خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے: سراج الحق

خواتین کو وراثتی حق سے محروم کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے: سراج الحق

اسلام آباد (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے انہیں وہ تمام حقوق دینا ہوں گے جو اسلام اور شریعت نے لازمی قرار دیے ہیں ۔ اسلام سے بڑھ کر خواتین کو کسی دوسرے مذہب نے حقوق نہیں دیے ۔ مغربی این جی اوز کے اشاروں پر چلنے والا موم بتی مافیا خواتین کو حقوق کے نام پر اپنے گھروں سے نکالنا اور انہیں چادر اور چار دیواری سے محروم کرنا چاہتاہے ۔ خواتین کو وراثت کے حق سے محروم کرنے والوں کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاتی جبکہ ہونی چاہئے ۔ جاگیر کی تقسیم کے خوف سے بچیوں کو گھر بٹھا کر بوڑھا کر دیا جاتاہے ۔ ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو امیدوار اپنی جائیداد میں سے اپنی بہن اور بیٹی کو اس کا حصہ دینے کے دستاویزی ثبوت پیش نہ کرسکے اس کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے، خواتین کو ملک میں اسلامی انقلاب اور شریعت کے نفاذ کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوسکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی مرکزی شورٰی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاہے کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب نے خواتین کا استحصال کیا اور عورت کی آزادی کے نام پر اسے گھر کی ملکہ بنانے کی بجائے بازار کی زینت بنادیا اور خاندان کی کفالت کا بوجھ بھی اس کے کندھوں پر ڈا ل دیا گیا ۔ ملک میں خواتین کی نصف سے زائد آبادی کے لیے تعلیم ، صحت اور روزگار کے شعبوں میں انہیں ان کی شرح آبادی کے مطابق سہولتیں ملنی چاہئیں ۔ خواتین کے لیے سکول کالجز اور یونیورسٹیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اکثر سرکاری ہسپتالوں میں خواتین کے لیے لیڈی ڈاکٹرز اور علیحدہ وارڈ ز کا انتظام نہیں ۔ تنگ نظر حکومتوں نے بچیوں کو تعلیم سے محروم کر رکھا ہے ، خاص طو ر پر قبائلی علاقوں میں خواتین کے تعلیمی اداروں ، میڈیکل کالجز اور خواتین یونیورسٹیوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر


loading...