خادمِ اعلیٰ پہلے ملتان کو لاہور بنائیں

خادمِ اعلیٰ پہلے ملتان کو لاہور بنائیں
خادمِ اعلیٰ پہلے ملتان کو لاہور بنائیں

  

جس روز خادم اعلیٰ شہباز شریف نے بوریوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہا کہ اگلی بار موقع ملا تو کراچی اور پشاور کو بھی لاہور کے برابر لے آئیں گے، اُسی روز ملتان کی معروف سماجی و دینی شخصیت سید علی رضا گردیزی نے وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرکے سوشل میڈیا پر یہ پیغام جاری کیا کہ آپ پہلے ملتان کو تو لاہور کے برابر لے آئیں۔ دوسرے صوبوں کی بات چھوڑیں، انہوں نے کہا کہ ملتان پنجاب کا دوسرا بڑا شہر تھا، جو اب پانچویں نمبر پر آگیا ہے اور یہ سب خادم اعلیٰ کی امتیازی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ لاہور سے نکلنے والی ترقی ملتان تک آتے آتے ہانپنے کیوں لگتی ہے؟ مسلم لیگ(ن) کے بڑے بڑے جلسے تو جنوبی پنجاب میں ہوتے ہیں، لودھراں میں عین مشکل وقت پر ایک بڑی فتح بھی مل جاتی ہے، لیکن جب ترقی کا معاملہ آتا ہے تو ہاتھ کھینچ لیا جاتا ہے۔

پشاور اور کراچی تو پہلے ہی جنوبی پنجاب سے بہت آگے ہیں۔ وزیر اعلیٰ صرف سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے انہیں لاہور کے برابر لانے کی بات کرتے ہیں، حالانکہ انہیں پنجاب پر توجہ دینی چاہیے، جو لاہور سے باہر بستا ہے اور جس میں پسماندگی اور محرومی کے سب لوازم موجود ہیں۔

سید علی رضا گردیزی نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ درحقیقت جنوبی پنجاب کے ہر شخص کی آواز ہے۔ لاہور کی ترقی کے دعوے کرکے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔

کیا وزیر اعلیٰ ملتان کو لاہور کے برابر لانے کا دعویٰ اس وقت کریں گے، جب جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن جائے گا اور ملتان اُس کا دارالحکومت ہوگا۔ کیا اب یہ اُن کی ذمہ داری نہیں کہ اپنے صوبے کے تقریباً نصف حصے کا احساسِ محرومی دور کریں۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی امتیازی سلوک روا رکھا جائے۔ خادمِ اعلیٰ کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے پر غور کریں کہ وہ اس خطے کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔

آئے روز ملتان آتے اور نواب صادق حسین قریشی کی پرانا شجاع آباد روڈ پر واقع رہائش گاہ وائٹ ہاؤس اُن کا مسکن ہوتی۔ یہ وہی تھے جنہوں نے ملتان کو پہلی یونیورسٹی دی۔

وہ اس خطے کی سیاسی و اقتصادی اہمیت کو سمجھتے تھے، انہیں پانچ برس مزید مل جاتے تو شاید اس علاقے کی تقدیر سنور جاتی۔ وہ ملک کے وزیر اعظم ہو کر بار بار ملتان کے دورے پر آتے تھے، شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود ہوا کے جھونکے کی طرح کبھی کبھار ملتان یا جنوبی پنجاب کے دورے پر آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔

مجھے نہیں یاد کہ شہباز شریف نے اپنے طویل دور اقتدار میں کبھی ایک رات بھی ملتان میں گزاری ہو۔یہاں سے جو لوگ تختِ اقتدار پر بیٹھے، انہوں نے کئی کئی دن اور راتیں بھی یہاں گزاریں، مگر ملتان کے لئے کیا کچھ نہیں۔ سابق گورنر و وزیر اعلیٰ نواب صادق حسین قریشی بھی اپنے اقتدار کے دنوں میں یہاں بار بار آتے تھے۔

یہ روایت مخدوم سجاد حسین قریشی نے بھی بطور گورنر برقرار رکھی۔ غلام مصطفیٰ کھر کے بھی ملتان میں پھیرے لگتے تھے۔ سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے بھی اپنے گھر کی بلٹ پروف دیواریں بنوالیں اور ملتان کو شرف میزبانی بخشتے رہے۔ اب گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ بھی آئے روز کئی کئی دن ملتان میں بیٹھتے ہیں، مگر کرتے کچھ نہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی کے سوا ملتان کے لئے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ جو بھی یہاں سے اقتدار میں گیا، لاہور یا اسلام آباد کا ہورہا۔ ملتان کی محرومیاں اُسے صرف اُسی وقت یاد آئیں، جب اقتدار سے محروم ہوگیا۔

شہباز شریف پر لوگوں کی نظر اس لئے جاتی ہے کہ وہ پنجاب پر ایک عرصے سے حکمرانی کررہے ہیں، چونکہ اُن کا امیج بھی عوام کی نظر میں اچھا ہے کہ وہ ترقیاتی کام کراتے ہیں، اس لئے یہ بات جنوبی پنجاب کے عوام کو زیادہ شدت کے ساتھ چبھتی ہے کہ انہوں نے صرف لاہور تک ہی اپنی توجہ کیوں مرکوز رکھی، باقی صوبے خصوصاً زیریں پنجاب پر توجہ کیوں نہیں دی؟ ملتان کو میٹروبس تو مل گئی، چند سڑکیں بھی کشادہ ہو گئیں، مگر اسے لاہور جیسی ترقی تو نہیں کہہ سکتے۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ ملتان کو ترقی یافتہ شہر بنا دیا گیا تو اس کے اثرات پورے جنوبی پنجاب تک پہنچیں گے۔ بالکل اسی طرح جیسے لاہور کی ترقی کے بعد گوجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ بہت زیادہ ترقی کر گئے ہیں، اگر جنوبی پنجاب کا مرکزی شہر ہی پسماندہ ہوگا تو باقی علاقے کیسے ترقی کر سکیں گے؟

ملتان کو نئی یونیورسٹیاں ملنی چاہئیں، نئے ہسپتال بننے چاہئیں، نئے صنعتی زون قائم ہونے چاہئیں تاکہ روز گار کے مواقع بڑھیں۔ سیوریج کا نظام اور صاف پانی کی فراہمی جیسے معاملات بھی توجہ کے محتاج ہیں۔ صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے ایک ادارے کو ختم کر کے اس کی جگہ دوسرا ادارہ بنا دینے سے تو ترقی نہیں ہوتی۔

اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ملتان کا سب سے بڑا گرلز کالج ختم کر کے کچہری روڈ پر واقع اس کی عمارت میں خواتین یونیورسٹی قائم کر دی گئی۔

اس کالج میں شہر کی 14 ہزار طالبات پڑھتی تھیں، جبکہ یونیورسٹی بننے کے بعد چند سو طالبات پڑھ رہی ہیں۔ والدین اپنی بچیوں کو دور دراز کے کالجوں میں بھیجنے پر مجبور ہیں۔ کئی بار وعدے ہوئے کہ گرلز کالج کچہری روڈ کو بحال کر دیا جائے گا اور یونیورسٹی نئے کیمپس میں منتقل کی جائے گی، مگر کسی کو توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں۔ حالت یہ ہے کہ خواتین یونیورسٹی ملتان تقریباً ایک سال سے بغیر وائس چانسلر کے چل رہی ہے۔

اب اس قسم کے فیصلوں سے خادمِ اعلیٰ کے بارے میں یہاں کے عوام کوئی مثبت رائے کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ زرعی اور انجینئرنگ یونیورسٹیاں بھی چھوٹی چھوٹی عمارتوں میں قائم کر دی گئی ہیں، جو بذاتِ خود احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہیں۔

آج اگر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) ایک جشن کا سا سماں باندھے ہوئے ہے تو وہ لودھراں کی فتح کے باعث ہے، ہر جگہ اسی فتح کی مثال دے کر نوازشریف اپنے خلاف فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں، گویا جنوبی پنجاب نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ میاں صاحب لودھراں کے عوام کا شکریہ ادا کرتے نہیں تھک رہے، لیکن کیا صرف اتنا ہی حق ہے جنوبی پنجاب والوں کا کہ وہ جب بڑھ چڑھ فتح دلائیں تو ان کا شکریہ ادا کر کے حساب برابر کر دیا جائے۔ میں ابھی دو روز پہلے ہی بہاولپور سے واپس ملتان آیا ہوں۔

درمیان میں یہ لودھراں بھی پڑتا ہے۔ لودھراں سے ملتان تک جی ٹی روڈ کا حال دیکھ کر آدمی کا لہو گرم ہو جاتا ہے۔ اتنی اہم سڑک کا یہ حال ہے کہ پانچ کلومیٹر کی رفتار سے تیز گاڑی نہیں چلتی، جگہ جگہ شکستگی اور جگہ جگہ گڑھے۔۔۔ کاش نوازشریف یا شہباز شریف اس سڑک سے ملتان کا سفر کرتے، انہیں پتہ چل جاتا کہ یہاں کے عوام کس قدر عذاب بھگتنے کے باوجود آپ کی حمایت کرتے ہیں۔

نوازشریف آج لودھراں والوں کا شکریہ تو ضرور ادا کر رہے ہیں، تاہم انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لودھراں کے عوام نے اس حقیقت کے باوجود کہ پچھلے ضمنی انتخاب میں نوازشریف نے ساڑھے تین ارب روپے کا جو پیکیج دیا تھا وہ درمیان میں ہی کہیں رہ گیا، نوازشریف کے نام پر ووٹ دیا، بلکہ پہلے سے زیادہ ووٹ ڈالے۔

کیا دلچسپ بات ہے کہ جہانگیر خان ترین کو ہرانے کے لئے نوازشریف نے لودھراں میں خود جلسہ کیا تھا اور اربوں روپے کے منصوبے بھی دیئے تھے، مگر اس بار انہوں نے نہ تو کوئی جلسہ کیا اور نہ ہی کوئی پیکیج دیا، مگر اس کے باوجود ان کا امیدوار 26 ہزار ووٹوں سے جیت گیا۔

اب مسلم لیگ والے تو کہتے ہیں یہ نوازشریف کے بیانیے کی جیت ہے، جو انہوں نے نااہلی کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے اختیار کیا، تاہم میرا خیال ہے کہ لودھراں کے عوام نے اپنی پرانی وابستگی کو تازہ کیا ہے۔

جہانگیر خان ترین نے تو چند سال ہوئے یہاں ڈیرے جمائے ہیں، صدیق خان کانجو بہت پہلے نوازشریف کا دست و بازو تھے۔ لودھراں نے ابھی تک ان سے بڑا سیاستدان پیدا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیٹے عبدالرحمن کانجو یہاں سے ہمیشہ جیتتے ہیں۔ اب بھی ان کی کھلی سپورٹ اور الیکشن مہم نے پانسہ پلٹ دیا۔

شریف برادران ذرا سوچیں کہ محرومیوں اور پسماندگی کے باوجود ان کے لئے جنوبی پنجاب میں اتنی محبت موجود ہے، اگر انہوں نے اس علاقے کو اپنے ترقیاتی منصوبے کا ہدف بنایا ہوتا تو آج کوئی دوسری جماعت یہاں نظر نہ آتی۔ یہاں کے لوگوں کی یہ صفت بہت بڑی حقیقت ہے کہ یہ لوگ احسان فراموش نہیں ہیں۔ یہ جس کی قدر کرتے ہیں، دل سے کرتے ہیں۔

لاہور بے شک شریف برادران کی ہمیشہ ترجیح رہا ہے، خادمِ اعلیٰ کی تو ساری سوچ ہی اس کے گرد گھومتی ہے، لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ صرف لاہور انہیں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نہیں بنا سکتا، اس کے لئے پورے صوبے کی حمایت ضروری ہے۔ ملتان کی ترقی جنوبی پنجاب کی ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔

ملتان میٹروبس چلی ہے تو پورے جنوبی پنجاب کو یہ پیغام ملا ہے کہ صوبائی حکومت اس علاقے پر بھی توجہ دے رہی ہے، اس طرح ملتان کو جس قدر لاہور کے برابر ترقی یافتہ شہر بنایا جائے گا، اتنا ہی تختِ لہور سے نفرت کم ہوتی جائے گی۔

شہبازشریف وزیراعظم بن کر بے شک کراچی اور پشاور کو لاہور کے برابر لے آئیں، مگر فی الوقت تو وہ ملتان کو لاہور کے برابر لانے پر توجہ دیں، اگرچہ ان کے پاس وقت کم رہ گیا ہے، لیکن جس برق رفتاری سے وہ کام کرتے ہیں، اس کم وقت میں بھی وہ ملتان کو بہت کچھ دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دینے کا ارادہ کرلیں، کیونکہ انہیں وزارتِ عظمیٰ کے سنگھاسن پر کسی اور نے نہیں جنوبی پنجاب کے عوام نے ہی بٹھانا ہے، تاہم اس کے لئے خادم اعلیٰ کو ترجیحات بدل کر جنوبی پنجاب اور ملتان کو سب سے زیادہ اہمیت دینا ہوگی، کم از کم اتنی کہ جتنی وہ لاہور کو دیتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم