پسماندہ علاقوں تک علاج کی سستی سہولتیں پہنچانے کی ضرورت ہے صدر

پسماندہ علاقوں تک علاج کی سستی سہولتیں پہنچانے کی ضرورت ہے صدر

اسلام آباد(صباح نیوز)صد ممنون حسین نے کہا ہے کہ غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام تک علاج معالجے کی سستی سہولتیں پہنچانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ساتھ طبی ادارے اور پیشہ ورانہ انجنمیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔صدرنے یہ با ت ویں بین الاقوامی کارڈیک الیکٹروفیزیالوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر، سرجن جنرل و ڈی جی میڈیکل سروسز،لیفٹیننٹ جنرل زاہد حمید، پاکستان اور بیرون پاکستان سے آنے والے ماہرینِ امراضِ قلب نے بھی شرکت کی۔صدر مملکت نے کہا کہ دل کے امراض کی تشخیص، علاج اور جراحی کے مراحل اتنے مشکل ، طویل اور مہنگے ہیں کہ متوسط اور غریب طبقہ ان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں طبی تحقیق کا فقدان ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے درکار آلات اور مشینری درآمد کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے علاج کی لاگت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ علاج معالجے کے لیے استعمال ہونے والی دواں اور مشینری کا معیار بہترین ہو لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پیچیدہ امراض کے علاج میں آسانی پیدا کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ پسماندہ اور کم آمدنی رکھنے والے طبقات بھی اس سے مستفید ہو سکیں ۔پاکستان سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں اس سلسلے میں کامیاب تجربات ہوئے ہیں ۔ اگر آرمی میڈیکل کو ر، دیگر طبی ادارے اور پیشہ ورانہ تنظیمیں ان معاملات پر توجہ دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے توقع کا اظہار کیا کہ متعقہ ادارے اس معاملے پر توجہ دے کر ایک بڑی خدمت انجام دے سکتے ہیں ۔صدر مملکت نے کہا کہ امراضِ قلب کے پھیلا ؤکا اندازہ ان اعداد وشمار سے بھی ہوتا ہے جن کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ افراد ہر سال جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس اپنے مقاصد میں کامیاب رہے گی اور اس شعبے کے انتہائی تجربہ کارو ممتاز ماہرین کے درمیان تبادل خیال انھیں ایک دوسرے کے تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کے بہترین مواقع فراہم کرے گا۔

مزید : علاقائی


loading...