’’وہ انتہائی ذہین لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی، تعلیم مکمل ہوئی تو والدین نے اس کی شادی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انتہائی امیر گھر کے لڑکے سے کروادی اور پھر ۔۔۔۔‘پاکستانی نوجوان لڑکے نے اپنی سہیلی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہوجائے گا

’’وہ انتہائی ذہین لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی، تعلیم مکمل ہوئی تو ...
’’وہ انتہائی ذہین لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی، تعلیم مکمل ہوئی تو والدین نے اس کی شادی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک انتہائی امیر گھر کے لڑکے سے کروادی اور پھر ۔۔۔۔‘پاکستانی نوجوان لڑکے نے اپنی سہیلی کی ایسی کہانی سنادی کہ جان کر آپ کا دل بھی افسردہ ہوجائے گا

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین ہمیشہ اپنی اولاد کا بھلا چاہتے ہیں لیکن ہم سب کو یہ بات سمجھنی چاہئیے کہ بیٹیوں کو ان کی مرضی کے خلاف بیاہ دینا ہرگز ان کا بھلا نہیں۔ وہ بیچاری اکثر خاموش رہنے پر مجبو رہوتی ہیں، لیکن یہ خاموشی ان کی زندگی برباد کر دیتی ہے۔ ویب سائٹ parhlo پر شائع ہونے والی ایک سچی کہانی دراصل اسی بربادی کی داستان ہے، جو سب والدین کو ضرور پڑھنی چاہئیے۔ یہ دردناک ماجرا عثمان غنی نامی ٹوئٹر صارف نے کچھ یوں بیان کیا ہے:

اس پاکستانی لڑکی نے اپنی طلاق کی خوشی میں ایسا کام کرڈالا کہ خبر سامنے آنے پر ملک میں ہنگامہ برپاہوگیا

ایک چیز مجھے کئی دنوں سے پریشان کئے ہوئے ہے اور میں نے اپنا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اسے شیئر کرنے کا سوچا۔ یہ 1990ءکی دہائی کی بات ہے کہ ایک لڑکی سکول میں میرے ساتھ پڑھتی تھی۔ وہ بہت قابل، محنتی اور پراعتماد تھی اور ہمیشہ کلاس میں اول آتی تھی۔ میں اسے خود اعتمادی میں تو شکست نہیں دے سکتا تھا البتہ کبھی کبھار میرے نمبر اس سے زیادہ آجاتے تو یہ فخر کی بات ہوتی تھی۔

ہم دونوں نے انجینئرنگ کی۔ میں نے ایک انڈسٹری میں ملازمت کرلی اور اس نے انجینئرنگ میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں وہ ملک کی بہترین انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں سے ایک میں لیکچرر ہوگئی۔ انہی دنوں اس کے والدین نے ایک امیر گھر میں اس کی شادی کا فیصلہ کیا۔ شادی کے بعد اسے ملازمت چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا تھا اور اس کا خاوند ایک نیم خواندہ شخص تھا۔ وہ اس صورتحال سے خوش نہیں تھی لیکن اس کے والدین اس کی شادی کے لئے بہت فکرمند تھے اور اپنی ضد پر اڑے تھے، لہٰذا وہ انہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

مزید بدقسمتی کی بات یہ ہوئی کہ اس کا خاوند نہ صرف بدزبان تھا بلکہ اس پر تشدد بھی کرتا تھا، مگر وہ پھر بھی اپنے والدین کی وجہ سے خاموش رہی۔ حال ہی میں مجھے اس کا میسج آیا کہ اس کے خاوند نے ایک بار پھر اس پر تشدد کیا اور دو بار طلاق دے دی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ دو بار طلاق کے بعد وہ اس کے ساتھ رہ سکتی ہے۔ میں یہ جان کر گہرے صدمے میں تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ ایسے بدزبان اور توہین کرنے والے شخص کے ساتھ ابھی بھی رہنا چاہے گی؟ اس کا جواب تھا ”میرے والدین بہت بوڑھے ہیں۔ وہ بیمار اور پریشان ہیں“

انٹرنیٹ پر پاکستانی خواتین کو جسم فروشی کیلئے پیش کرنے والی ویب سائٹس فروغ پانے لگیں ، حکومت خاموش

عثمان غنی کہتے ہیں ”لڑکیو! تمہارے والدین تم سے محبت کرتے ہیں لیکن ایک دن وہ بوڑھے ہوجائیں گے، وہ بیمار اور پریشان بھی ہوں گے۔ اپنے کیریئر کو شادی کے لئے مت چھوڑو۔ خود کماﺅ، آپ کی عمر چاہے جو بھی ہو کبھی ایسے شخص سے شادی نہ کرو جسے تم اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتی ہو۔ میں والدین سے بھی کہوں گا کہ براہ کرم اپنی بیٹیوں کی انسان کے طور پر پرورش کریں، اشیاءکے طور پر نہیں۔ انہیں کام کرنے اور کمانے کا موقع دیں۔ اپنی بیٹیوں کو سکھائیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر جئیں نہ کہ کسی مرد کے سہارے۔ اگر رشتہ ان کے لئے مناسب نہیں تو کبھی انہیں شادی پر مجبور نہ کریں۔ محبت کرنے والا اور خیال رکھنے والا شریک حیات مل جائے تو بہت اچھی بات ہے لیکن اگر محبت اور خیال نہیں تو اس رشتے کو چھوڑ دیں۔ آپ کے پاس اس تعلق کو چھوڑنے کیلئے رقم اور وسائل ہونا ضروری ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...