کرپشن کے متوالو! اللہ سے ڈرو

کرپشن کے متوالو! اللہ سے ڈرو
کرپشن کے متوالو! اللہ سے ڈرو

  

ہم کلمہ گو ہیں مگر کرپشن و بدعنوانی ہمارے معاشرے کا کلچر اور عام چلن ہے۔ جو جتنا صاحبِ اختیار ہے اتنا ہی بڑا کرپٹ ہے۔ الا ماشااللہ۔ہمارے لئے اسوۂ حسنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

آپؐ کی آمد کے بعد قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا، نہ کتاب نازل ہوگی، نہ شریعت بدلے گی اور نہ ہی اخلاقی اصول وضوابط میں ردّوبدل ہوگا۔

رہن سہن، معاشرت، عمومی ضروریات ومعاملات، تدبیرولائحۂ عمل، حکمت عملی اور منزل تک پہنچنے کے لئے ذرائع ووسائل کا تعین، بدلتے وقت کے مطابق تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن بنیادی عقائد واعمال اور اخلاقی اصول وضوابط غیرمتبدل ہیں۔

ان سب امور میں راہ نمائی حاصل کرنے کے لیے دو بنیادی مآخذ ہیں، اللہ کی کتاب اور رسول اللہؐ کی سنت، آپؐ نے زندگی کے آخری لمحات میں امت کو اس اہم ترین پہلو کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: مَیں تمہارے درمیان دواہم چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، تم کبھی گمراہ نہ ہوگے جب تک ان کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے۔

یہ ہیں اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت‘‘۔۔۔ (مؤطا امام مالکؒ )۔۔۔ ایک امتی کے لئے بلاشبہ یہ بھی بہت اہم ہے کہ آنحضورؐ نے لباس کیسا پہنا تھا اور کھانے آپؐ کو کون سے پسند تھے مگر ان امور کے بارے میں اس پر کوئی قدغن اور باز پرس نہیں البتہ لباس سادہ وشریفانہ اور کھانا حلال وپاکیزہ ہونا ضروری ہے۔

اس طرح آنحضورؐ نے زندگی کے جو معمولات واضح طورپر متعین کردیے، ان کی پابندی ہر دور میں ہرامتی کے لیے ضروری ہے۔ آپؐ کے کردار کا ایک نمایاں ترین پہلو دیانت وامانت ہے۔ آپؐ طبعاً اتنے امانت دار تھے کہ کسی دوسرے کی چیز ہتھیا لینا آپؐ کی طبیعت ومزاج سے لگّا ہی نہیں کھاتا تھا۔ اس دیانت وامانت کی وجہ سے آپؐ کوجہاں آپؐ کی قوم الصادق کہتی تھی، وہیں الامین کے نام سے بھی ہر چھوٹا بڑا آپؐ سے متعارف تھا۔

آپؐ نے لوگوں کے ساتھ نبوت سے قبل لین دین اور معاملات بھی کیے، تجارت اور شراکت بھی کی۔ عرب کے اس معاشرے میں جہاں لین دین کے معاملات میں ڈنڈی مارنا، غلط بیانی کرنا اور اپنے مال تجارت کے نقائص کو محاسن بنا کر پیش کرنا کاروباری ذہانت وتاجرانہ مہارت شمار ہوتا تھا، آپؐ کا کردار ان عیوب سے بالکل پاک صاف اور مبرا تھا۔

آپؐ جوانی ہی میں الامین کے نام سے سارے جزیرہ نمائے عرب میں مشہور ہوگئے تھے۔ جب آپؐ نے شرک وبت پرستی کے اس ماحول میں توحید خداوندی کا کلمہ پیش کیاتو لوگوں کو یہ کلمہ بہت اجنبی معلوم ہوا۔ اس کلمۂ حق نے کفار کو مشتعل کردیا۔

کیفیت یہ ہوگئی کہ جیسے بھڑوں کے چھتے میں پتھر ماردیا گیا ہو۔ اس شدت کی مخالفت میں بھی آنحضور کے کردار کا سورج کبھی نہیں گہنایا اور سنگ ریزوں کے درمیان یہ چمک دار موتی یوں جگمگاتا رہا کہ کوئی آنکھ اس سے صرف نظر نہ کر سکی۔

نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت شروع ہوئی تو قریش مکہ خون کے پیاسے ہوگئے۔ قتل، جلاوطنی اور قیدوبند کے منصوبے بننے لگے۔ اس بدترین مخالفانہ ماحول میں بھی آنحضورؐ کی اخلاقی برتری یوں قائم تھی کہ خون کے پیاسے اپنی امانتیں آپؐ ہی کے پاس مامون ومحفوظ سمجھتے تھے۔

ہجرت کی رات کو آنحضورؐ ان کی امانتوں کا مکمل حساب اپنے جاں نثار اور عم زاد بھائی علیؓ بن ابی طالب کے سپرد کررہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا ’’علی! یہ ان لوگوں کی امانتیں ہیں جو میرے خون کے پیاسے ہیں۔ میرے پیچھے یہ امانتیں تمھارے سپرد ہیں۔

تم بلاکم وکاست یہ امانتیں حق داروں تک پہنچانے کے لئے یہیں رکے رہو‘‘۔ کسی شخص کی دیانت کی اس سے بڑی دلیل شاید ہی دنیا میں پیش کی جاسکتی ہو۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن مسعودؓ بہت ہی معروف اور بلند مقام کے حامل صحابی ہیں، جو قاریِ قرآن بھی تھے اور مفسرِقرآن بھی۔

اس عظیم صحابی کے بارے میں آنحضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا کہ قیامت کے دن جب لوگوں کے اعمال تولے جارہے ہوں گے تو ایک پلڑے میں اُحد پہاڑ رکھا جائے گا اور دوسرے پلڑے میں باریک پنڈلیوں والے عبداللہ بن مسعودؓ کی نیکیاں، تو اُحد پہاڑ والا پلڑا اٹھ جائے گا اور ابن مسعودؓ کی نیکیوں والا پلڑاجھک جائے گا۔

حضرت ابن مسعودؓ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی، جب وہ مکہ کی ایک وادی میں عقبہ ابن ابی مُعَیط کی بکریاں چرارہے تھے۔

آنحضورؐ اور ابوبکرصدیقؓ وہاں سے گزرے تو بھوک اور پیاس محسوس کررہے تھے۔ جب ان سے دودھ مانگا تو انھوں نے کہا: ’’میں آپ کو دودھ نہیں دے سکتا، کیونکہ یہ بکریاں مالک کی ہیں اور میں تو صرف امین ہوں‘‘۔

آنحضورؐ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بکری ہمیں بتاؤ جو شیردار نہ ہو۔ چنانچہ انھوں نے ایک بکری پیش کی، آپؐ نے اس کے تھنوں کو سہلایا تو وہ معجزانہ طور پر دودھ سے بھر گئے۔ آپؐ نے دودھ نکال کر خود بھی پیا اور ابوبکرؓ وابن مسعودؓ کو بھی پلایا۔

یہ در حقیقت ایک عظیم معجزہ تھا،جسے دیکھ کر ابن مسعودؓ کے دل کی دنیا بدل گئی۔ ایک تو انھوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور دوسرے آنحضورؐ سے عرض کیا کہ مجھے بھی اس کلام کی تعلیم سے بہرہ ور فرمائیے جوآپؐ کے پاس ہے تواس پرآپؐ نے شفقت ومحبت سے فرمایا: ’’اِنَّکَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ۔ بلاشبہ تم پہلے ہی پڑھے لکھے نوجوان ہو‘‘۔ آنحضورؐ کا یہ فرمان ابن مسعودؓ کی دیانت وامانت کی تعریف کے طور پر تھا۔

سیرت نگاروں نے آپؐ کے معجزات میں ایک اور واقعہ بھی بیان کیا ہے، جس کے مطابق آپؐ نے یہودیوں کے قلعوں کا محاصرہ کررکھا تھا کہ ایک سیاہ رنگ کا چرواہا اپنی بکریوں کے ساتھ آپؐ کے پاس سے گزرا۔

آپؐ کو دیکھ کر اس نے کہا کہ کیا آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں،پھر اس نے اسلام کی تعلیمات کے بارے میں جاننا چاہا توآپؐ نے اس کے سامنے اسلام کی مختصر تشریح فرمائی۔

اس چرواہے نے جہاد میں شرکت اور قتل ہوجانے کی صورت میں جنت میں داخلے کے بارے میں سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم شہید ہوجاؤ گے تو جنت میں چلے جاؤ گے۔

چرواہے نے آپؐ سے ایک اور سوال کیا، جس سے آپؐ خوش ہوئے اور آپ کی نظر میں اس کی قدروقیمت اور بڑھ گئی۔اس نے کہا: یہ بکریاں فلاں یہودی کی ہیں ان کا کیا کروں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کو ہانک دو۔ گویا جن کے مقابلے پر آپؐ نے فوج کشی کر رکھی تھی، ان کے مال کو بھی قبضے میں لے لینا دیانت وامانت کے منافی سمجھا۔

حضرت اسودالراعی نے ان بکریوں کو کنکریاں ماریں اور فرمایا کہ جاؤ اپنے باڑے کی طرف چلی جاؤ۔ پھر وہ شاملِ جہاد ہوگئے۔ قلعے کی طرف سے سنگ باری اور تیراندازی کی جارہی تھی۔

یہ نومسلم صحابیؓ جنھوں نے نہ کوئی نماز پڑھی تھی اور نہ روزہ رکھا تھا، شہید ہوگئے توآنحضورؐ نے ان کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں جا چکے ہیں اور جنت کی حوریں ان کی خدمت میں حاضر ہوچکی ہیں۔

آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ یہ حوریں شہید کے چہرے پر لگے گردوغبار کو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں، جس نے تیرے چہرے کو غبار آلود کیا ہے، اللہ اس کے چہرے کو خاک آلود کردے اور جس نے تجھے قتل کیا ہے، اللہ اسے ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دے۔ (معجزات سرور عالم،ص۸۸)

ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہم خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو کیا ہم مسلمان کہلانے کے حق دار ہیں۔ ہم اس نبی کے امتی ہیں، جس نبی کا کردار یہ ہے کہ خون کے پیاسوں کی امانتیں بھی ان تک پہنچانے کا اس وقت اہتمام کیا، جب ان کی خون آشام تلواریں اس کے گھر کے باہر لہرارہی تھیں۔

جس نے عین حالت جنگ میں بھی برسرپیکار دشمن کا مال اس کی طرف لوٹانے کی مثال قائم کی۔ اس نبی کے امتی ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر معاملے میں تمام لوگوں کے ساتھ مکمل دیانت وامانت کا مظاہرہ کریں۔ ایمان سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں اور بددیانتی ایمان کی نفی کرتی ہے۔ آئیے! ہم اللہ سے عہد کریں کہ ہم اپنی بقیہ زندگی کو دیانت وامانت کے نبوی تصورات کی روشنی میں اسلام کا نمونہ بنائیں گے۔

مزید : رائے /کالم