نون غنہ بھل گیا سی۔۔۔

نون غنہ بھل گیا سی۔۔۔
نون غنہ بھل گیا سی۔۔۔

  

چندا میرے اگر قوم نوازشریف پر اعتماد کر رہی ہے، انہیں دھڑا دھڑ ووٹ دے رہی ہے، ان کا چمکتا ماتھا چودھویں کے چاند کی طرح دور تک مزید چمکدار ہو رہا ہے تو ہمیں مان لینا چاہئے۔

کم از کم جمہوریت تو یہی کہتی ہے، چور چور ڈاکو ڈاکو کے شور شرابے اپنی جگہ لیکن قوم جو فیصلہ کرتی ہے، وہ درست ہوتا ہے۔ ضمنی انتخابات میں انگوٹھوں نے ٹھپے لگا کر یہ بات ثابت کر دی کہ بڑے بھیا کو آپ جو مرضی کہو ووٹ ان کا ہی ہے یعنی پنچوں کا کہا سر آنکھوں پر۔ پر پرنالہ وہیں بہے گا۔ یہی جمہوریت کی خوبصورتی ہے اور اس خوبصورتی کے ثمرات ہم پچھلے ستر سال سے ودھ ودھ کر انجوائے کر رہے ہیں۔

اب ضمنی انتخابات کی فتح کے شور میں میرے بابے رحمتے کی آواز دب رہی ہے تو مَیں کیا کروں۔ ہمیں وہ انصاف چاہئے جو ہماری مرضی کا ہو۔

ہمیں مت سناؤ کہ غربت کی لکیر مزید گہری ہو گئی ہے یا میاں خاندان کے اثاثے چھپڑ پھاڑ کر ساتویں آسمان تو پہنچ گئے ہیں یا میرے شوہنے موہنے حسن حسین کی شہریت پاکستان کی نہیں ہے۔ ہمارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے ابا ہمارے فل ٹائم پرائم منسٹر ہیں۔

ہمارے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی کیا بات ہوگی کہ چھوٹے بھیا نے کہہ دیا ہے کہ اس بار کامیاب ہو کر وہ ایک کڈنی اور ایک کینسر ہسپتال بنائیں گے، اب تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنے گردوں کی حفاظت کے لئے انہیں وہ موقع ضرور دیں جو انہیں پینتیس سال میں نہ مل سکا۔

ان کی ننھی ننھی خواہشیں ضرور پوری ہونی چاہئیں، چرسی نے اپنی آنکھیں عطیہ کر دیں۔ ڈاکٹر نے نمناک آنکھوں سے اس سے کہا اس عظیم موقع پر آپ کچھ کہنا چاہیں گے۔

وہ بولا: بس جس کو یہ آنکھیں لگیں، اسے بتا دینا کہ یہ دو سگریٹوں کے بعد کھلتی ہیں۔ نجانے ہمیں کتنی سگریٹیں درکار ہوں گی۔ اس چرسی کی آنکھیں تو ہم سے زیادہ عظیم ہیں، یعنی کم از کم کھل تو جاتی ہیں۔

میری درخواست یہی ہے کہ اگر ضمنی انتخابات کے نتائج کو سٹینڈر ڈمان لیا جائے اور بڑے بھیا پر تمام الزامات بمعہ ثبوت کسی گندے نالے میں پھینک دیئے جائیں۔

عین جمہوریت تو یہی ہے کم از کم ضمنی انتخابات کے سوٹے تو ہماری آنکھیں نہیں کھول سکتے۔ رہی ہمارے عمران خان کی بات تو یہ طے ہے کہ لودھراں جیسے سو الیکشن بھی ہو جائیں تو کبھی سبق نہیں سیکھیں گے۔ ہم تو اس پوزیشن میں نہیں کہ انہیں سبق سکھا سکیں، انہیں سبق جہانگیر ترین اور ان کے گرد کھربوں پتیوں کی فوج سکھائے گی جو انہیں آہستہ آہستہ ایک لیڈر سے سیاست دان بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

دیار مصر میں دیکھا ہے میں نے دولت کو

ستم ظریف پیغمبر خرید لیتی ہے

ہر بندے کی ایک قیمت ہوتی ہے، غریب گردوں کے ہسپتالوں کی تعمیر کے وعدوں، انصاف پر مبنی معاشرے کے دعوؤں اور میڈیا میں جمہوریت کے لئے قربانیوں کی کہانیوں پر بک جاتے ہیں اور قیمے والے نان اور بریانی کی پلیٹیں کھڑکاتے ہوئے گاتے ہیں، ماہی میریا روند نہ ماری میں دا لایا جند جان دا۔

اور جند جان کو اپنے خاندان کی پڑی ہوتی ہے۔ ان کے لئے ہر جوا کھیل جاتا ہے حتیٰ کہ ضمیر اور عزت کا بھی۔ ہر سودے میں بھل چک لین دین ہوتا ہے لیکن قوموں کے مستقبل کے سودوں میں یہ رعایت کم ہی ملتی ہے۔

یہ اس بھک منگی زندہ بتوں کی پوجا کرنے والی قوم کی بدقسمتی ہی ہے کہ یہاں درجنوں وزیراعظم آئے ایک آدھ لیڈر آ جاتا تو شاید بات بن جاتی جو لیڈر بننے بھی لگا اس کو پھائے لگا دیا گیا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ ہمیں کبھی اسلام کبھی سوشلزم کبھی لبرل ازم اور کبھی جمہوریت کے گیت سنائے گئے ہم نے کبھی لفظوں کو غور سے سنا ہی نہیں۔

سنتا سنگھ کی بہن پریتو بولی پائن ایپل کھاؤ گے اور سنتا نے حیران ہوکر دیکھا پھر اسے سمجھ آئی۔ پریتو سیب تھماتے کہہ رہی تھی پھائن (بھائی) ایپل کھاؤ گے۔ ہم تو سنتا سنگھ بھی نہیں جو جلد اصل معاملے کی تہہ تک پہنچ سکیں۔

ہم شیروں، چیتوں یا ہاتھیوں کے پیچھے چل کر جنگل کے قانون سے نجات تلاش کرتے رہے ہیں۔ ویسے اگر ہمیں سمجھ آ بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ بولیں گے تو چھتر پڑیں گے۔ ٹھڈے پڑیں گے۔ بھیا سمجھا کرو جہاں ہیرو شیر چیتے یا سٹی ٹائیگر ہوں وہاں جنگل کا قانون ہوتا ہے۔

میاں صاحب نے ایس ایم ایس کیا چائے بنا دو۔ بیگم کا غصے کا جواب آیا۔ کیا کہا تمہاری یہ جرات۔ صاحب بولے سوری نون غنہ ڈالنا بھول گیا۔ لکھنا تھا چائے بنادوں؟؟؟

ہماری سیاست کی پھولن دیوی ایک بار پھر فارم میں ہیں۔ شکر ہے انہوں نے ایس ایم ایس فیم خان صاحب کی جان بخشی کرتے ہوئے اپنی توپوں کا رخ بڑے بھیا کی طرف کردیا ہے۔ بندہ میزائل ضرور ہو لیکن مس گائیڈڈ نہ ہو کہ جس جس طرف منہ ہوا چل پڑا۔ گاؤں کی پنچایت میں ایک مائی کو بطور گواہ پیش کیا گیا۔

وکیل نے کہا ماں جی آپ مجھے جانتی ہیں۔ وہ بولی ہاں پتر تو رفیقے کمہار کا پتر ہے۔ ابھی کل کی بات ہے تیری نک وگدی تھی اور تو پاٹا نکر پاکے نالیوں پر بیٹھا ہوتا تھا۔ وکیل نے گھبرا کر بات بدلی اور پوچھا آپ میرے مخالف وکیل کو جانتی ہیں۔ وہ بولی آہو بیٹا یہ رشیدے نائی کا بیٹا ہے۔

ماشا اللہ اب تو بڑا وکیل ہے ورنہ محلے کی ساری ککڑیاں اس نے چوری کرکے کھالی تھیں۔ کتنا سوہنا لگ رہا ہے کبھی اس چول کی شکل دیکھنے والی تھی ایک نمبر کا ٹھرکی تھا۔ اچانک پنچایت کے مکھیا نے دونوں وکیلوں کو اپنی طرف بلایا اور آہستہ سے کہا اگر تم نے یہ کہا مائی تم مکھیا کو جانتی ہو تو میں تمہارا عبرتناک انجام کردوں گا۔

ہماری سیمی ینگ لیڈی نے خان صاحب کے بعد میاں صاحب کو بتا دیا اللہ خیر کرے ان کا رخ ملک کے مکھیا کی طرف نہ ہو جائے۔ رشتہ کیلئے آنے والے نوجوان سے لڑکی کے باپ نے پوچھا تمہاری آمدن کتنی ہے۔

وہ بولا تیس ہزار۔ صاحب بولے تم جانتے ہو میری بیٹی کی پاکٹ منی ہی پچیس ہزار ہے۔ وہ بولا جی جی میں نے وہ بھی شامل کرکے آمدنی بتائی ہے۔ خان صاحب جب حساب کریں گے تو یقیناًگلالئی کے کھاتے میں میاں صاحب کے حوالے سے بیان کو ضرور شامل کریں گے۔

چلیں جی یہ موج میلے یونہی چلتے رہیں گے لیکن میری ایک بات لکھ لیں جو نظر آ رہا ہے وہ اصل نہیں ہے۔ بھٹو مرحوم کے وقت کہا جاتا تھا کہ قبر ایک ہے اور مردے دو اور پھر اس قبر میں منتخب وزیراعظم کو لٹا دیاگیا۔

اس بار سیاسی قبر ایک اور مردے تین ہیں، خطرناک موڑ ہے۔ بڑے بھیا نے الگ جنرل الیکشن میں ضمنی الیکشن والا ایکٹ کھڑکا دیا تو پھر اقتدار کی جنگ میں بننے والی قبر میں کوئی اور ہوگا اگر ایسا ہوا تو بہت برا ہوگا اور اگر کوئی اور نہ ہوا تو اس سے بھی برا ہوگا۔

کیا سارے برے نتائج ہمارے لئے ہی رہ گئے ہیں۔ کوئی اچھی خبر کوئی اچھا نتیجہ کوئی بہار جیسی ہوا کوئی کن من بارش جیسا خوشگوار موڑ ہمارے نصیب میں ہے بھی کہ نہیں یا ہم ڈکیتوں کی داستانوں، بابو ں کے غصے بھرے طعنوں اور کھلاڑیوں کے گالیوں پر مبنی خطابوں کیلئے ہی رہ گئے ہیں۔

استاد نے سنتا سنگھ سے پوچھا ماضی کے بادشاہوں کے متعلق کیا جانتے ہو؟ وہ بولا استاد جی سب مرکھپ گئے سن۔ یہی بادشاہوں کا المیہ ہے، ساری دولت تخت تاج محل چوبارے یہیں رہ جاتے ہیں۔ ماضی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن کون عبرت حاصل کرتا ہے بھلا۔

مزید : رائے /کالم