قصہ بارہ لاکھ کی ڈکیتی کا

قصہ بارہ لاکھ کی ڈکیتی کا
قصہ بارہ لاکھ کی ڈکیتی کا

  

السلام علیکم دوستو! کیسے ہیں امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے اور ہم بھی یقیناًاچھے ہی ہیں۔ جی دوستو! آج ہم آپ کو ایک قصہ سناتے ہیں وہ بھی بارہ لاکھ کی ڈکیتی کا۔

جی ہاں بارہ لاکھ کی ڈکیتی جو کہ دن دیہاڑے ہوئی اور ہوئی بھی عین ہمارے گھر کے باہر جی ہاں دوپہر دو بج کر بیس منٹ پر۔ جب ہم گھر سے دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے تو عین اسی وقت گلی میں شور سا اٹھا اور زور زور سے بچاؤبچاؤکی آواز سنائی دی شور کی آواز جب کانوں میں پڑی تو باہر کی طرف بے اختیار بھاگے جب باہر گلی میں نکلے تو دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار ادھیڑ عمر کا آدی تھا جو زور زور سے چلا رہا تھا اس کا شور سن کے میرے سمیت بہت سے محلے دار اکٹھے ہو گئے تھے جب پتہ لگا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سوار ادھیڑ عمر موٹر سائیکل سوار سے پیسوں سے بھرا بیگ چھین کے لے گئے تھے اس کا کہنا تھا کہ وہ رستہ بھول کر رہائشی علاقہ جو سیکٹر اے ون میں تھا کی طرف آ نکلا اس کے پیچھے تعاقب میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار جن میں سے ایک نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا جبکہ دوسرے نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا آئے اور بیگ چھین کر لے گئے۔ ہمارے محلے سیکٹر اے ون ٹاؤن شپ میں آئے روز چھوٹی موٹی چوریاں معمول بن گئی ہیں۔

کچھ روز قبل ہماری ہی گاڑی کی بیٹری جو ہمارے گھر کے باہر کھڑی تھی چوری ہو گئی ہمارے ہمسائے جو ہیں ان کی بھی دو عدد گاڑیوں سے بیٹری چوری ہو گئی اور تو اورجناب مصطفی کی سائیکل بھی گھر کے باہر سے کوئی نامعلوم چور لے اڑا حیرانی تو ہمیں بھی ہوتی ہے چوری کی چھوٹی موٹی وارداتوں سے ،لیکن دن دیہاڑے بارہ لاکھ کی ڈکیتی نے تو گویا نیندیں بھی چھین لیں، ہم نے اپنے ہی نمبر سے ون فائیو پر پولیس کو اطلاع دی اطلاع نے تو لاہور شہر کی پولیس کو ہلا کر رکھ دیا آناً فاناً سیکٹر اے ون ٹاؤن شپ پولیس کی آغوش میں تھا، لیکن جو ہو نا تھا ہو گیا، مقامی تھانہ قائد اعظم کی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی چونکہ ہم نے ون فائیو کال چلائی تھی اس لئے ہمارا گھر سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا لمحہ لمحہ بعد موبائل فون کی گھنٹی بج رہی تھی ، کبھی سی آئی اے ماڈل ٹاؤن سے فون آ رہا تھا تو کبھی سی آئی اے نواں کوٹ سے تو کبھی جناب دفتر ایس ایس پی صاحب سے تو کبھی کسی دفتر سے تاہم ہمیں جو تفصیل معلوم ہوئی جو اس فیکٹری ملازم نے پولیس کو اور محلے داروں کو سنائی تھی کچھ اس طرح سے تھی کہ فیکٹری ملازم سرور کیش ریکوری کا کام کرتا ہے۔

اس دن جس دن واردات ہوئی، وہ مختلف بینکوں سے رقم نکلوا کے کمپنی کے دفتر جا رہا تھا وہ اے ون سیکٹر کی طرف سے شارٹ کٹ لگانے لگا تو اے ون میں ہی اس کے تعاقب میں آنے والے ڈاکوؤں نے سنسان جگہ پہ کام دکھا دیا تاہم یہ ہم نے بھی کیمرے کی آنکھ سے دیکھا ۔

کیمرے میں بھی ہم نے دو موٹر سائیکل سوار وں کو فیکٹری ملازم کو دھکا دیتے اوربیگ چھین کر لے جاتے دیکھا یہی تفصیل دن بھر پولیس کو بتلاتے رہے تاہم تھانہ قائد اعظم پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کاآغاز کر دیا ہے ۔

پولیس کے تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ہم ملزموں کو پکڑنے کے لئے دن رات مصروف ہیں اور بہت جلدخوشخبری سنائیں گے بہر حال دوستو!انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دن دیہاڑے ڈکیتیوں کی وارداتیں اب گلی محلوں میں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

ہمیں معلوم ہوا کہ سوسائٹی انتظامیہ نے سیکٹر اے ون میں جگہ جگہ کیمرے تو لگوائے ہیں لیکن سیکیورٹی کیمروں میں سے بے شمار کیمرے خراب ہیں جو کام ہی نہیں کرتے بہر حال دوستو! ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک چوروں اور ڈاکوؤں کو عقل دے اور وہ چوری ڈکیتی سے بازرہیں بہر حال دعا تو یہ بھی ہے کہ اللہ پاک ہماری پولیس کو بھی ہمت و توفیق دے کہ وہ چوروں اور ڈاکوؤں کا خاتمہ کر سکیں آمین ثم آمین تو اجازت دوستو!ملتے ہیں جلد آپ سے بریک کے بعد، تو چلتے چلتے اللہ نگہبان رب راکھا۔

مزید : رائے /کالم