دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہواکالعدم تنظیمیں پنجاب میں موجود،حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے میں ناکام رہی :عمران خان

دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہواکالعدم تنظیمیں پنجاب میں موجود،حکومت نیشنل ایکشن ...
دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہواکالعدم تنظیمیں پنجاب میں موجود،حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے میں ناکام رہی :عمران خان

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے پنجاب میں تمام کالعدم تنظیمیں موجود ہیں،ہماری حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

انڈیا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف، ا فغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے: ترجمان دفتر خارجہ

اے آر وائے نیوز کے پروگرام”اعتراض ہے“میں عمران خان کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشتگرد ی کیخلاف جنگ اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے،خیبر پختونخوااورفاٹا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہوئے اوروہاں کے عوام کو گھر بار چھوڑ کر جانا پڑاجبکہ قبائلی علاقوں میں دہشتگرد تو مار دئیے گئے لیکن ان کا سرغنہ ہلاک نہیں ہوسکا ۔اگر فاٹا کو مزید دہشتگردی سے بچانا ہے تو اسے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پولیس اتنی سیاست کا شکار ہوچکی ہے کہ وہاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مرضی کے بغیر ایس ایچ او تک تعینات نہیں ہوتا ،شریف خاندان نے پولیس کو اپنا ذاتی نوکر بنا رکھا ہے جس کاوہ جہاں دل چاہتا ہے اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں پولیس کے حالات بلکل مختلف ہیں ۔ہمارے صوبے کی پولیس مکمل طور پر سیاسی مداخلت سے آزاد ہے۔ اگرخطرات سے نمٹا ہو تو پولیس کو سیاست سے پاک رکھنا چاہیے کیونکہ پولیس جتنی بہتر ہوگی خطرات اتنے کم ہوں گے جبکہ اس وقت ملک میں اصل پولیس خیبر پختونخوا کی ہے اور ہم جلد خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ پنجاب اور سندھ اسمبلی میں بھی لائیں گے۔

عمران خان کا پانامہ کیس پراظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف یہ سو چیں کہ انہوں نے کرپشن کیس سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ میں دو قطری خط پیش کردئیے ہیں کیاانہیں دیکھ کر ملک میں کوئی اور کرپٹ آدمی نہیں ایسے خط لا سکتا؟؟۔نیپ کاسربراہ منتخب کرنے والے نواز شریف خود ہیں اوراور وہ آگے اسحاق ڈار کو بچاتا ہے ،موٹو گینگ نے کرپشن سے بچنے کیلئے اتحادی گروپ بنایا ہوا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی تو ہمیں تنقید کاسامنا کر نا پڑاجبکہ نیپ پر تمام جماعتوں دستخط کئے اور جب اس پر عمل نہ ہوسکا تواس کا قصور وار ہمیں ٹھہرا دیا گیا۔سپریم کورٹ اداروں کی ملی بھگت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ کچھ ملکی ادارے تحقیقات کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...