عدالتی فیصلے کے سیاسی اثرات

عدالتی فیصلے کے سیاسی اثرات
عدالتی فیصلے کے سیاسی اثرات

  



سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر کرپشن کا براہ راست الزام تو نہیں تھا،لیکن انہیں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی سزا ضرور ملی۔ توہین عدالت کا جرم ثابت ہوا، نااہلِ قرار پائے اور انہیں وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔کرپشن کے الزامات آصف علی زرداری پر تھے، معاملہ سوئس حکام کو خط لکھنے کا تھا۔ عدالتی احکامات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہے اور اس طرح وزارتِ عظمیٰ سے نکال دیئے گئے۔ عدالتی احکامات کی تعمیل اور بجا آوری تمام مہذب اقوام اور معاشروں کا شعار ہے۔قانون کی بالادستی اور حق و انصاف کی سربلندی کے لئے تمام عدالتی احکامات کی تعمیل بے حد ضروری ہوتی ہے۔سابق وزیراعظم کے معاملے میں قانون کی بالادستی کے ذریعے مستقبل کے لئے ایک اچھی مثال قائم ہوئی۔ وزیراعظم نواز شریف اِن دِنوں پانامہ سکینڈل کی زد میں ہیں۔ عدالت عظمیٰ میں پانامہ کیس کے سلسلے میں وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے خلاف سماعت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کے مخالفین اُن کی نااہلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بنیاد تو کرپشن کو بنایا گیا ہے، لیکن وزیراعظم کے مخالفین اُن کی نااہلی سے سیاسی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔شاید انہیں یقین ہو چکا ہے کہ نواز شریف کی موجودگی میں اُن کے وزیراعظم بننے کا کوئی چانس نہیں۔ اُن کی نااہلی میں اُنہیں امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔ مخالفین کا خیال ہے کہ نااہلی کی وجہ سے وزیراعظم راستے سے ہٹ جائیں گے اوراُن کے لئے وزارتِ عظمیٰ کے حصول کی منزل مزید قریب ہو جائے گی۔ وزیراعظم کے مخالفین کا خیال یہ بھی ہے کہ اگر عدالتی فیصلہ وزیراعظم یا اُن کے خاندان کے خلاف آ جائے تو وزیراعظم کو سیاسی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔عوام اُن کے خلاف ہو جائیں گے اور اُن کی مقبولیت میں کمی واقع ہو گی جس کا فائدہ نواز شریف کے مخالفین کو پہنچے گا۔

وزیراعظم کے خلاف پانامہ کیس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کرے گی،یہ فیصلہ یقیناًمیرٹ پر ہو گا اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لئے کیس کے تمام فریقوں کو یہ فیصلہ قبول کرنا پڑے گا۔ میڈیا پر ممکنہ عدالتی فیصلوں کے بارے میں کافی عرصے سے بحث مباحثہ ہو رہا ہے۔اصولی طور پر کیس کے فریقین اور میڈیا کو عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو رہا ۔ کیس کے دونوں فریق عدالت میں ہونے والی سماعت کی من مانی تشریح کرتے ہیں۔ میڈیا بھی پیچھے نہیں۔ دو تین وکلاء اِس ضمن میں پیش پیش ہیں۔ چند اینکرز بھی ممکنہ عدالتی فیصلے کے بارے میں اِن وکلاء سے بظاہر تو رائے طلب کرتے ہیں،لیکن بات کافی دور تک نکل جاتی ہے اور برملا کہا جاتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کو کیا فیصلہ کرنا چاہئے۔ بات مفروضوں پر ہوتی ہے۔ ویسے تو مفروضوں پر بات نہیں ہونی چاہئے، لیکن مفروضوں پر بحث اس تواتر سے جاری ہے کہ ہم اِس عمل کے عادی سے ہوتے جا رہے ہیں۔وزیراعظم اِس کیس میں سرخرو بھی ہو سکتے ہیں،لیکن اُن کی نااہلی کے مفروضے سے فرار ممکن نہیں۔ وزیراعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات کے باوجود عوام انہیں تین بار وزیراعظم منتخب کر چکے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وزیر داخلہ نواز شریف کے ووٹر یا انہیں کرپٹ نہیں سمجھتے یا کرپشن کے باوجود انہیں وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔سیاست دانوں کی مقبولیت کے بارے میں ایک بین الاقوامی سروے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ سیاست دانوں میں نواز شریف سب سے مقبول سیاست دان ہیں۔ اُن کے مخالفین اس سروے کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے،لیکن تمام غیر جانبدار مبصرین کی یہ رائے ہے کہ نواز شریف کے بارے میں عوام میں ناپسندیدگی کی وہ سطح موجود نہیں جو ایک کرپٹ(اُن کے مخالفین کے بقول) وزیراعظم کے لئے ہونی چاہئے۔ پاکستان کے عوام سیاست دانوں سے صرف محبت کرتے ہیں، اُن کے عیبوں پر اُن کی نظر کم ہی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر اخلاقی کرپشن کے الزامات لگائے گئے، گو کہ اُن کے مخالفین اُن پر مالی کرپشن کے الزامات بھی لگاتے ہیں۔ اُن کی پارٹی کے بعض پُرانے ارکان بھی یہ الزامات لگاتے ہیں، اس کے باوجود عمران خان اب بھی مقبول سیاست دان ہیں۔ عمران خان کے سپورٹر اُن پر لگائے جانے والے الزامات سے کم ہی متاثر ہوتے ہیں،یہی صورت حال نواز شریف کے سپورٹرز کے ساتھ بھی ہے۔ کرپشن کے الزامات کے باوجود عوام تین مرتبہ انہیں وزیراعظم منتخب کر چکے ہیں۔اگر ہم مفروضے پر بات کریں اور فرض کریں کہ عدالت انہیں نااہل قرار دے دیتی ہے تو یہ بات دیکھنے والی ہو گی کہ اُن کے سپورٹر اُن کا ساتھ چھوڑتے ہیں یا نہیں۔ کیا اُن کی مقبولیت کم ہو جائے گی؟ کیا عوام میں اُن کے لئے پسندیدگی کی موجودہ سطح قائم رہے گی؟ اس طرح کے سوالات کا جواب دینا فی الحال ممکن نہیں،لیکن ماضی کے عوامی رجحانات اور ہیرو ورشپ کے نظریے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ نااہلی کی صورت میں وہ عوام کی نظروں سے یک دم گر جائیں گے اور اُن کی مقبولیت بے حد کم ہو جائے گی۔ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کا نواز شریف سے موازنہ ممکن نہیں۔ یہ دونوں لیڈر کبھی عوام کی آنکھوں کا تارا نہیں رہے،حالیہ سروے کے مطابق تو آصف علی زرداری اور علامہ طاہر القادری سب سے ناپسندیدہ سیاست دان ہیں۔ نواز شریف کی صورت حال اِن لیڈروں سے مختلف ہے۔ نواز شریف اس وقت مقبول ترین سیاست دان ہیں۔اگر وزیراعظم نواز شریف نااہل ہو گئے اور اُن کی عوامی مقبولیت میں خاطر خواہ کمی نہ آئی تو دلچسپ صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ کیا نواز شریف سیاسی طور پر غیر فعال ہو جائیں گے یا پہلے سے بھی زیادہ فعال ہوں گے؟ کیا وہ آرام سے گھر بیٹھ جائیں گے یا نااہلی کے باوجود سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے؟ اگر وہ سیاست کریں گے تو پاکستانی سیاست میں اُس کی اہمیت کیا ہو گی؟ اِن سوالوں سے زیادہ اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا نواز شریف یوسف رضا گیلانی بنیں گے یا نہیں؟ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ عدالتی احکامات ماننے سے انکار کر دیں گے،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یوسف رضا گیلانی کی طرح سیاسی طور پر کمزور ہوں گے یا نہیں؟

مزید : کالم