ایران کا 18ماہ کیلئے چا بہار بندر گاہ انڈیا کو لیز پر دینے کا معاہدہ

ایران کا 18ماہ کیلئے چا بہار بندر گاہ انڈیا کو لیز پر دینے کا معاہدہ

 نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )ایران نے چابہار بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول انڈیا کے سپرد کرنے کیلئے ایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں۔ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتہ کو دلی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد کہا دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور وہ علاقے سے دہشتگردی کا مسئلہ ختم کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں لیکن دہشتگردی کو کسی مذہب سے منسو ب نہیں کیا جانا چاہیے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایران اور انڈیا نے نو معاہدوں کو حتمی شکل دی جن میں سب سے اہم معاہدہ چابہار بندرگاہ کے بارے میں ہے جو انڈیا کی مدد سے تعمیر کیا جارہا ہے جو گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہے۔اس معاہدے کے تحت انڈیا کو 18 مہینوں کیلئے بندرگاہ کے پہلے فیز کا آپریشنل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ صدر روحانی نے یہ بھی کہا ایران اپنے جوہری پروگرام پر مغر بی دنیا کیساتھ ہونیوالے معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ اس معاہدہ کو مسنوخ کرنا چاہتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں اور ایران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو انڈیا کیلئے بھی نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔حسن روحانی انڈیا کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے جس کا آغاز انھوں نے حیدرآباد سے کیا تھا۔مذاکرات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا انڈیا چابہار کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے میں ایران کی مدد کرے گا۔انڈیا جنوبی ایران کے اْن آئل فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنے کیلئے کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی ممکنہ مالیت اربوں ڈالر ہوگی لیکن برسوں سے جاری مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ۔

چا بہار

مزید : صفحہ اول