بد کا برا انجام، زینب کو انصاف مل گیا!

بد کا برا انجام، زینب کو انصاف مل گیا!
بد کا برا انجام، زینب کو انصاف مل گیا!

  


عدلیہ کی تاریخ میں ایک نیاباب رقم ہوا، ’’سپیڈی ٹرائل کورٹ‘‘ نے کوٹ لکھپت جیل میں قصور کی ننھی پری زینب کے بہیمانہ قتل کی واردات کے مقدمہ کی سماعت کی اور آج (ہفتہ) اس کا فیصلہ بھی سنا دیا، درندہ عمران اپنے انجام کو پہنچا، خبر کے مطابق یہ سماعت صرف چار روز میں مکمل ہوئی اور پندرہ پندرہ گھنٹے تک کام کیا گیا۔ پبلک پراسیکیوٹر جنرل کے مطابق یہ آٹھ میں سے ایک مقدمہ کا فیصلہ ہے۔

باقی سات بچیوں کے قتل کے حوالے سے بھی قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی اور پھر فیصلہ بھی ہوگا اور اس کے بعد سزا پر عمل درآمد کی نوبت آئے گی۔ خبروں میں بتایا گیا کہ فیصلے کی گھڑی آئی تو عمران روتا رہا، اس نے کوئی قانونی امداد لینے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ اس نے ظلم کیا اور اسے زیادہ سے زیادہ سزا ملنا چاہیے۔

مقتولہ زینب تو واپس آنے سے رہی تاہم فیصلے سے اس کے والدین کو ضرور اطمینان ہو گیا ہوگا کہ انصاف مل گیا، اس مقدمہ میں جہاں رفتار کا ریکارڈ بنا وہاں جدید ٹیکنالوجی کو بھی پہلی مرتبہ بطور شہادت پیش کیا گیا اور اسے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا، اس کے لئے فرانزک ماہرین کی شہادت لے کر رپورٹ کو ثابت کرنے کا عمل ہوا۔ اس سے قبل ایسی تکنیکی شہادت کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جاتا تھا، اب یہ بھی مثال اور دلیل بن گئی ہے۔

آج صبح خبریں سن کر ہمیں بھی اطمینان ہوا اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا کہ ملزم عمران کی گرفتاری سے سزا تک خلوص نیت سے کام کیا گیا اور معاملہ طے بھی ہو گیا، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ’’جہاں چاہ، وہاں راہ‘‘ یعنی ارادہ اور عزم پختہ ہو تو کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی اب اس کیس کو مثال بنا کر انصاف کے ایوانوں میں بھی مقدمات کی سماعت میں تاخیر والا سلسلہ ختم کیا جا سکتا ہے اور اب یہ بھی ہونا چاہیے کہ تکنیکی نوعیت کی شہادت قلمبند کی جائے اور اس کے لئے قانونی راہ موجود رہے۔

اس مقدمہ کا تو فیصلہ ہو گیا اور عمران کو سزا بھی مل گئی، لیکن ہمارے نزدیک اس سلسلے میں جو بات مشکوک لگتی ہے ، اس کا سدباب نہیں کیا گیا، بلکہ پبلک پراسیکیوٹر جنرل نے یہ کہہ کر آٹھ وارداتوں کی تکمیل کر دی ہے کہ عمران نے آٹھوں وارداتوں کے حوالے سے اقبال جرم کر لیا ہے اور باقی سات کے سلسلے میں قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے کہ سزائے موت ایک واردات کے عوض ہو یا باقی بھی سات میں ہو، پھانسی تو ایک ہی مرتبہ ہوگی یہ تو ممکن نہیں کہ ’’درندے‘‘ کو بار بار پھانسی دی جائے کیونکہ دم تو پہلی مرتبہ ہی نکل جانا ہے تاہم مروجہ طریق تو پورا کرنا مقصود ہے۔

اس سلسلے میں یہ گزارش بے جا نہیں کہ باقی سات وارداتوں کے حوالے سے شکوک پائے جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق تو پولیس اور جے آئی ٹی نے روائتی کام کیا اور زیر التوا کیسوں کو بند کرنے کا ذریعہ ڈھونڈا اور چوری یا ڈاکے کی وارداتوں کی طرح جس کے رسہ فٹ آ گیا اس کی گردن میں کس دیا گیا، حالانکہ قصور پولیس دو نوجوانوں کو انہی وارداتوں کے حوالے سے ماورائے عدالت اگلے جہاں پہنچا چکی اور اب ان کے حوالے سے بھی تفتیش کا سلسلہ شروع کیا گیا اور بعض پولیس ملازمین کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

عام شہری مطمئن نہیں ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اب سارا ملبہ عمران پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس لئے ہر کیس کی الگ الگ تفتیش ہونا چاہیے یہ نہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے حوالے سے آٹھوں کے آٹھوں جرم اسی کے ذمہ ڈال کر فارغ کر دیئے جائیں۔

ہر ایک کیس کی نوعیت اپنی ہے اور کوئی اور بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ لہٰذا غیر جانبداری سے تفتیش کی جائے اور جن دو افراد کو پولیس مقابلے میں پار کیا گیا ان کی بھی غیر جانبداری سے تفتیش کی جائے کہ ان ملزموں کو تو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا تھا ویسے بھی اب تو پولیس مقابلے مشکوک ہی جانے جا رہے ہیں، اس وقت معمولی سی تحقیق کے نتیجے میں پولیس مقابلے درست قرار دیئے گئے تھے۔

جہاں تک پولیس مقابلوں کا تعلق ہے تو ان کا آغاز جنرل (ر) موسیٰ کے دور میں ہوا جب وہ پنجاب کے گورنر تھے، ان دنوں پولیس کا پرانا نظام تھا اور لاہور کے ایس ایس پی جنرل (ر) مجیب الرحمن کے بھائی الحاج حبیب الرحمن (مرحوم) تھے، ان کا تعلق سی ایس ایس کیڈر سے تھا اور انہوں نے کرمنالوجی کے کئی کورس بھی کئے ہوئے تھے۔

عمومی نظریات کے مطابق وہ اصول پرست اور قانون پسند افسر تھے، تاہم پولیس مقابلوں کا ان کے پاس بھی جواز تھا وہ کہتے کہ تفتیش میں مجرم کا جرم ثابت بھی ہو جائے تو عموماً اس کے خلاف شہادت نہیں ہوتی یا پھر کمزور ہوتی ہے جبکہ مجرم خوفزدہ بھی کرتے ہیں اور گواہ شہادت دینے سے گریز پا ہوتے ہیں، چنانچہ مکمل یقین ہو جانے کے بعد ہی یہ طریقہ ء اختیار کیا جاتا ہے، اس وقت بھی یہ دلیل اپنے اندر وزن نہیں رکھتی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہے، کیونکہ یہاں نہ صرف پولیس اور بھی متعدد محکمے ہیں جو تفتیش میں معاونت کر سکتے ہیں اس لئے کسی بھی مقدمہ میں کسی بھی مجرم کو سزا مکمل ثبوت کے بغیر نہیں دینا چاہیے۔ یوں بھی یہ ضروری ہے کہ عدالتی سماعت کے ذریعے مکمل ثبوتوں کے ساتھ کارروائی کی جائے۔

اس طرح ہوگا تو زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔ جہاں تک خوف کا تعلق ہے تو یہ ضرور ہوتا ہے اور دہشت پھیلتی ہے لیکن بتدریج یہ بھی ختم ہوتی چلی جاتی ہے، لہٰذا بہتر امر تفتیش اور پھر ثبوتوں کے ساتھ کارروائی ہے۔

اس کا اہتمام کچھ مشکل نہیں۔ گواہوں کو تحفظ کا یقین ہونا چاہیے، ایک واقعہ بتا کر بات ختم کرتے ہیں، جنرل (ر) موسیٰ کے دور میں جب پولیس مقابلوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک بار خوف تو بن گیا تھا حتیٰ کہ قلعہ گوجر سنگھ والے اچھا پہلوان خود ہی غنڈہ ایکٹ کے تحت پولیس کے پاس حاضر ہوکر جیل چلے گئے کہ اس افراتفری میں جیل تحفظ کی ضمانت تھی۔

مزید : رائے /کالم


loading...