پنجاب یونیورسٹی ہنگامے میں ملوث طلبہ کیخلاف کارروائی کا آغاز

پنجاب یونیورسٹی ہنگامے میں ملوث طلبہ کیخلاف کارروائی کا آغاز

لاہور ( ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے 22 جنوری کو ہنگامہ کرنے والے طلباء کے خلاف پہلے مرحلے میں سخت کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جمعیت کے 13 اور پشتون ،بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 طلباء کو مستقلاََ یونیورسٹی سے نکال دیا ہے جبکہ پشتون بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مزید 6 طلباء کو ایک سال کے لئے یونیورسٹی سے نکالنے کی سزا دے دی۔ دوسری جانب ڈسپلنری کمیٹی نے شواہد کے بنیاد پر کارروائی کے دوسرے مرحلے کا آغازکرتے ہوئے مزید 30 طلباء کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ ہنگامے میں ملوث طلباء کے خلاف پہلے مرحلے میں یہ کارروائی ٹھوس شواہد بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی و دستاویزی شہادتوں کی بنیاد پر کی گئی۔ مستقل طور پر نکالے جانے والے جمعیت کے 12 طلباء میں اسامہ اعجاز، منیب فاروق، راحت علی، سکندر کاکڑ، محمد انیب افضل، احمد ذکریا، عبدالبصیر، اسامہ بن شفاعت، ہدایت اللہ، سمیع اللہ خان، ذیشان اشرف، میاں ارسلان اور عارف الرحمن شامل ہیں جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے مستقل طور پر نکالے جانے والے پشتون اور بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 4 طلباء میں اسفند یار، عالمگیر خان، نعیم وزیر، پائیدین خان شامل ہیں جبکہ پشتون / بلوچ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے ایک سال کے لئے نکالے جانے والے 6 طلباء میں معظم علی شاہ، مقبول لہری، سلمان وزیر، سلمان احمد، وارث خان اور اشرف خان شامل ہیں جبکہ ایک طالبعلم احمد خان کو وارننگ جاری کرتے ہوئے تین ماہ تک زیر نگرانی رہنے کی سزا دی گئی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی ترجمان کے مطابق متعلقہ طلباء قانون کے مطابق پندرہ روز میں کمیٹی کے فیصلے کے خلاف وائس چانسلر کو اپیل دائر کر سکتے ہیں،نیورسٹی انتظامیہ کسی طالبعلم تنظیم کے دباوٗ میں نہیں آئے گی۔ انکوائری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف کسی قسم کا غیر قانونی ردعمل ظاہر کرنے والے طلباء کے خلاف حکمت عملی تیار کی جا چکی ہے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

پنجاب یونیورسٹی

مزید : صفحہ آخر