سیاست دان رول ماڈل ہیں ، سوچ سمجھ کر گفتگو کریں:ادیب و دانشور

سیاست دان رول ماڈل ہیں ، سوچ سمجھ کر گفتگو کریں:ادیب و دانشور

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستانی سیاست دانوں کی تقاریر میں جس قسم کی بازاری زبان استعمال کی جا رہی ہے اس سے اندازہ ہورہاہے کہ وہ کس طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔بازاری زبان کا استعمال حکمرانوں کا کام نہیں ہے۔سیا ست دان رول ماڈل ہوتے ہیں ان کو سوچ سمجھ کر گفتگو کرنی چاہیے ۔جب سے سیاست میں دولت،جاگیر اور جائیداد شامل ہوئی ہے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ’’روز نامہ پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ادیبوں،دانشورں اور شعرا نے کیا۔بشریٰ رحمان نے کہا کہ ناشائستہ زبان کسی بھی طبقہ کی جانب سے استعمال کی جائے وہ مناسب نہیں ہے انسان کا پہلا نقطہ اس کی زبان ہی ہوتی ہے۔شیخ سعدی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب تک انسان گفتگو نہیں کرتا اس وقت تک اس کے عیب اور ہُنر چھپے رہتے ہیں۔انسان کی گفتگو اس کے کردار ،فیملی اور سوشل بیک گراؤنڈ کا پتا دیتے ہیں۔حسین مجروح نے کہا کہ نواز شریف،زرداری اور عمران خان اپنی تقاریر میں جس قسم کی زبان استعما کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے خاص طور پرتین بار ملک کے وزیر اعظم بننے والے نواز شریف سپریم کورٹ کے خلاف اپنی تقاریر میں کھلم کھلا جو گفتگو کررہے ہیں اور اپنے خلاف دیئے گئے فیصلے کو للکار رہے ہیں وہ انتہائی نا مناسب ہے ۔سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے ان کو سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے ۔ان کی زبان اس سطح پر چلی گئی ہے کہ ان کی باتیں سن کر افسوس ہوتا ہے ۔ہمارے سیاست دانوں کی گفتگو دن بدن پست سے پست تر ہورہی ہے ہمارا میڈیا بھی اس حوالے سے اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام نہیں دے رہا ۔ناصر بشیر نے کہا کہ ہماری ملکی سیاست میں جب سے دولت ،جاگیر اور جائیداد شامل ہوئے ہیں ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے اس کا واضح اثر ہمارے سیاست دانوں کی تقاریر میں نظر آرہا ہے۔گالم گلوچ،دروغ گوئی اور بہتان تراشی کو ہمارے سیاست دان معمول کی بات سمجھنے لگے ہیں۔اس حوالے سے میرا ایک شعر ہے’’بہت حسین ہے اسلوب طعنہ و دشنام،کہاں سے شہر میں یہ خوش کلام آئے ہیں‘‘۔مجلس ترقی ادب کے ڈائریکٹرڈاکٹر تحسین فاراقی نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد چرچل سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہ انگلستان کا مستقبل کیا ہے تو جواب میں اس نے کہا تھا کہ جس ملک کی عدلیہ مضبوط ہوگی وہ ہمیشہ ترقی کرے گا۔ہمارے ملک کا سب سے بڑا آئینی ادارہ سپریم کورٹ ہے ہم سب کو اس کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...