دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے پاکستان نہیں افغانستان میں ہیں ، جنرل باجوہ

دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے پاکستان نہیں افغانستان میں ہیں ، جنرل باجوہ

 میونخ (مانیٹرنگ ڈیسک )پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے پاکستان نے کالعدم القاعدہ، تحریک طالبان اور جماعت الا حرار کو شکست دیدی، آج فخر سے کہہ سکتے ہیں پاک سرزمین پر دہشت گردوں کا کوئی منظم کیمپ موجود نہیں۔جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی امور سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب میں انکا مزید کہنا تھا دہشت گردوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں جہاں سے پاکستان میں حملے ہورہے ہیں،پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغانستان میں دہشتگردوں کی موجو د گی پر پاکستان کو تشویش ہے، ہم وہ کاٹ رہے ہیں جو 40 سال پہلے بویا گیا۔آرمی چیف نے "خلافت کے بعد جہاد ازم" کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا خود پرقابورکھنا بہترین جہاد ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء نے مذہب کے نام پر کی جانیوالی دہشت گردی کیخلا ف فتویٰ دیا ہے،جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کو حاصل ہے۔ ہم نے2017 میں آپریشن ردالفساد شروع کیا، پاکستان ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنیوالے ملکوں میں شامل ہے۔دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں، ایک وقت تھا جب پا کستا ن سیاحوں کی پسندیدہ جگہ تھی۔ انتہا پسندی کو جہاد نہیں کہنا چاہیے ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کررہے ہیں ، پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں صرف فوجی آپریشن نہیں کررہا بلکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنیوالوں کیخلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔ پوری قوم کی مشترکہ کوششوں سے دہشت گردی کاخاتمہ کیاگیا۔ افغانستان کیساتھ سرحد پر بائیو میٹرک نظام نصب کیا گیا، افغانستان میں امن و استحکام کیلئے تعاون کرنے کو تیار ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔جنرل باجوہ نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا جاچکا ہے جبکہ داعش کے دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی کی اطلاعات ہیں۔پاکستان میں تاحال 27 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں ، وقت آ گیاہے افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے ، دہشتگر دی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا کردار بے مثال ہے۔

مزید : صفحہ اول