لاہور کے بعد سیہون، پورے ملک کو ہلا دیا، چاروں صوبوں میں دہشت گردی

لاہور کے بعد سیہون، پورے ملک کو ہلا دیا، چاروں صوبوں میں دہشت گردی

تجزیہ، چودھری خادم حسین

لاہور کے بعد سیہون شریف میں ہونے والے خود کش حملے اور مختلف شہروں میں دھماکوں نے مُلک بھر کو ہلا کر رکھ دیا، فوج کے سپہ سالار جو دھیمے مزاج کی شخصیت ہیں، بلا شبہ غصے میں آئے اور اسی طرح وزیراعظم کو حق بات کہنا پڑی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا قوم پُرسکون رہے۔ قوم کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا اور کسی سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ اسی انداز میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے بھی اعلان کیا کہ اب دہشت گردی کے خلاف کاری آپریشن کی ضرورت ہے۔ یوں سیاسی اور عسکری قیادت پھر سے دہشت گردی کے خلاف ایک صفحہ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ قول کے سچے ثابت ہوئے اور وزیراعظم بھی آپریشن کی بات کر چکے، چنانچہ جہاں دہشت گردوں نے پانچ روز کے اندر چاروں صوبوں میں نو سے زیادہ حملے کئے اور ان میں قریباً200پاکستانی شہید اور300سے زائد زخمی ہوئے تھے وہاں اب سیکیورٹی فورسز نے بیک وقت چاروں صوبوں میں اپنی کارروائیوں میں شدت پیدا کی ہے اور ان سطور کے تحریر ہونے تک کی اطلاع کے مطابق 100 سے زیادہ دہشت گرد جہنم واصل ہوئے اور سینکڑوں مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں افغان شہری بھی ہیں اور مدرسوں سے تعلق رکھنے والے حضرات بھی۔ ان سے بہرحال پوچھ گچھ ہو گی اور جو بے گناہ ہیں وہ تو چھوڑ دیئے جائیں گے،لیکن سہولت کاروں کے لئے تو کوئی رعایت نہیں ہے۔

مسلسل دہشت گردی کی و جہ سے ہی یہ اضطراب پیدا ہوا اور اب نہ صرف دفتر خارجہ، بلکہ خود جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی واضح کیا ہے کہ جماعت الاحرار افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان سے احتجاج کر کے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں تو افغانستان میں بھارتی قونصل خانے بھی یہی کام کرا رہے ہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی وفد جلد ہی کابل جا کر صدر اشرف غنی اور افغان حکام سے ون ٹو ون ملاقات کر کے بات بھی کرے گا، جبکہ یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ بھارت نے نہ صرف ایوان صدر افغانستان کی تزئین کی، بلکہ گرانٹ کے طور پر صدارتی خرچ بھی اٹھا رہا ہے۔ یہ بات ایک معتبر صحافی نے تحریر کی ہے اور ہم ان پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ معلومات حاصل کر کے بات کرتے ہیں۔

اس تمام تر صورتِ حال میں اب وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر قیادت حکومت کو بہت کچھ سوچنا ہو گا کہ اب پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے اور تجزیہ کار بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کھلی جنگ ہے کہ دورِ جدید میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ کی حماقت نہیں کی جا سکتی، بھارت کو علم ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں ہمارا ایک سیدھا سادہ سوال ہے وہ یہ کہ کیا افغان حکومت خود مختار ہے؟ اگر تو یہ خود مختار ہے تو پھر ان سے بات اور احتجاج بھی مناسب ہے، ورنہ اس احتجاج کو خانہ پری ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس حکومت کا تمام تر انحصار امریکہ اور اس کی اتحادی افواج پر ہے، اِس لئے ان سے بات کرنے کے ساتھ بہتر ہو گا کہ براہِ راست امریکی انتظامیہ سے بھی بات کی جائے اور حقائق کی بنیاد پر مطالبہ کیا جائے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے، خصوصاً ننگر ہار کے پہاڑوں میں ان کو نشانہ بنایا جائے۔ پاک افغان سرحد بہت طویل ہے اسے محفوظ بنانے میں وقت لگے گا اور اس وقت تک افغان حکومت اور متحدہ نیٹو فورسز کی کارروائی لازم ہے اور اسی سے بہتری بھی آ سکتی ہے۔

ہم نے پہلے بھی گزارش کی تھی اور اب پھر عرض کرتے ہیں کہ اگر امریکہ داعش کا وجود تسلیم کرتا ہے تو ہمیں مان لینے میں کیا حرج ہے؟ اب تو دعویٰ بھی سامنے آ گیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کی طرف سے جنوبی پنجاب کا بھی ذکر کیا گیا اور اب وہاں بھی کارروائی ہوئی ہے۔ اب یہ مسئلہ پھر سے قومی ابتلا بن گیا ہے، اِس لئے پوری قومی قیادت کو ایک ہی صفحہ پر آنا ہو گا اگر یہ نہ ہوا تو قوم آپ سب کو مسترد کر دے گی براہِ کرم رحم فرمائیں۔وزیراعظم سے پھر گزارش ہے کہ برائے مہربانی اب پھر سے سب کو اعتماد میں لیں اور سفارتی سطح کی مہم والی گزارش پر بھی غور کریں۔

دہشت گردی

مزید : تجزیہ


loading...