چینی مارکیٹ کو نظرانداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی ،احسن اقبال

چینی مارکیٹ کو نظرانداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی ،احسن اقبال

لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی و ترقیات پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ گوادر کے جدید پورٹ سٹی بننے سے اگلے 20سے 30سالوں میں وسطی ایشیا اور دیگر ممالک سے تجارت کا راستہ بنے گا۔ پاکستان کو مستقبل میں زرمبادلہ کے وسیع ذخائر کی ضرورت ہے۔ سالانہ برآمدات بھی پانچ سے سات ارب تک لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بیرونی براہ راست سرمایہ کاری 20 ارب ڈالر ہونی چاہیے تاکہ ہمارے وسائل بہتر ہو سکیں۔ ہمیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بھی بڑھانا ہو گا۔ حکومت ،پرائیویٹ سیکٹر، میڈیا اور ریاستی ادارے اوراوورسیز پاکستانیز سب معیشت کے انجن ہیں جو ملکی معیشت کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ موجودہ برانڈ مینجمنٹ کے دور میں ہم سب کو برانڈ سفیر بن جانا چاہیے جس کیلئے مثبت رویوں کا فروغ ناگزیر ہے اور پاکستان کی مثبت شکل کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ اگر ہم سب کمربستہ ہو جائیں تو پاکستان کو25 ٹاپ معیشتوں میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ہمارا گزشتہ سال گروتھ ریٹ 5.3 فیصد تھا جو ملک میں سیاسی بحرانوں کے باوجود 6 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس پاکستان ناردرن ریجنل کمیٹی کی جانب سے ، سی پیک، غلط فہمیاں اور حقائق ، کے موضوع پر مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعدمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے سی پیک منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی وجہ سے پاکستان کے ہر صوبے میں انفرااسٹرکچر کو بہتر کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ یہ کوریڈور خاص طور پر پورے پاکستان سے گزرے گا۔ اس عظیم منصوبے کے بلیو پرنٹ کے مطابق یہاں نئی سڑکیں، ہائی ویز، ریلویز، ائیرپورٹس اور گوادر پورٹ بنے گا۔ بہت سے ایشیئن ممالک کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے پاکستان ایک بڑا ذریعہ بنے گا۔ چین تقریبا ایک ٹریلین ڈالرز سے زیادہ امپورٹ کرتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس میں ہم اپنا کتنا حصہ لے سکتے ہیں۔ ہم وہ کونسی مصنوعات بنا سکتے ہیں جو ان کا ایک فیصد بھی لے لیں تو ہمیں کتنے اربوں ڈالرز کا فائدہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں چین کی مارکیٹوں میں جانا ہو گا، ان کے ساتھ روابط بڑھانے ہوں گے۔ان کی ضروریات کو سمجھنا ہو گا۔ اتنی بڑی مارکیٹ کو اگر ہم نے نظرانداز کیا تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ اس لیے ہم نے پاکستانی اور چائنیز بزنس اسکول کنسورشیم بھی بنایا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے بزنس مین اور تمام سیکٹرز کو یکجا کریں اور بی ٹو بی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔حکومت انفرااسٹرکچر بنادے گی لیکن بی ٹو بی نہیں کر سکتی۔ اب یہ پروفیشنلز کا فرض ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ اپنے کارپوریٹ انٹینا میں چین کی مارکیٹ کو فٹ کریں۔ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ سی پیک نے ایک گڈول پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے ۔ ہم نے اب ایک اقتصادی قوم بننا ہے۔ نعرے بازی سے نکل کر، دھرنوں کو چھوڑ کر ہمیں پیدواری، معیار اور ایجادات کی دوڑ میں دوسری قوموں کے ہم پلہ ہونا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...