گردے فروخت کرنے کا دھندہ جاری

گردے فروخت کرنے کا دھندہ جاری

یہ خبریں باعثِ تشویش ہیں کہ غیر قانونی طور پر گردے ٹرانسپلانٹ کرنے والے گروہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ لاہور میں انویسٹی گیشن ٹیم نے شیخ زید ہسپتال کی حدود میں یہ دھندہ کرنے والے گروہ کے تین افراد کو راولپنڈی سے گرفتار کیا ہے، ملزموں میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے، تین افراد ابھی تک مفرور ہیں۔ ایک دوسرے گروہ نے پاکپتن سے مزدوری کے لئے آئے ہوئے ایک نوجوان کو روزگار کا جھانسہ دے کر اُس کا گردہ نکال لیا۔ واردات میں اس کا ہم زلف بھی ملوث ہے، بعد ازاں اُسے خاموش رہنے کا کہا گیا اور تین لاکھ روپے دلوانے کا وعدہ کیا، لیکن ہم زلف اس کی طبیعت خراب ہونے پر فرار ہو گیا۔ اِن واقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غیر قانونی طور پر گردے ٹرانسپلانٹ کرنے والے گروہ نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر پھنساتے ہیں۔ سادہ لوح افراد سے کہا جاتا ہے کہ ملازمت کے لئے میڈیکل چیک اپ ضروری ہے۔ اِس دوران بے ہوش کرکے گردہ نکال لیا جاتا ہے۔ گروہ نے مختلف علاقوں میں اپنے ایجنٹ بھی رکھے ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال اِن گروہوں کے خلاف پولیس اور دیگر ادارے وقتی طور پر بہت سرگرم ہوئے تھے، چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں متعدد ڈاکٹروں اور اِن کی معاونت کرنے والے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ کچھ لوگ ملازمت کے حصول، قرض اتارنے، والدین کے علاج اور بہن کی شادی کے لئے اپنا گردہ فروخت بھی کرتے ہیں لیکن انہیں معمولی رقم ملتی ہے۔ ملزموں نے انکشاف کیا کہ سادہ لوح اور ضرورت مند افراد کے گردے غیر قانونی طور پر نکال کر امیر لوگوں کو (جن میں غیر ملکی بھی شامل ہوتے ہیں) ٹرانسپلانٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ اِن گروہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ صرف پنجاب ہی نہیں سندھ اور کے پی کے میں بھی یہ ناجائز دھندہ ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ اِس قدر وسیع پیمانے پر یہ کاروبار ہو رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے متعلقہ ادارے بظاہر بے خبر اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ یہ سب کچھ علاقے کے عام لوگوں کے علم میں ہوتا ہے، لیکن اِس کی روک تھام کے ذمے دار ادارے ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔ گزشتہ سال جب مختلف شہروں میں ایسے گروہوں کے متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تو یہ امید تھی کہ نہ صرف اِنہیں عدالت سے سزا دلوائی جائے گی بلکہ اِس ناجائز کاروبار کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات بھی کئے جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہُوا۔ سادہ لوح اور غریب گھرانوں کے افراد کے گردے نکالنے سے اُن کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے گردے ٹرانسپلانٹ کرنے والے ڈاکٹروں کو اِس پیچیدہ آپریشن کا زیادہ تجربہ نہیں ہوتا جبکہ اِن کے پاس آپریشن کے دوران مطلوبہ سہولتیں بھی نہیں ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات گردہ ٹرانسپلانٹ ہونے کے بعد دونوں افراد (جن کا گردہ نکالا جاتا ہے اور جنہیں گردہ لگایا جاتا ہے) میں سے کِسی ایک کی حالت بگڑ جاتی ہے اوربعض اوقات دونوں ہی سرکاری اور نجی ہسپتالوں سے علاج کرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ افراد جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ یہ گروہ ماہانہ کروڑوں روپے کماتے ہیں، اِس رقم میں سے بعض ذمے داران کو بھی حصّہ دیا جاتا ہوگا تاکہ وہ کوئی کارروائی نہ کریں۔ اِس دھندے کو روکنے اور گرفتار ہونے والے افراد کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لئے موثر کارروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے جو ذمے داران بوجوہ اِس دھندے کو روکنے میں ناکام ہیں، اُن کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی ہونی چاہئے کیونکہ اُن کے تعاون کے بغیر یہ ناجائز کاروبار ممکن نہیں۔

مزید : رائے /اداریہ