درندے کا انجام ، انسداد ، دہشتگردی عدالت کا زینب کے قاتل کو 4بار موت ، عمر قید کی سزا کا حکم فیصلے سے مطمئن ہیں ،سرعام پھانسی دی جائے ، والدامین انصاری

درندے کا انجام ، انسداد ، دہشتگردی عدالت کا زینب کے قاتل کو 4بار موت ، عمر قید ...

 لاہور،قصور(نامہ نگار،بیورورپورٹ)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سجاد احمد نے کوٹ لکھپت جیل میں کمسن زینب سمیت 8بچیوں کی بے حرمتی اور انہیں قتل کرنے کے مقدمہ کے مجرم عمران علی کو 4بار موت ،عمرقید،32 لاکھ روپے جرمانہ اور لاش چھپانے پر 7 سال قید بامشقت کا حکم سنا دیا ہے ،عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ مجرم کو جان نکلنے تک تختہ دار پر لٹکایا جائے۔ عدالت نے جرمانے کی رقم سے 10لاکھ روپے ورثاء کوبھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت لاہور کے جج سجاد احمد نے محفوظ کیا گیا فیصلہ گزشتہ روزکوٹ لکھپت جیل میں سنادیاہے ۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے وقت زینب کے والدمحمد امین، چچا اور بھائی کے علاوہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر، پراسیکیوشن ٹیم،ملزم عمران علی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا،عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل دو بار فیصلے کا جائزہ لیا اور ایک مرتبہ پھر مجرم سے اقبال جرم کے حوالے سے استفسار کیا جس کے بعد فاضل جج نے محفوظ کیا گیا85صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔زینب کے والد عدالت کے فیصلے پر مطمئن نظر آئے ،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زینب کے والدین کا کہنا تھا کہ وہ ایسا فیصلہ چاہتے تھے کہ جسے پوری دنیا یاد رکھے۔اس موقع پر زینب کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا اب بھی مطالبہ ہے کہ جس مقام پر زینب کو اغواء کیا گیا مجرم کو اسی جگہ پر سر عام سزا دی جائے۔دوسری جانب زینب کے چچا نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔زینب کے بھائی کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری بہن کے قاتل کو سزا دی گئی جب کہ اب بھی مطالبہ سرعام پھانسی دینے کا ہے۔ دوسری جانب قصور میں قتل ہونے والی بچیوں ایمان فاطمہ اور عائشہ کے والدین نے بھی میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ یہ فیصلہ زینب کا ہے باقی سات بچیوں کا نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کے مجرم عمران کو سر عام پھانسی دی جائے۔

زینب قتل کیس

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہونے والے پراسکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ہائی پروفائل قتل کا ٹرائل خود اپنی نگرانی میں مکمل کروایاجبکہ ڈپٹی پراسکیوٹر وقار عابد بھٹی کا کہنا ہے کہ ملزم عمران علی نے اعتراف جرم کیا، ملزم علی عمران کو ابھی صرف زینب قتل کیس میں سزا سنائی گئی ہے، باقی7بچیوں کے ساتھ بداخلاقی اور انہیں قتل کرنے کے مقدمات میں ملزم کو سزا ہونا ابھی باقی ہے۔پراسیکیوٹر احتشام قادر کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کی خاص توجہ کی وجہ سے ملزم کو گرفتار کیا گیا ،عدالتی تاریخ میں یہ خوش آئند ہے کہ پہلی بار سائنٹیفک شواہد کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے ،ملزم نے ٹرائل شروع ہونے پر نہ صرف زینب بلکہ تمام بچیوں کے جرم کا اعتراف کیا تھاپراسکیوشن نے فیئر ٹرائل کو موقع دیاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کو اپیل کے لئے 15 دن کا وقت دیا گیا ہے،سیریل کلر نے 9 بچیوں سے بداخلاقی کی 7 بچیوں کی موت ہو چکی ہے، 2 بچیاں زندہ ہیں،ملزم نے آخر پر کہا تھا کہ اس نے خود ہی قتل کیاملزم کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل ہائیکورٹ میں دائر کر سکتا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...