سعودی عرب کے لئے پاکستانی فوج کی خدمات

سعودی عرب کے لئے پاکستانی فوج کی خدمات

وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کی ذمے داری ہے، برادر اسلامی مُلک کو میزائل حملوں کا سامنا ہے، فوج علاقائی سالمّیت کے تحفّظ کے لئے وہاں بھیجی جا رہی ہے جو کِسی تیسرے مُلک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، فوج بھیجنے کے لئے چند ماہ سے گفتگو جاری تھی، وزیراعظم اور آرمی چیف بھی سعودی عرب گئے تھے، مَیں بھی گزشتہ دسمبر میں وہاں گیا تھا، اُن کے نائب وزیر دفاع نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا، چند ماہ سے ایک مستقل گفتگو ہو رہی تھی، دونوں مُلکوں کے درمیان مُعاہدے اور مفاہمت کے تحت پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت میں حصِّہ ڈالے گا، سعودی افواج کو تربیت دینے کے لئے دستے بھیجے گئے ہیں، پاکستانی فوجی دستے مشاورت اور تربیتی مشن پر بھیجے گئے ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال جنگ لڑی، اِس کی بدولت پاکستانی فوج پہاڑوں پر لڑی جانے والی جنگ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ تربیت یافتہ ہے۔ اِس سلسلے میں سعودی افواج کو بھی ٹرینڈ کرنا چاہتے ہیں، اِس کے لئے سعودی حکومت کی طرف سے درخواست موصول ہوئی تھی، وہ ایک ٹی وی پروگرام میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ پاکستان کی فوج اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت دنیا کے مختلف مُلکوں میں امن مِشنوں پر جاتی رہتی ہے اور اپنی اِن خدمات کے حوالے سے ایک مُثبت شہرت رکھتی ہے، یمن کے بُحران کے آغاز میں جب سعودی عرب کی سالمیت کو خطرات لاحق تھے تو اس نے پاکستان سے فوجی معاونت طلب کی تھی، اُس وقت جنرل (ر) راحیل شریف پاک فوج کے سربراہ تھے۔ پارلیمینٹ میں بھی یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا، حکومت نے اِس ضمن میں پارلیمانی رہنمائی کو پیشِ نظر رکھ کر ہی اُس وقت فیصلے کئے تھے تاہم دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے دُنیا کے بہت سے مُلک دوچار ہیں اور اِس عفریت کے خاتمے کے لئے دنیا کو مُتحد ہو کر کوششیں کرنی پڑتی ہیں، اگر یہ مُلک علیحدہ علیحدہ دہشت گردی سے نپٹنے کی کوشش کریں گے تو اِس کا مقابلہ مشکل ہوگا، اِس لئے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نہ صرف دنیا کی واحد سُپر طاقت ہے بلکہ فوجی لحاظ سے بھی کوئی مُلک اِس کے مقابل نہیں، اِس کے باوجود اگر افغانستان میں تمام نیٹو مُلکوں کی فوجی معاونت امریکہ کو حاصل ہے تو اِس کی وجہ بھی یہی ہے کہ سُپر طاقت بھی دوسروں کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔

پاکستان کی فوج کو چونکہ دہشت گردی کے خلاف ایک مسلسل جنگ لڑنی پڑی ہے اور اس نے کِسی مُلک کی عملی معاونت کے بغیر اِس جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اِس لئے وہ مُلک جنہیں دہشت گردی کا سامنا ہے اگر پاکستان کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے فوجیوں کو اِن تجربات سے مُستفید ہونے کے مواقع دینا چاہتے ہیں تو پاکستان کو اِن تجربات میں دوست اور برادر مُلکوں کو شریک کرنے میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سعودی عرب کے کئی شہروں پر میزائل داغے گئے ہیں جن کا جواب اُنہیں فضا ہی میں تباہ کرکے دے دیا گیا، ورنہ یہ میزائل اپنے اہداف پر پُہنچ جاتے تو بہت زیادہ نُقصان ہوتا، ایسے حالات میں اگر سعودی عرب نے پاکستان جیسے دوست مُلک پر بھروسہ کرکے اپنے فوجیوں کی تربیت کے لئے پاکستان سے معاونت طلب کی ہے تو اِس پر بدگمانی کے خودساختہ سائے پھیلانے کی چنداں ضرورت نہیں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی سعودی عرب کے ساتھ اِس طرح کے کِسی تعاون کی بات چلتی ہے، بعض قوتیں اچانک اور ایک دم متحرک ہو کر ایسا دور ازکار واویلا شروع کر دیتی ہیں جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وزیر دفاع نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت پارلیمینٹ کی قرارداد پر عمل پیرا ہے اور اِس کی کوئی مخالفت نہیں کر رہی، اگر پاکستان سعودی فوجیوں کو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے تجربات میں شریک کرتا ہے اور سعودی فوجیوں کو اِس کے مقابلے کے لئے تیار رہنے میں مدد دیتا ہے تو اِس میں کیا مضائقہ ہے؟ مختلف ملکوں کی افواج مل کر دنیا کے خِطّوں میں جو جنگی مشقیں کرتی رہتی ہیں وہ بھی اِسی حکمت کے تحت کی جاتی ہیں کہ ایک دوسرے کو اپنے تجربات میں شریک کیا جائے، امریکہ روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں اپنی فوجوں کو دُنیا کے مختلف خِطّوں میں مشقوں کے لئے اِسی مقصد کے تحت بھیجتی ہیں، پاکستانی افواج بھی مشقوں کے لئے باہر جاتی ہیں اور دوسرے مُلکوں کی فوجیں بھی یہاں آتی ہیں۔ یہ سب کچھ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ہی شکلیں ہیں، اِس لئے اگر پاکستان اپنے ایک برادر مُلک کے کام آ رہا ہے تو یہ اِس لحاظ سے سعادت مندی کی بات ہے کہ اِس سرزمین پر مُسلمانوں کے دو مقدس ترین مقامات واقع ہیں جن کی حفاظت کے لئے ہر مسلمان ہر وقت سربکف رہتا ہے۔ اِس پس منظر میں وزیر دفاع نے یہ الفاظ کہے ہیں کہ سعودی عرب کی سالمیت کا دفاع پاکستان کی ذمے داری ہے۔

سینیٹ نے اِس معاملے پر بریفنگ کے لئے وزیر دفاع کو طلب کیا ہے جہاں وہ پالیسی بیان بھی دیں گے اور پارلیمینٹ کے اِس معزز ایوان کو اُن حالات سے باخبر بھی کریں گے جن کی وجہ سے سعودی عرب فوجیں بھیجنا پڑیں۔ سعودی عرب میں دہشت گردی کے مسائل تو ابھی چند سال سے پیدا ہوئے ہیں، پاکستان تو سعودی عرب میں اپنی افواج کئی عشروں سے بھیج رہا ہے، اِس دوران بُہت سی حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن کِسی بھی حکومت نے اِس پالیسی کو نہیں بدلا، جس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ تمام حکومتیں وہ فوجی ہوں یا کِسی سیاسی جماعت کی، اِس معاملے پر متفق چلی آ رہی ہیں۔ اگر اِس پالیسی میں کوئی خرابی ہوتی تو حکومتیں تسلسل کے ساتھ اِسے کیوں اپناتیں؟ اِس کا یہ مطلب بھی ہے کہ یہ پالیسی کافی غور و خوض کے بعد بنائی گئی ہے اور اِس ضمن میں مسلح افواج کے سربراہوں کی مشاورت بھی پوری طرح شامل ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو حکومت کے لئے محض حکومتی فیصلے کے تحت فوج باہر بھیجنا آسان کام نہیں، البتہ یہ کوشش ضرور ہونی چاہئے کہ پاکستانی فوج کِسی دوسرے مُلک کے ساتھ اُلجھنے سے گریز کرے اور جن مقاصد کے لئے اُسے سعودی عرب میں بھیجا گیا اُنہی کو پیشِ نگاہ رکھے، ہمیں توقع ہے کہ وزیر دفاع اِس معاملے پر پارلیمینٹ کو مُطمئن کریں گے اور اگر اِس سلسلے میں کوئی نئے پہلو سامنے آئیں گے تو اُن کی روشنی میں پالیسی میں ضروری ردّوبدل بھی کیا جائے گا، مُلکوں کی پالیسیاں جامد و ساکت نہیں ہوتیں کہ ان میں بدلتے حالات کے مطابق کوئی ردّوبدل نہ ہو سکتا ہو، زمینی حقائق کے مطابق تبدیلی میں کوئی حرج نہیں، دوست مُلکوں کے ساتھ تعاون آج کے دور کی ضرورت بھی ہے، اِس کے بغیر قوموں کی برادری میں عزت و احترام نہیں ملتا، سعودی عرب جیسے دوست مُلک کے ساتھ تعلقات کے خصوصی تناظر میں ایسی باتیں نہیں ہونی چاہئیں جن سے دوستی پر حرف آتا ہو اور تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...