کینسر ہسپتال بنانے کا منصوبہ

کینسر ہسپتال بنانے کا منصوبہ
کینسر ہسپتال بنانے کا منصوبہ

  

شہبازشریف نے گورنمنٹ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سبزہ زار کے افتتاح کے بعد شرکاء سے خطاب میں کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں عوام نے ہمیں خدمت کے لئے دوبارہ منتخب کیا تو ستمبر میں کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔

ہسپتالوں میں خدمت کا کلچر لائیں گے جہاں مریض کے ساتھ بدتمیزی یا تلخ روّیے کی بجائے تحمل اور اخلاص کے ساتھ نرم روی کا سلوک کیا جائے۔ ہسپتالوں میں ہڑتال یا بدنظمی نظر نہ آئے۔

میو ہسپتال سرجیکل وارڈ سمیت نئے وارڈوں میں طبی آلات، ڈاکٹر، نرس، طبی عملہ اور عمارتیں وغیرہ دیکھ کر یورپ کے ہسپتال کا گمان ہوتا ہے۔ لاہور اور گرد و نواح میں گزشتہ چار سال میں 6 ہسپتال بنانے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے عوام کی خدمت کو عبادت سمجھا ہے۔ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے تاریخی اقدامات کئے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے بے مثال اقدامات کئے ہیں اور جنوبی پنجاب میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے ہیں اوراربوں روپے کے زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔

خدمت کے مشن سے نہ پہلے کبھی ہٹا ہوں اور نہ ہی آئندہ ہٹوں گا۔ہمارا ہر قدم عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اٹھ رہا ہے۔عام آدمی کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی بلند کرنے کے لئے ٹھوس پروگرامز پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

میں نے عوام کی خدمت کے لئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے اورعوامی خدمت کے سفر کو رکاوٹوں کے باوجود تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔

چند دن پیشتر وزیراعلیٰ شہبازشریف نے بورے والا ، ضلع وہاڑی کے دورہ میں علاقے کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے منصوبوں کا افتتاح کیا اور مختلف منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

وزیراعلیٰ نے 300 بیڈز پر مشتمل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال وہاڑی کی اپ گریڈیشن اور نئے ایمرجنسی بلاک، بورے والا میں 7 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والے ریسکیو 1122 وہاڑی میں موبائل ہیلتھ یونٹ کی فراہمی کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ میلسی اور ملحقہ آبادیوں کے لئے واٹر سپلائی اور سیوریج سکیموں کی بحالی اور توسیع کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔اس منصوبے پر 28 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

یہ حقیقت ہے کہ حکومت پنجاب کی صحت سے متعلق اصلاحات پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پنجاب کی آبادی کی صحت بہتر ہورہی ہے، لیکن پھر بھی پبلک ہیلتھ سے متعلقہ نئے مسائل ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔

آبادی کی صحت میں مجموعی بہتری کے باوجودسامنے آنے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے پبلک ہیلتھ کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت موجودہ پبلک ہیلتھ سے متعلقہ مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔

اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے صحت سے متعلقہ بنیادی ڈھانچے، مراکز صحت اور ان میں دی جانے والی سہولیات اور ان تک آسان رسائی کے سلسلے میں مثبت اقدامات کئے ہیں۔ پبلک ہیلتھ ایجنسی کا قیام حکومت پنجاب کی صحت عامہ سے متعلقہ اہم اصلاحات میں سے ہے۔

پنجاب پبلک ہیلتھ ایجنسی کا آغاز حکومت پنجاب کی عوامی صحت بہتر بنانے کے لئے مضبوط ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت پنجاب نے ایک طویل مدتی کاوش کا آغاز کردیا ہے۔ پی پی ایچ اے کی تشکیل وزیر اعلیٰ پنجاب کے عزم ’صحت خدمت، صحت عبادت‘ کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔

عوام کو صحت و تعلیم کی سہولیات کی فراہمی حکومت کا اولین فرض ہے، لیکن صحت کا معاملہ زیادہ حساس ہوتا ہے، کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے صحت کا ہونا ضروری ہے۔ اس بنیادی ضرورت کو وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے جس ویژن کے ساتھ سمجھا ہے وہ انہی کا طرہ امتیاز ہے۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے صحت کی معیاری سہولیات عوام تک پہنچانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی اوراس شعبے کی ترقی پر پہلی مرتبہ بھرپور توجہ دی گئی یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ہونے والی ترقی خصوصا صحت کے میدان میں ہونے والی گراں قدر پیش رفت کی دیگر صوبوں میں مثال دی جاتی ہے۔وزیر اعلیٰ کا لاہور میں کینسر ہسپتا ل کے قیام کا اعلان بھی ایک احسن اقدام ہے۔

اس ہسپتال کے قیام سے دوسرے کینسر ہسپتالوں پر موجودہ بوجھ میں کمی ہوگی اور علاج کی جدید ترین سہولیات بھی فراہم ہوں گی جس سے عام آدمی بھی فائدہ اٹھا سکے گا۔

چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ پروگرام پر عملدرآمد سے پنجاب میں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کی روٹین ایمونائزیشن کوریج پچاس فیصد سے بڑھ چھیاسی فیصد تک پہنچ گئی جس کی انٹرنیشنل پارٹنرز نے بھی تصدیق کی ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے میں بچوں کو اسہال کی بیماری سے بچانے کے لئے روٹا وائرس ویکسین تعارف کرانے کی منظوری دی۔

ہر سال ہزاروں بچے اسہال کی بیماری سے موت کا شکار ہوجاتے تھے۔شہباز شریف دور میں کڈنی سینٹر ملتان مکمل ہوا۔ سروسز ہسپتال کا نیا آؤٹ ڈور مکمل ہوا۔ انسٹیٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہورکا تیسرا فیز مکمل ہوا۔

واہ کینٹ جنرل ہسپتال 200بیڈز پر مشتمل تعمیر شروع ہوئی۔ میوہسپتال کے سرجیکل ٹاورکو مکمل کرنے کے لئے 7سو ملین روپے جاری کئے گئے۔

وزیراعلی نے ڈاکٹروں کے لئے تین ارب پچاس کروڑ روپے کا سپیشل الاؤنس پیکیج دیا۔ بی ٹی ایل لاہور اپ گریڈ کی گئی۔ درجہ چہارم کے ملازمین کے سروس سٹرکچر کی منظوری دی گئی۔

نرسوں کو چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے خصوصی الاؤنس کی منظوری دی گئی۔پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیو ٹ پر تیزی سے کام شروع ہوا چار ارب روپے فراہم کئے گئے۔

مزید : رائے /کالم