹن سے بہت متاثر تھے، جو سوویت روس کے عظیم ترین قائدین لینن اور سٹالن کے پاس ماہر باورچی کے طور پر کام کرتے رہے۔ پیوٹن بچپن سے ہی لڑائی جھگڑے کی طرف مائل رہے اور لڑکپن میں ہی انہیں دنگافساد کے جرم میں بچوں کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ 12 سال کی عمر میں انہوں نے باکسنگ اور جوڈوکراٹے کی تربیت حاصل کرنا شروع کردی اور پھر مارشل آرٹ ان کی زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔ اگرچہ ان کا قد صرف 5فٹ 7انچ ہے لیکن مارشل آرٹ کی ایسی مہارت رکھتے ہیں کہ اپنے سے کئی گنا بڑی جسامت کے شخص کو بھی زیر کر لیتے ہیں۔

انہوں نے 1970ءمیں لینن گراڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پانچ سال بعد قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 22 سال کی عمر میں وہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی میں بھرتی ہوئے اور اگلے 16سال تک اس ایجنسی میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ کے جی بی میں اپنے عہدے کو ”ہیومن ریلیشنز سپیشلسٹ“ کا نام دیتے تھے لیکن درحقیقت وہ کیا کرتے تھے یہ کسی کو معلوم نہیں۔

مزید پڑھیں: ڈیڑھ سال میں جوہری بم بنا نے کی اہلیت رکھتے ہیں:جنوبی کوریائی سائنسدان

پیوٹن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، پر تشدد حالات سے بالکل نہیں گھبراتے، اور بد ترین حالات میں بھی اپنے حواس پر قابو رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے فن میں بھی مہارت رکھتے ہے۔ انہیں خصوصیات کی بنا پر وہ روسی خفیہ ایجنسی میں تیزی سے ترقی پاتے گئے۔ انہیں جاسوسی کے لئے جرمنی بھی بھیجا گیا، جہاں پانچ سال تک جاسوسی کرنے کے بعد وہ 1989ءمیں روس واپس آئے اور ایک دفعہ پھر علمی شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز میں یہ تجویز دی کہ روس کو معاشی کامیابی کے لئے اپنے توانائی ذرائع کو بروئے کار لانا ہوگا۔

یونیورسٹی سے فراغت کے بعد انہوں نے سیاست کا رخ کیا اور اس میدان میں بھی حیران کن کامیابی حاصل کی۔ 1999ءمیں صدر بورس ییلسن نے ولادی میر پیوٹن کو وزیراعظم منتخب کیا۔ اس کے بعد وہ دو دفعہ صدر منتخب ہوئے جبکہ ایک دفعہ وزیراعظم کے طور پر فرائض سرانجام دئیے، اور اس کے بعد تیسری بار صدر منتخب ہوگئے۔ وہ اس خیال کا پہلے ہی اظہار کرچکے ہیں کہ وہ چوتھی دفعہ بھی صدر بننا پسند کریں گے۔

پیوٹن نے 1983ءمیں سابقہ ائیرہوسٹس لڈ میلا سے شادی کی، لیکن 2014ءمیں ان کے درمیان علیحدگی ہوگئی۔ ان کی دو بیٹیاں، ماریہ اور کترینہ، ہیں جنہیں دنیا کی نظروں سے تقریباً خفیہ رکھا گیا ہے، اور میڈیا میں بھی کبھی کبھار ہی ان کا ذکر ملتا ہے۔

مصنف مارن کاٹوسا کہتے ہیں کہ ولادی میر پیوٹن کبھی بھی جذباتی فیصلہ نہیں کرتے، ہمیشہ فوجی انداز میں سوچتے ہیں اور ٹھنڈے دماغ کے ساتھ غیر جذباتی فیصلہ کرتے ہیں۔ انہیں جاننے والے کہتے ہیں کہ ان سے دور رہنا اور انہیں کبھی نا چھیڑنا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

مزید : بین الاقوامی