اردو نظام تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا،تعلیمی ماہرین

اردو نظام تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا،تعلیمی ماہرین

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)نامور ماہرین تعلیم نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنا ہو گا،استاد صرف تعلیم کی بجائے تربیت کرنے کا بھی مجاز ہے۔قومی زبان اردو میں جب تک تعلیمی نظام نہیں آئے گا ترقی نہیں کر سکتے،تعلیمی ادارے طلباء کو نوکر بنا رہے ہیں اور ڈگریاں بیچ رہے ہیں ۔موجودہ نظام تعلیم میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے تبدیلی آئی،اس کے نقصانات سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ اساتذہ اپنے سکولوں میں تھنکر اور ریڈرزکلب بنائیں ۔ مہذب معاشرے کی تشکیل کے لئے اخلاقیات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار فاؤنڈیشن آف ایفیکٹیوایجوکیشن اینڈ لرننگ کے تحت علی آڈیٹوریم میں دوسرے سالانہ ایک روزہ سیمینارسے ڈائریکٹر Feel انجینئر نویدقمر، نامور ماہرین تعلیم پروفیسرظفر اقبال ، محمد جمیل نجم،ڈاکٹر مظہر جمیل ، سلمان آصف صدیقی،شاہد وارثی،ڈاکٹر محمد انور جمال ، محمد بابر،عبدالحیی خان،انجینئر ذیشان وارث و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار میں سکولز،کالجز کے اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ماہرین تعلیم نے وطن عزیزمیں درپیش تعلیمی مسائل اور ان کا حل پیش کیا۔سیمینار میں ملک کے نامورماہرین تعلیم نے اپنی گفتگو کے ذریعے نظام تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور سوالات وجوابات کی نشست کے ساتھ ساتھ اصلاحی خاکوں کے ذریعے سامعین کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا ۔انجینئر نوید قمر نے کہا کہ اسلام اللہ کا دین ہے،تعلیم بھی اس دین کا بہت بڑا حصہ ہے،دنیا کی اصلاح ،تعلیم و تربیت کے لئے اللہ نے نظام بنایا ہے،ماہرین تعلیم کو اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ اللہ کے بنائے ہوئے نظام سب سے اعلیٰ ہیں،ہمارے ماہرین تعلیم مغربی ملکوں کی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر ان کے نظریات سے متاثر ہو کر اسی لائن پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1