حکومت کے آخری سولہ مہینے

حکومت کے آخری سولہ مہینے
 حکومت کے آخری سولہ مہینے

  


پچھلا سال شروع ہوا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے سال کے شروع میں ہی اعلان کردیا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے۔ ان کے پیش رو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی مدت میں تین سال کی توسیع حاصل کی تھی جبکہ ان کے پیش رو جنرل پرویز مشرف تو تین بار توسیع لے کر آرمی چیف اور صدر پاکستان کے عہدے سے اس وقت تک چمٹے رہے تھے جب تک کہ انہیں زبردستی بے دخل نہیں کیا. گیا۔ انہوں نے مارشل لا لگا کر اقتدارپر ناجائز قبضہ کیا تھا اور بعد میں جب ان کا اقتدار ڈوب رہا تھا تو ادھر ادھر ہاتھ چلاتے ہوئے انہوں نے ایمرجنسی کے نام پر ایک اور مارشل لا بھی لگایا لیکن پھر بھی اقتدارسے بے دخل ہو کر ہی ان کی جان چھوٹی۔ جنرل راحیل شریف اپنے اعلان پر قائم رہے، نہ انہوں نے توسیع مانگی اور نہ ہی وزیر اعظم میاں نواز شریف نے انہیں توسیع دینے میں کوئی دلچسپی ظاہر کی اور ایسا 20 سال بعد ہوا کہ اپنی تین سالہ مدت پوری کرکے آرمی چیف عزت و وقار سے ریٹائر ہوا اور قوم نے بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ جب جنرل راحیل شریف کی ملازمت کا آخری سال چل رہا تھا تو کئی بار یوں ہوا کہ دارالحکومت کی سڑکوں پر پراسرار پوسٹر نمودار ہوئے جن میں آرمی چیف کو کہا جاتا کہ وہ’’ جانے کی باتیں ‘‘نہ کریں ۔ بہر حال جانے والا چلا گیا اور اپنے پیچھے ایک اچھی روایت چھوڑ گیا۔ پاکستان آرمی دنیا کی پروفیشنل ترین فوج ہے اور اس کے سینئیر جرنیلوں میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو آرمی چیف بننے کے اہل ہوتے ہیں اس لئے توسیع کی بات کرنا سرے سے ہی غلط ہے اور صرف خوشامدی لوگ ہی یہ حرکت کرتے ہیں۔ آئین پاکستان میںآرمی چیف اور حکومت کی میعاد مقرر ہے اور اسے کم یا زیادہ نہیں کیا جا سکتا، آرمی چیف کی تین سال اور منتخب حکومت کی پانچ سال۔ جنرل پرویز مشرف کے سیاسی منظر نامہ سے ہٹنے کے بعد دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنے میثاقِ جمہوریت کا پاس رکھتے ہوئے حکومت گرانے کا کھیل نہیں کھیلا جس کی وجہ سے اب آہستہ آہستہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اور ایسا دور آ چکا ہے کہ منتخب حکومتیں اپنا پانچ سالہ دورِ اقتدار مکمل کریں، پچھلی حکومت نے بھی اپنی مدت پوری کی تھی اور موجودہ حکومت بھی کر رہی ہے۔ اس دوران نئی ابھرنے والی سیاسی طاقت پی ٹی آئی اور اس کے قائد عمران خان نے غیر جمہوری طریقہ سے حکومت گرانے کی کئی بار کوشش کی لیکن وہ ہر بار ناکام رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں جمہوریت نے جڑ پکڑ لی ہے۔ طاقت کے تینوں اہم مراکز یعنی پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ اس بات پر متفق ہیں کہ حکومتوں کو گرانے سے ملک کا نقصان ہوتا ہے اس لئے عوام کے دئیے گئے مینڈیٹ کا احترام کرنے میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے۔ ویسے بھی بیدار میڈیا کی وجہ سے پاکستانی قوم کا شعو بلوغت کے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب ایک منتخب حکومت کو گھر بھیجنا ممکن نہیں رہا۔

پاکستان کی 14 ویں قومی اسمبلی کی مدت جون 2018 میں پوری ہو گی، تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف کی موجودہ حکومت کی میعاد ختم ہونے میں اب تقریباً سولہ مہینے ہی رہ گئے ہیں ، گویا دیکھا جائے تو یہ اپنی مدت کے آخری فیز میں داخل ہو چکی ہے۔پاکستان کے سیاسی زمانہِ جاہلیت میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتیں دو دو مرتبہ دو ڈھائی سال میں گھر بھیج دی گئی تھیں لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے اور بیسویں صدی کی سیاست بیسویں صدی کی طرح زمین میں دفن ہو چکی ہے۔ میاں نواز شریف 2018 کا الیکشن جیت کر چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے یا نہیں اس بات کا دارومدار آنے والے سولہ مہینوں میں حکومت کی کارکردگی پر ہے، اگر مہنگائی کی کوئی ایسی لہر نہ اٹھی جو عام آدمی کا جینا مشکل کردے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ نواز ہی اگلا الیکشن جیتے کیونکہ تمام سیاسی، اقتصادی اورسفارتی معاملات پر حکومت کی گرفت مضبوط نظر آتی ہے۔پاکستان کو درپیش دو سب سے بڑے چیلنجز یعنی دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ میں بھی حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں قدرے سیاسی اور معاشی استحکام آ چکا ہے اور اس وجہ سے عوام نے بھی کافی حد تک سکھ کا سانس لیا ہے۔جہاں تک ملکی سیاسی حالات کا تعلق ہے، اس وقت میاں نواز شریف کی حکومت کافی مضبوط ہے کیونکہ اپوزیشن تقسیم در تقسیم کا شکار ہے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی اس قابل نہیں ہیں کہ حکمران جماعت کو کسی قسم کا سیاسی نقصان پہنچا سکیں۔ میاں نواز شریف قسمت کے دھنی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا سیاسی کلہ بہت مضبوط رہا ہے ۔1986 میں جب وہ وزیر اعلی تھے تو جاگیر دارانہ پس منظر رکھنے والے سیاست دانوں نے انہیں ہٹانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو جاتے لیکن اس وقت کے صدرِ پاکستان جنرل ضیاء الحق نے ایک اہم موقعہ پر با آواز بلند کہہ دیا کہ نواز شریف کا کلہ بہت مضبوط ہے اور اسی وجہ سے انہیں ہٹانے کی تمام کوششیں دم توڑ گئیں۔ میاں نواز شریف اپنے مضبوط کلے کی وجہ سے اس کے بعد ایک بار مزید وزیر اعلی اور پھر تین بار وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ میں چلنے والے پانامہ لیکس کیس کی وجہ سے ان پر کافی دباؤ ہے لیکن اپوزیشن پارٹیوں میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ سیاسی طریقہ سے حکومت کو ہٹا سکیں۔اگر میاں نواز شریف کی حکومت ہٹتی ہے تو اس کے محرکات سیاسی نہیں بلکہ غیر سیاسی ہوں گے لیکن ایسا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ غیر سیاسی طریقہ سے اگر حکومت ہٹائی گئی تو اس کے مضمرات بہت تباہ کن ہوں گے۔

44 ماہ قبل جب موجودہ حکومت کا دور شروع ہوا تھا تو ملک میں دہشت گرد آزادانہ دندنا رہے تھے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا لیکن سیاسی و عسکری قیادت نے ضربِ عضب سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کو کاری ضرب لگائی جس کا کریڈٹ بہر حال میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو جاتا ہے۔ اب ہمارے بچے محفوظ رہتے ہوئے اپنے تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں اور ہماری مائیں بہنیں بلا خوف و خطر بازاروں میں شاپنگ کرتی ہیں۔ مجھے اس بات کی قوی امید ہے کہ موجودہ حکومت کے آخری سولہ مہینوں میں باقی رہی سہی دہشت گردی جڑ سے اکھاڑ پھینکی جائے گی اور اگلے الیکشن میں حکومت کے لئے یہ ایک بڑا مثبت پوائنٹ ہو گا ۔ دہشت گردی کے بعد ملک کے دوسرے سب سے بڑے مسئلہ لوڈ شیڈنگ میں بھی قدرے کمی آچکی ہے کیونکہ کئی ہزار میگا واٹ بجلی کا بہر حال قومی گرڈ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ میرے خیال میں 2018 کے الیکشن میں دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف کامیابیاں موجودہ حکومت کا نمایاں الیکشن سلوگن ہوں گے۔ لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی میں ہونے والی کمی کو چونکہ عوام اور میڈیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اس لئے اگر انہیں کوئی یہ نہ بھی بتائے تو بھی انہیں یہ بات خود سے پہلے ہی معلوم ہے۔ جہاں تک حکومت کے معاشی اشاریوں (economic indicators) کا تعلق ہے تو اس کے لئے عالمی اداروں اور تھنک ٹینکس کی رپورٹیں اور عالمی پریس کی خبریں اور رائے سب سے اہم ہیں۔ اس ضمن میں موٹے موٹے نکات کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ 2013 میں جب موجودہ حکومت کیمیعاد شروع ہوئی تو یہ شرح 2.8 فیصد تھی جو ایک سال میں ہی بڑھ کر 4 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد اگلے دو سالوں میں یہ بڑھ کر 4.8 فیصد ہوگئی اور اب دنیا کے اہم ترین اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 2017-18 میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح 5.5 فیصد ہو جائے گی۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پہلی دفعہ 50 ہزار کا ہندسہ عبور کر چکی ہے اور دنیا کا کوئی بھی اقتصادی تجزیہ دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ترین مارکیٹ ہے۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں بھی بتدریج پاکستان کی عالمی ریٹنگ بہتر کر تی جا رہی ہیں۔ سی پیک اور گوادر کے پراجیکٹس کو بھی مدنظر رکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ سولہ ماہ بعد جب حکومت کی مدت پوری ہو گی تو اگلے الیکشن میں اپوزیشن کو آسانی سے ناک آؤٹ کر رہی ہو گی۔

مزید : کالم


loading...