عرب ملک پر امریکہ نے ایسے بم برسادئیے کہ مسلمانوں کی اگلی کئی نسلیں تباہ کرڈالیں، اس میں ایسی کیا چیز شامل کی گئی تھی؟ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے

عرب ملک پر امریکہ نے ایسے بم برسادئیے کہ مسلمانوں کی اگلی کئی نسلیں تباہ ...
عرب ملک پر امریکہ نے ایسے بم برسادئیے کہ مسلمانوں کی اگلی کئی نسلیں تباہ کرڈالیں، اس میں ایسی کیا چیز شامل کی گئی تھی؟ جان کر آپ بھی کانپ اُٹھیں گے

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) ایٹم بم بنانے کے لئے استعمال ہونے والی دھات یورینیم کا عام بموں میں استعمال بظاہر کم خطرناک دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے دور رس نتائج کسی طور بھی ایٹم بم کی تباہی سے کم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ ممنوعہ ہتھیاروں کی فہرست میں شامل ہے، لیکن ظاہر ہے کہ یہ قوانین دنیا کے واحد ٹھیکیدار امریکا پر تو لاگو نہیں ہوتے۔ جب ابتدائی طورپر یہ خدشات سامنے آئے کہ امریکی افواج شام میں یورینیم والے بموں کا استعمال کر سکتی ہیں تو امریکا نے اسے بے بنیاد بات قرار دیا، اور دنیا سے وعدہ کیا کہ ایسا نہیں ہوگا، مگر اب خوفناک سچائی سامنے آ گئی ہے۔

وہ ملک جس کی سرحد پر چین نے ہزاروں فوجی پہنچادئیے، نیا خطرہ پیدا ہوگیا

ویب سائٹ آئی بی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے شام کے میدان جنگ میں افزودہ یورینیم استعمال نہ کرنے کا وعدہ توڑتے ہوئے داعش کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے افزودہ یورینیم کا استعمال کیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی ائیرفورس نے مجموعی طور پر 5ہزار سے زائد 30MMراﺅنڈ گرائے جن میں افزودہ یورینیم موجود تھی۔ عراقی سرحد کے قریب کئے گئے ان حملوں میں مبینہ طور پر داعش کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان میجر جاش جیکس نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے جریدے فارن پالیسی کو دئیے گئے انٹرویو میں بتایا ”میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ افزودہ یورینیم کا استعمال کیا گیا۔ بکتر بند میں چھید کرنے والے راﺅنڈز اور شدید دھماکہ خیز مواد کا استعمال اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کیا جاتا تھا کہ ہدف کو مکمل طور پرتباہ کردیا جائے۔“

افزودہ یورینیم کا بطور ہتھیار استعمال بہت بڑے پیمانے پر صحت عامہ کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ سنگین ماحولیاتی مسائل بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ماہرین صحت پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ افزودہ یورینیم کی وجہ سے کئی نسلوں تک کینسر، سانس کی بیماریاں اور جسمانی بگاڑ جیسے مسائل سامنے آسکتے ہیں۔ انٹرنیشنل کولیشن برائے انسداد یورینیم ہتھیار کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں افزودہ یورینیم کا استعمال کیا جائے اسے دیگر انسانی آبادیوں سے الگ تھلگ کردینا چاہیے کیونکہ وہاں رہنا انسانی صحت کے لئے شدید ترین خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -