17ویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

17ویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی
17ویں قسط، شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی

  


ترجمہ : راحیلہ خالد

دیولالی میں ایوب صاحب فارغ اوقات میں اردو ادب پڑھا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ جدید ناول،اخبار میں موجود مضامین اور مختصر کہانیاں بڑے ذوق و شوق سے پڑھتے تھے۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوا اور مجھ میں انگلش کی سوجھ بوجھ پیدا ہوئی تو میں انہیں خوش کرنے کیلئے انیسویں صدی کے فرانسیسی مصنف Guy de Maupassant کی لکھی ہوئی مختصر کہانیوں کے انگریزی ترجمے پڑھنے لگا۔ یہ میرا بیرونی ادب سے پہلا تعارف تھا۔ اور میں مصنف کی کہانی بُننے اور اسے بیان کرنے کی صلاحیت سے بے حد متاثر ہوا۔ انگریزی اور یورپی مصنفین کے کام،جو مجھے برنس اسکول کی لائبریری میں ملتے تھے،ان کو پڑھتے ہوئے میرے اندر بیان کرنے کی بڑی زبردست صلاحیت پیدا ہو رہی تھی۔ 

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی کہانی۔۔۔سولہویں قسط پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ یہ کب کی بات ہے کہ ایوب صاحب کو ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگ گئی لیکن یہ تب ہوا تھا جب آغا جی نور صاحب اور ایوب صاحب کو ایک کاروباری سفر میں ساتھ لے گئے تھے اور وہ گھوڑے سے گِر گئے تھے۔ آغا جی کو روایتی کشمیری پھلوں میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی اور انہوں نے ان پھلوں کی بمبئی میں نقل و حمل کے انتظامات اور اسی سلسلے میں گفت و شنید کے لئے ایک سال میں چند بار کشمیر کے دورے کئے۔

اس چوٹ کے نتیجے میں،ایوب صاحب کو تقریباً ایک سال تک بستر پر رہنا پڑا اور وہ صرف ویل چیئر پر بیٹھ سکتے تھے۔ آرتھوپیڈک علاج میں تب اتنی جدت نہیں تھی جیسا کہ آجکل پائی جاتی ہے اور اس طرح کی چوٹوں کے ٹھیک ہونے کیلئے وقت درکار ہوا کرتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ کیسے آغا جی ایوب صاحب کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور انہیں نم آنکھوں سے دیکھا کرتے تھے۔ ان کی نم آنکھیں ان کے اندر کے درد کی عکاسی کرتی تھیں۔ ان کا وہ بیٹا جو غیر معمولی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال تھا وہ اپنی کرسی سے ہِل تک نہیں سکتا تھا۔ میرے والدین کے ان رشتہ داروں کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو ہم سے دیولالی میں ملنے آتے تھے۔ مجھے ایک انکل یاد ہیں جن کا نام غلام محمد تھا،وہ اردو شاعری سے اچھی طرح واقف تھے وہ اپنا وقت ایوب صاحب کے ساتھ گزارتے اور ا ن کی لکھی ہوئی نظم کی تعریف بھی کرتے تھے۔

میرا ایک ہم جماعت تھا جو بدمعاش تھا۔ وہ مجھ سے دوگنا بڑا تھا اور اسی وجہ سے وہ مجھے اور میرے چند دوستوں کو ڈراتا دھمکاتا تھا۔ اسکول کے راستے میں ایک اونچی جگہ تھی جہاں ہم کھیلا کرتے تھے۔ میرے پاس ایک سائیکل تھا جس پہ میں بعض اوقات اسکول جاتا تھا اور دوسرے اوقات میں،میں ہوا کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتے اسکول کی طرف بھاگتا تھا جیسا کہ کسی کو زمین سے اوپر اٹھا دیا گیا ہو۔ وہ ایک ایسی چیز ہوتی تھی جس میں مجھے بہت لطف آتا تھا۔

اسکول میں جو بدمعاش لڑکا تھا،وہ ایک بیکری والے کا بیٹا تھا۔ اس کے باپ کی بیکری بہت مشہور تھی۔ ایک دن جب میں اسکول سے واپس آ رہا تھا وہ مجھ پر کود پڑا اور مجھے مکّے مارنے شروع کر دئیے۔ میں اکیلا تھا اور میں بغیر کسی جوابی کارروائی کے مار کھاتا رہا۔

کچھ دن بعد،میں نے اور میرے دوستوں نے اسے گھیر لیا اور اس کی اچھی خبر لی۔ یہ قصہ لڑکوں کے درمیان وجۂ گفتگو بن گیا۔ جو اس نے میرے ساتھ کیا تھا وہ صرف میں جانتا تھا لیکن میں نے اور میرے دوستوں نے جو اس کے ساتھ کیا تھا وہ مشہورِ عام ہو گیا تھا۔

اس وقت اس کا باپ گھر سے دور تھا۔ اس لئے ہم جانتے تھے کہ وہ خبر پرنسپل تک نہیں پہنچے گی۔ اسی ہفتے آغا جی نے واپس آنا تھا اور اماں نے مجھے ریلوے اسٹیشن سے لانے کے لئے بھیجا۔ ریلوے اسٹیشن پہ میرا مخالف،وہ بد معاش لڑکا اپنے باپ کا انتظار کر رہا تھا جو اسی ٹرین سے سفر کر رہا تھا۔

جب آغا جی ٹرین سے اترے،وہ بیکری والا بھی نیچے اترا۔ میں آغا جی کے پیچھے خاموشی سے چل رہا تھا،جو چھ فٹ کے چوڑے،بھاری کندھوں والے لمبے تڑنگے مرد تھے جبکہ وہ بد معاش لڑکا اپنے چھوٹے قد کاٹھ کے باپ کے پیچھے گھبرایا ہوا چل رہا تھا۔ اگلی صبح جب اسکول کے راستے میں میرا اس سے ٹاکرا ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ میری نظروں سے جلد سے جلد اوجھل ہونے کی جلدی میں تھا۔ اس نے اپنی رفتار تیز کر دی اور بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ ایسے برتاؤ کر رہا تھا جیسے وہ مجھ سے ڈر رہا تھا۔ میرے دوست جو میرے ساتھ چل رہے تھے انہوں نے اس بد معاش لڑکے میں تبدیلی کو محسوس کیا۔

اس دوپہر،جب ہم گھر واپس جا رہے تھے،میں اور میرے دوست پہاڑی کے دامن میں ایک جگہ چُھپ گئے اور اس کا انتظار کرنے لگے۔ وہ پیچھے کلاس میں ہی رک گیا اور ایسا ظاہر کرنے لگا جیسے اسے وہاں کچھ کام ہے۔ کچھ منٹ انتظار کرنے کے بعد،ہم نے اسے آتے دیکھا۔ جیسے جیسے وہ قریب آ رہا تھا،میری دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔

اگلے ہی لمحے،ہم نے اسے گھیر لیا۔ اور اسے مکے و گھونسے مارے جیسے اس عمر میں بچے اپنے مخالفین کو مارتے ہیں۔ میں ایک فاتح کی طرح گھر واپس لوٹا لیکن میں غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ میں نے آ غا جی کو اماں سے یہ پوچھتے سنا کہ میرے ساتھ کیا مسئلہ تھا۔

’ وہ اتنا خاموش کیوں ہے؟،اس کی خاموشی کو سمجھو اور دیکھو کہ کیا وہ ٹھیک ہے۔‘ میں نے انہیں یہ سب کہتے سنا جب وہ میرے کمرے سے گزر کر اپنے کمرے میں داخل ہوئے جہاں اماں بڑے الجھے ہوئے انداز میں کھوئی ہوئی کوئی چیز ڈھونڈ رہی تھیں۔

جاری ہے۔ میں ہوں دلیپ کمار کی اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : میں ہوں دلیپ کمار


loading...