پی ایس ایل کی کہکشاں اور اس کے ستارے

پی ایس ایل کی کہکشاں اور اس کے ستارے

 پاکستان سپر لیگ دبئی اور شارجہ کی روشنیوں سے مزین اور تاریخی سٹیڈیمز میں22 فروری سے شروع ہوکر 25 مارچ تک کھیلا جائے گا پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کے لیگز میچز دبئی اور شارجہ جبکہ سیمی فائنلز لاہور اور فائنل روشنیوں کے شہر کراچی میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان سپر لیگ میں اس مرتبہ چھ ٹیمیں ایک دوسرے کے مدمقابل آرہی ہیں ملتان سلطانز کی ٹیم پہلی مرتبہ شائقین کوایکشن میں نظر آئے گی۔ ٹیموں میں ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد جلوہ گر ہورہی ہیں اور اپنے اپنے کھیل سے شائقین کو محظوظ کرنے کے لئے بے چین ہیں مگر ایک طرف تو اس لیگ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور اس کو کامیاب بنانے کے دعوے کئے جارہے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے ہی سابق لیجنڈ کھلاڑی اس لیگ کے خلاف ہیں اور اس لیگ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے مالی فوائد کی مشین قرار دے رہے ہیں اس حوالے سے سابق کپتان اور ہیڈ کوچ محسن حسن خان کا کہنا ہے کہ لیگ میرے خیال میں فضول ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں سوائے کرکٹ بورڈ کے اعلی عہدے داران کے لئے جو صرف اس کا انعقاد پیسہ بنانے کے لئے کررہے ہیں اور اس کی کامیابی کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں مجھے ایسے لوگوں پر شرم آتی ہے جو کرکٹ کی بحالی کے لئے بجائے اس کو نقصان پہنچانے کے لئے کام کررہے ہیں میرے خیال میں اس لیگ سے ٹیلنٹ اور پیسہ کو ضائع کیا جارہا ہے اسی طرح سے پاکستان کے کئی سابق کھلاڑی بھی اس لیگ کے انعقاد سے خوش نظر نہیں آتے اور ان کا بھی یہ ہی موقف ہے کہ لیگ کا انعقاد یا تو پاکستان میں ہوتا مگر پی سی بی اس حوالے سے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے شائقین کرکٹ بھی مایوسی کا شکار ہیں کسی بھی ملک کی لیگ کسی اور ملک میں کروانا کوئی فخر کی بات نہیں ہے بلکہ یہ شرمناک بات ہے جبکہ کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کے اعلی عہدے داران صرف اپنا ٹی اے ڈی اے بنانے اور سیر و تفریح کے لئے اس حق ہی میں نہیں کہ پاکستان میں لیگ ہو ورنہ اگر سنیجدگی سے بورڈ اپنا کام کرے تو اس کا پاکستان میں انعقاد کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔جبکہ لیگ میں پہلی مرتبہ شریک ٹیم ملتان سلطانز کی کپتانی کے فرائض قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک کررہے ہیں ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں کیون پولارڈ، کمارا سنگاکارا، سہیل تنویر،محمد عرفان،جنید خان،صہیب مقصود، عرفان خان، کاشف بھٹی، عمران طاہر، ڈیرن براوو،احمد شہزاد، محمد عباس،نکولس پوران، عبداللہ شفیق،سیف بدر، ہارڈس ویلون،عمر گل، عمر صدیق،روز ویٹلٹنی اور شان مسعود شامل ہیں۔ ملتان سلطانز کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ افتتاحی میچ میں عمدہ پرفارمنس سے اپنی فتوحات کا آغاز کریں گے ۔ جیت کے لئے پرعزم ہیں بطور کپتان اور بیٹسمین میری کوشش ہوگی کہ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کروں۔ ملتان سلطانز کے ٹاپ بیٹسمینوں کی بات کی جائے تو ان میں احمد شہزاد کا نام سرفہرست ہے جنہوں نے اب تک پی ایس ایل میں18 میچ کھیلے ہیں اور29.5 کی تناسب سے 531 رنز بنائے ہیں۔ اس لئے وہ حریف ٹیم کے لئے ایک بہت بڑاخطرہ ثابت ہوسکتے ہیں اور ٹیم کو ان سے بہت امیدیں بھی وابستہ ہوں گی۔ کپتان شعیب ملک کا ریکارڈ بھی پاکستان سپر لیگ میں بہت اچھا ہے۔کراچی کنگز ٹیم کی کپتانی کے فرائض آل راؤنڈر عماد وسیم سر انجام دے رہے ہیں جبکہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں عثمان خان، اسامہ میر،خرم منظور، روی بوپارہ،بابر اعظم،محمد عامر، محمد رضوان،شاہد خان آفریدی،کولن انگرام، جوئے ڈینلے، ڈیوڈویسز، تابش خان،محمد عرفان جونئیر، حسن محسن،تائمل ملز، لینڈی سیمنز، ایون مورگن اور سیف بنگش اور محمد طحہ اور مشتاق احمدکلہورو شامل ہیں۔کراچی کنگز ٹیم کے کپتان عماد وسیم کا کہنا ہے کہ مجھے ٹیم کی اس سال کپتانی سونپی گئی ہے اور میری کوشش ہوگی کہ میں پوری ٹیم کو ساتھ لیکر چلوں اور ٹیم جیت سے ہمکنار ہوں اور ہماری ٹیم شائقین کی امیدوں پر پورا اترے ۔کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم کی بات کی جائے تو اس نے اب تک پی ایس ایل میں اٹھارہ میچ کھیلے ہیں اور انہوں نے بارہ وکٹیں اپنے نام کیں ہیں انہوں نے بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ اٹھارہ رنز کے عوض تین وکٹیں ہیں جبکہ بیٹنگ میں کراچی کنگزکی جانب سے روی بوپارہ جن کا انگلینڈ سے ہے نے اب تک پاکستان سپر لیگ میں اب تک انیس میچ کھیلے ہیں جن کی اٹھارہ اننگز میں انہوں نے 448 رنز بنائے ہیں ان کا پی ایس ایل کے ایک میچ میں سب سے زیادہ سکور71 ہے جن میں انہوں نے دو نصف سنچریاں بھی سکور کی ہوئیں ہیں اس طرح سے وہ اپنی ٹیم کی جانب سے بیٹنگ کے شعبہ میں بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ لاہور قلندرز کی کپتانی کی بات کی جائے تو 2016 میں سب سے پہلے اس کی کپتانی کے فرائض سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی کے پاس تھی اور اس کی قیادت میں ٹیم نے سات میچ کیھلے تھے اور ان میچوں میں دو جیتے تھے او ر پانچ میچوں میں لاہور قلندرز کی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ ٹیم کی ناقص ترین کارکردگی تھی جبکہ اس کے بعد 2016 میں ہی اظہر علی کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ان کو ہٹا کر ٹیم کا کپتان ڈیوائن براوو کو بنایا گیا اور ان کی کپتانی میں ٹیم نے ایک میچ کھیلا اور اس میچ میں بھی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس کے بعد اب 2017 میں نیوزی لینڈ کے کرکٹر برینڈن میکولم کو کپتان کا منصب دیا گیاتھا اور ان کی کپتانی میں ٹیم نے آٹھ میچ کھیلے تھے اور ان میچوں میں ٹیم نے تین جیتے اور ٹیم کو پانچ میچوں میں شکسست کا سامھنا کرنا پڑا تھا اس طرح سے اب تک پی ایس ایل میں سب سے کمزور ٹیم لاہور قلندرز کی رہی ہے جس نے سب سے زیادہ میچوں میں شکست کا سامنا کیا ہے اور اس مرتبہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیسی پرفارمنس کا مظاہرہ کرتی ہے لاہور قلندرز کی ٹیم نے اب تک سولہ میچ کھیلے ہیں اور ان میں سے پانچ میچ جیتے ہیں اور گیارہ میچوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ٹیم نے اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف اب تک چار میچ کھیلے ان میں سے اس کو دو میچ میں کامیابی ملی اور دو میچ ہی ہارے جبکہ ٹیم نے کراچی کنگز کے خلاف چار میچ کھیلے جن میں سے ایک میچ جیتا اور تین میچوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کے علاوہ لاہور قلندرز کی ٹیم نے پشاور زلمی کے خلاف اب تک چار میچ کھیلے ہیں جن میں سخے اس کو ایک میچ میں کامیابی ملی اور تین میچوں میں اس کو شکست ہوئی ۔لاہور قلنذدرٹیم میں شامل کھلاڑیوں میں کپتان برینڈن میکولم کیمرون ڈی پورٹ،فخر زمان،سہیل اختر،کرس لیون، عمراکمل، گلریز صدف،سہیل خان،سنیل نارائن، غلام مدثر، میچل میکلین، رضاحسن،عمران خان، مستنصر رحمان شامل ہیں۔ لاہور قلندرز کی ٹیم کی خاص بات یہ ہے کہ اس ٹیم میں پورے پاکستان کئی کھلاڑیوں کو ان کی کارکردگی کی بناء پر چن چن کر شامل کیا گیا ہے اور سب سے زیادہ نوجوان کھلاڑی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔کوئٹہ گلیڈرز کی ٹیم کی کپتانی کے فرائض قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد سر انجام دے رہے ہیں ۔کپتان سرفراز احمد کے علاوہ کیون پیٹرسن،ری روسو،اسد شفیق، سعد علی،رمیض راجہ،جوسن رائے،سعود شکیل، عمر امین،محمد نواز،جان ہیٹنگز، محمد اعظم خان، حسن خان،میر حمزہ، راشد خان،راحت علی، فراز احمد، مورکل،کرس گرین،بین لافنگ شامل ہیں اب تک اس ٹیم کی کارکردگی کی بات کی جائے توجن میں سے اس نے بارہ میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور سات میچوں میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک میچ بغیر نتیجہ کے ہی ختم ہوگیا۔ اسی طرح سے اگر دیگر ٹیموں کے ساتھ میچوں کی بات کی جائے تو اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف اس نے پانچ میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس کو دو میچ جیتے ہیں اور اس کو تین میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے علاوہ کوئٹہ گلیڈرز کی ٹیم نے کراچی کنگز کے خلاف اب تک اس نے چار میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس کو چاروں میچوں میں ہی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہ ایک منفرد ریکارڈ ہے لاہورقلندرز کے خلاف اس نے اب تک چار میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس کو تین میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس کو صرف ایک میچ میں ہی شکست ہوئی اور اس کے خلاف بھی اس کی کارکردگی بہت ہی اچھی رہی ہے اس کے علاوہ اس نے پشاور زلمی کے خلاف اس نے اب تک سات میچ کھیلے ہیں جن میں سے اس کو تین میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی اور تین میچوں میں اس کو شکست کا سامآا کرنا پڑا اور اس طرح سے ایک میچ بغیر نتیجہ کے ختم ہوگیا اس طرح سے اب تک اس نے مجموعی طور پر اچھی پرفارمنس دی اور اس مرتبہ بھی اس حوالے سے یہ امید کی جارہی ہے کہ ٹیم اچھی پرفارمنس کامظاہرہ کرے گی اور ٹیم کے تمام کھلاڑی اس حوالے سے پر امید ہیں اور جس طرح سے اب نے پچھلے ایڈیشنوں میں عمدہ پرافارمنس دی ہے اس طرح سے اس مرتبہ بھی اس سے بہت اچھی پرفارمنس کی امید ہے۔ پشاور زلمی کی ٹیم پاکستان سپر لیگ میں اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔ ٹیم کے اونر جاوید آفریدی ہیں جنہوں نے بھاری معاوضہ کے عوض کھلاڑیوں کو اس مرتبہ خریدا ٹیم کے دیگر سٹاف کوچنگ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آئی سی سی کے سابق سربراہ ظہیر عباس ٹیم کے صدر ہیں ٹیم کے سابق کپتان اور بیٹسمین یونس خان ٹیم کے بیٹنگ کوچ اور مانیٹر کے فرائض سر انجام دیں گے ۔ ٹیم کے فیلڈنگ کوچ اور فٹنس ٹریننر گرینڈ لوڈین ہیں ابراہیم قریشی اسسٹنٹ کوچ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں فزیو کے فرائض بریڈ روبنسن ہیں اورعثمان ہاشمی اینالسٹ ہیں پشاور زلمی کی طرف سے 2016 میں شاہد خان آفریدی نے کپتانی کے فرائض سر انجام دئیے آفریدی کی قیادت میں پشاور زلمی کی ٹیم نے دس میچ کھیلے تھے جن میں سے اس نے چھ میچ جیتے اورچار میچوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد 2017 میں اس کی کپتانی ویسٹ انڈیز کے سابق کرکٹر ڈیرن سمعی کوملی اور ان کی قیادت میں ٹیم نے گزشتہ ایڈیشن میں گیارہ میچ کھیلے جن میں سے ٹیم کو چھ میچوں میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اور چار میچوں میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ ایک میچ بغیر نتیجہ کے ہی ختم ہوگیا تھا اب تک ٹیم نے 21 میچ ٹوٹل کھیلے ہیں جن میں میں سے پشاور زلمی کی ٹیم نے آٹھ میچوں میں ناکامی ہوئی ہے اور بارہ میچوں میں ٹیم کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ایک میچ بغیر نتیجہ کے ختم ہوا ۔پشاورزلمی نے اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف اب تک پانچ میچ کھیلے ہیں جن میں سے دو جیتے اور تین میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا کراچی کنگز کے خلاف اس نے پانچ میچ کھیلے جن میں سے چار میچ جیتے اور ایک میچ میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لاہور قلندرز کیخلاف اس نے چار میچ کھیلے ہیں جن میں سے تین میں اس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور ایک میچ میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس طرح سے اسکی کامیابی کا تناسب بہتر رہا ہے کوئٹہ گلیڈرز کے خلاف اس نے سات میچ کھیلے اور تین میچ جیتے ہیں اور تین ہی میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن پشاور زلمی ایونٹ میں 10 راونڈ میچز کھیلے گی جس میں اس کی کارکردگی ٹیم کے مستقبل کے سفر کا تعین کرے گی۔پشاور زلمی کی برانڈ ایمبسٹراداکارہ مائرہ خان اور ٹی وی اداکار حمزہ علی عباسی ہیں۔جبکہ گزشتہ سیزن کی فاتح ٹیم پشاور زلمی اس بارشاہد آفریدی کی خدمات سے محروم ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں اسام آباد یونائٹڈ کی ٹیم کپتان مصباح الحق کی قیادت میں میدان میں اترے گی اسلام آباد ٹیم کی کوچنگ کے فرائض ڈین جونز سر انجام دے رہے ہیں ٹیم کے اونر لیونل گلوبل انویسٹمٹ ہے۔اس ٹیم سے یہ امید کی جارہی ہے کہ اس میں شامل کھلاڑی اس مرتبہ بھی بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے ٹیم کی جانتب سے سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑیوں میں ڈیون سمتھ سرفہرست ہیں جبکہ فاسٹ باؤلر محمد سمیع نے سب سے زیادہ وکٹیں اپنے نام کی ہوئیں ہیں اور اس ٹیم میں پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کی کرکٹ ٹیموں کے نامور کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو ان میں کپتان مصباح الحق کے علاو ہ ایلکس ہیلمز،آصف علی،جے پی ڈمنی، افتخار احمد، صاحبزادہ فرحان، عماد بٹ، اینڈریو رسل، فہیم اشرف،شاداب خان،حسن طلعب، ڈیوڈ ویلے، سیم بلنگز،لیوک رونچی، محمد حسن،روحیل نذیر، محمد سمیع،رومان رئیس، سیموئیل بدری،ظفر گوہر اور محمد حسنین شامل ہیں ٹیم کے کوچنگ سٹاف کی بات کی جائے تو ٹیم کے ڈائریکٹر اینڈ باؤلنگ کوچ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز باؤلر وقار یونس ہیں جبکہ اس کے علاوہ توصیف احمد اسسٹنٹ کوچ ہیں سپن باؤلنگ کوچ کے فرائض پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق مایہ ناز باؤلر سعید اجمل سر انجام دے رہے ہیں اور ریحان الحق ٹیم کے جنرل مینیجر ہیں حسن چیمہ ٹیم مینیجر ہیں اگر بات کی جائے ٹیم کی اب تک کی پی ایس ایل میں کارکردگی کی تو اسلام آباد کی ٹیم نے اب تک پاکستان سپر لیگ میں 20 میچ کھیلئے ہیں اور ان میچوں میں اس نے 11 میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے اور لاس کو 9 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔*

مزید : ایڈیشن 2


loading...