پاکستان میں نمائشی اسلام کی نئی لہر

پاکستان میں نمائشی اسلام کی نئی لہر
پاکستان میں نمائشی اسلام کی نئی لہر

  

یہ سب کچھ پچھلے 30 برس کے دوران شروع ہوا ۔ پاکستان کی تخلیق کا اوّلین مقصد ہی یہ تھا کہ اگر برِصغیر کی تقسیم ہونی ہے تو مسلمانوں کا اپنا ملک ہونا چاہیے جہاں وہ اسلام کے دیئے ہوئے تصّورِ حکمرانی کے مطابق ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ کسی جو شیلے مسلمان نے وقتی طور پر لگا دیا ہو گا جب کہ ہمارے بڑے لیڈروں نے اور برِصغیر کے مسلمان دانشوروں یا مستند علماء نے یہ نعرہ کبھی نہیں لگایا تھا۔ غالباً یہ نعرہ سیالکوٹ کے شاعراصغر سودائی نے جوش میں آکر سٹیج پر لگا دیا تھا ۔عوام میں یہ نعرہ مقبول ہو گیا، لیکن اس نعرے کی روح کو سمجھے بغیر ۔

اَن پڑھ نیم ملُاؤں نے ہر حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے یا ہمارے جاہل عوام کے مذہبی جذبے کا استحصال کرنے کے لئے، یہ نعرہ بہت کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ نظامِ مصطفی اور شریعت کے نفاذ کا سیاسی نعرہ ہماری دینی سیاسی جماعتوں نے لاالہ الا اللہ کے نعرے کو بنیاد بنا کر ہی تخلیق کیا۔

ہجوم نعرہِ تکبیر، نعرہِ رسالت اور نعرہِ حیدری لگا کر ریاستی اِملاک کی توڑ پھوڑ شروع کر دیتا ہے۔ حکومتِ وقت ڈر کر کچھ فلاحی کام کرنا بھی چاہتی ہو تو نہیں کرتی۔خوف کے مارے دُبک کر بیٹھ جاتی ہے۔ ابھی حالیہ دِنوں میں ہم نے اِن جاہل اور گالیاں دینے والے ملُاؤں کی طاقت کا نظارہ کیا ہے۔

جنرل ضیاء کے حکومت سنبھالنے سے پہلے بھی پاکستان میں اچھے بھلے ثِقہ مسلمان ہی بستے تھے۔ فرقہ بندی اگر تھی بھی تو فرقہ پرستی میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔

ابھی عربی زبان اور عربی ناموں کا بہت زیادہ چلن نہیں تھا۔ ہمارے ہاں مردوں کے نام مثلاً بابر، ہمایوں، شہباز،خرم، اقبال، جاوید، غلام رسول وغیرہ بہت پسند کئے جاتے تھے۔

عورتوں کے نام ثریا، فرزانہ، رخسانہ، افشاں، نور جہاں بہت مقبول تھے۔ ہماری ثقافت، جو 900 سال سے فارسی زبان سے متاثر تھی، یکایک جنرل ضیاء کے آنے کے بعد اِراداتاً پیچھے دھکیلی جانے لگی۔

ہمارااہلِ ہنر طبقہ جب عرب ممالک میں ملازمت کے لئے گیا تو وہ بھی ملائم اِسلام کو چھوڑ کر Orthodox اور سلفی اِسلام سے متاثر ہونے لگا۔

عرب ملکوں نے اس ٹرینڈ کو غنیمت جانا اور ایرانی / عربی تاریخی مخاصمت کو بڑھاوا دیتے ہوئے پاکستان کے عوام میں پلاننگ کے ساتھ ’’عربیت‘‘ کے لئے جگہ بنانی شروع کر دی۔ رُوس، افغان جنگ کی وجہ سے ہمارے ملک کے بڑے حصے کے عوام عرب کلچر سے مزید متاثر ہونے لگے۔ جنرل ضیاء کے زمانے میں ہر سرکاری دفتر میں عبادت گاہیں بنانی لازم ہو گئیں۔ ہر افسر نہ چاہتے ہوئے بھی نماز پڑھنے کا دِکھاوا کرنے لگا۔چھوٹے ملازموں نے ظہر کی نماز کے بہانے دوپہر کے بارہ بجتے ہی وضو ، نمازِ باجماعت اور پھر لنچ کے وقفے کو ساتھ مِلا کر گھنٹوں کے حساب سے اپنی سیٹ سے غیر حاضر رہناشروع کر دیا۔ افسروں اور ماتحتوں کی اے سی آر میں نماز کی ادائیگی کا خانہ بہت اہم ہو گیا۔

اپنے آپ کو اسلام پسند ظاہر کرنے کے لئے اچھے خاصے داڑھی منڈوں نے داڑھیاں بڑھا لیں اور بطور Moreover اپنے ہاتھوں میں عموماً تسبیاں بھی پکڑ لیں۔

سرکاری صاحب لوگوں ، بینکوں کے چھوٹے بڑے افسروں، یونیورسٹیوں کے اُستادوں اور طلباء کی اکثریت نے بزعمِ خود اسلامی لباس یعنی شلوار قمیض پہننی شروع کر دی۔

حالانکہ دنیا کا ہر لباس اسلامی ہے اگر اُس کو پہن کر نماز ادا کی جا سکتی ہے خواہ وہ پتلون ، لنگی یا تہبند ہو، ساڑھی یا عبایا ہو۔ یعنی ہماری اکثریت نمائشی اسلام کے ڈھانچے میں نظر آنے لگی۔

جنرل ضیاء کے داعی اجل ہوتے ہی سرکاری دفتروں کے نمازی کمرے کسی سرکاری مصّرف میں آنے لگے یعنی ختم ہو گئے۔جنرل ضیاء تو چلے گئے، لیکن روائتی مذہبی حلقے اپنے اپنے مسلکوں ،عقیدوں کے ساتھ خم ٹھوک کر سامنے آگئے کیونکہ جنرل ضیاء کی زندگی میں ایک مخصوص فرقہ جو عرب ممالک کے زیرِ اثر تھا وہ ہی حکومتی حلقوں میں بہت زیادہ اثر ورسوخ رکھتا تھا۔

جنرل ضیاء کے ہٹنے کے بعد دوسرے فرقے بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے آگے بڑھے۔ 20 برس پہلے ٹیلیفون انڈسٹری اور بصری میڈیا میں ابھی اِنقلابی ترقی نہیں آئی تھی۔ 20 سال پہلے کے مختلف فرقوں کے پیرو کار اپنے عقیدے کی ترویج کے لئے اخباری میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے تھے یا پھر تبلیغی اجتماع اور مجالس کے ذریعے عوام تک پہنچتے تھے۔

جب سے سمارٹ فون ایجاد ہوا اُس کے ذریعے انہوں نے اپنے اپنے طور سے اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ یو ٹیوب، میسنجر، واٹس ایپ، ایس ایم ایس اور انسٹا گرام کے ذریعے قرانی آیات، وظیفے، تبلیغی تقریریں اور نیکی کی باتیں عوام تک پہنچنی شروع ہو گئیں، لیکن اس کے ساتھ ہی شدّت پسند مسلمانوں کی گمراہ کُن تقریریں بھی سمارٹ فون میں آنا شروع ہوگئیں۔

کم علم مُلاّؤں کی جاہلانہ اور فرقہ وارانہ پنجابی تقریریں سوشل میڈیا پرسنی جانے لگیں۔ عوام کی فہمِ اسلام مزید اُلجھنے لگی۔تنگ نظر مسلمانوں نے ہمیں خدا حافظ کہنے پر ٹوکنا شروع کر دیا۔ ثواب کمانے کے شوقین مسلمانوں نے ہر جمعہ والے دِن جمعہ مبارک کے واٹس ایپ پر پیغامات دینے شروع کر دیئے۔

ایک مخصوص چینل کے سربراہ نے ٹیلی ویژن پر ثواب کمانے کے نسخے بتانے کو ہی خدمتِ اسلام سمجھ لیا ۔ مثلاً کیلے اور دوسرے پھلوں کو قبلہ رُخ رکھنے سے ثواب ملتا ہے۔

سر پر فلاں رنگ کی پگڑی باندھنے سے جنت ملتی ہے۔ اِسلام جو دراصل ہمیں اس دنیا میں عملی طور پر زندگی گذارنے کی راہ دِکھاتا ہے ،ہمارے تنگ نظر اور فسادی مُلاؤں نے دین کو عقل سے عاری رسموں کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا اور یہ ہی کم علم مُلاں ’’عاشقان اسلام‘‘ بن گئے۔ سیاسی مولوی اقتدار اور پرمٹوں کے حصول کے لئے اسلام کی دھونی سادہ صفت مسلمانوں کو دے کر اپنی ویلیو بڑھانے میں لگا ہوا ہے۔

آج کی دنیا کمرشل ہوچکی ہے ، ہر تاجر خواہ چھوٹا ہو یا کارپوریٹ حیثیت کا مالک، مذہب کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ موبائل فون کمپنیوں نے مذہبی Ringtones بنا کر ہمارے بھولے بھالے، لیکن دین کے علم سے عاری عوام سے پانچ یا دس روپے اس کے علاوہ ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔

مذہبی رنگ ٹونز استعمال کرنے والے زیادہ تر نچلے درجے کے سرکاری ملازمین یا اَن پڑھ غریب عوام ہوتے ہیں جو اپنی دانست میں اِسلام کا پیغام پھیلا کر ثواب کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔

پچھلے 20 برسوں میں مذہب کو ذریعہ تجارت بنالیا گیا ہے اس لئے ہم عمرہ کمپنیوں کی بہتات دیکھتے ہیں جو وزاتِ مذہبی امور کے تعاون سے عمرے اورحج کے کوٹے منظور کرواتی ہیں۔

اِن عمرہ کمپنیوں نے اپنے ایجنٹ مارکیٹ میں چھوڑے ہوتے ہیں جو عقیدت مند پاکستانیوں کو عمرے کی ترغیب اس تواتر سے دیتے ہیں کہ سادہ آدمی یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اپنے محدود مالی وسائل کی وجہ سے عمرے کے اخراجات برداشت نہ بھی کر سکتا ہو وہ عمرہ ضرور کرے گا۔

ہمارے ملک کا ہر چھوٹا بڑااپنے آپ کو اسلامی دکھانے میں مصروف ہے خواہ وہ حرام کماتا ہو، ریاست کے قوانین کی دھجیاں بکھیرتا ہو، ملاوٹ کرتا ہو، لیکن اگر اُس کے نام کے ساتھ حاجی کا ٹائٹل لگ گیا ہے تو اُس کے سب کرتوُتوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔میَں اپنا مضمون اس جملے پر ختم کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ ہماری مسلمانیت کا پر چار ہونا ضروری ہے۔

ُشد پریشاں خوابِ من ازکثربِ تعبیرہا

مزید : رائے /کالم