دنیا کی اہم ترین چیز جو سعودی عرب کے اشارے پر چلتی تھی، اب اچانک ہاتھ سے نکل گئی، سعودی حکومت بے بس ہوگئی

دنیا کی اہم ترین چیز جو سعودی عرب کے اشارے پر چلتی تھی، اب اچانک ہاتھ سے نکل ...
دنیا کی اہم ترین چیز جو سعودی عرب کے اشارے پر چلتی تھی، اب اچانک ہاتھ سے نکل گئی، سعودی حکومت بے بس ہوگئی

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) اگرچہ سعودی عرب نے تیل کی گرتی قیمتوں کو سنبھالا دینے کی بہت کوشش کی، لیکن گرزشتہ روز قیمتیں پھر گرگئیں، جس کی وجہ عالمی سطح پر تیل کا سٹاک غیر معمولی حد تک بڑھ جانا بتایا جاتا ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں تیل کی پیداوار میں اضافے نے خام تیل اورایندھن کے سٹاک بلند ترین سطح پر پہنچادئیے ہیں۔ ایشیاءمیں تیل کی رسد اتنی ہی بلند ہے جتنی کہ پیداوار میں کمی سے پہلے تھی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز گزشتہ روز 55.42 ڈالر فی بیرل پر آگیا، جو کہ گزشتہ کلوزنگ سے 23 فیصد کم تھا۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ فیوچرز بھی 17سینٹ کمی کے بعد 53.19 بیرل فی ڈالر رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اوپیک کی جانب سے پیداوار میں کمی کی خبریں سامنے آنے کے بعد قیمت میں کچھ اضافہ ہوا تھا لیکن عالمی رسد اور بلند ترین سٹاک نے اس عامل کو پیچھے دھکیلتے ہوئے قیمتوں کو پھر گرادیا۔

’ کسی بھی غیر ملکی کو نیا اقامہ ملے گا نہ ہی اس میں تجدید کی جائے گی جب تک وہ پہلے ۔۔۔‘ سعودی حکومت نے واضح اعلان کر دیا، ملک میں مقیم غیر ملکیوں یا جانے کا ارادہ رکھنے والوں کیلئے انتہائی ضروری معلومات

واضح رہے کہ اوپیک اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک، بشمول روس، نے اتفاق کیا تھا کہ 2017ءکی پہلی ششماہی کے دوران پیداوارمیں تقریباً 1.8 ملین بیرل یومیہ کمی کی جائے گی۔ اس کمی کا مقصد ضرورت سے زیادہ رسد پر قابو پانا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ تین سال سے تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر کم ہوئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت، چین اور امریکہ جیسی بڑی مارکیٹس میں تیل کی کھپت سست روی کا شکار ہے لیکن آنے والے پانچ سالوں میں گزشتہ ایک دہائی کی نسبت تیل کی زیادہ مانگ نظر آئے گی، جو بالآخر قیمتوں میں اضافے کی وجہ بن سکتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -