بانکپن کو ترسے گا

بانکپن کو ترسے گا
بانکپن کو ترسے گا

  

عاصمہ جہانگیر اس دنیا سے اس طرح رخصت ہوں گی، یہ کبھی ان کے خیال میں آیا ہوگا نہ ہی ان کے کسی مداح (یا ناقد) نے سوچا ہوگا۔ چھیاسٹھ برس کی ہو چکی تھیں، لیکن چاق و چوبند تھیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں پیش ہوتیں اور مقدمات کی پیروی باقاعدگی سے کرتی تھیں۔

کچھ نہ کچھ مرض تو لاحق تھا، لیکن ان پر غلبہ نہیں پا سکا تھا، یہ کہنا تو غلط نہیں ہوگا کہ وہ اس پر غلبہ پا چکی تھیں، لیکن چھٹی کے دن، اپنی خواب گاہ میں بیٹھے بیٹھے برادرم اعظم نذیر تارڑ سے طلال چودھری کے مقدمے پر گفتگو کرتے کرتے، زبان بند ہوئی، گردن ڈھلک گئی اور ٹیلی فون ہاتھ سے گر گیا۔

چند لمحے پہلے میاں نوازشریف بھی ان سے ہم کلام ہوئے تھے۔ تارڑ صاحب ٹیلی فون کرتے رہ گئے، لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکا کہ کیا قیامت گزر گئی ہے۔

انہیں ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ وہاں جا چکی تھیں جہاں جانا تو ہم سب کو ہے، لیکن واپس کسی نے نہیں آنا۔ اس دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی، ہر اہم مسئلے پر جس کی دھڑکن تیز تر ہو جاتی تھی اور جس میں خوف نام کی شے داخل نہیں ہو پاتی تھی۔

دھان پان سی عاصمہ کو شیر دل کہا اور سمجھا جاتا تھا، اور زمانے کے سارے خداؤں سے بیک وقت لڑنے کا جذبہ اُن میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

سیاست زدہ فوجیوں، متکبّرججوں اور شدت پسند مولویوں سے الجھنے میں ان کو خاص مزا آتا تھا، الفاظ اور معانی پر گرفت کبھی ڈھیلی پڑ جاتی ، کبھی بدذوقی کا گمان بھی گزرتا، لیکن اکثر اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر وار کرتیں، نشانہ کم ہی خطا ہوتا۔

عاصمہ بڑے باپ کی بیٹی تھیں۔ملک غلام جیلانی نے ایوب خان ہی کے زمانے میں اپنی اعلیٰ سرکاری ملازمت کو لات ماری تھی، اور پاؤں کوچہ ء سیاست میں رکھ دیا تھا۔ 1962ء کے غیر جماعتی انتخابات میں ساہیوال سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اپنی قادرالکلامی سے سماں باندھ دیا۔

تعلقات کا دائرہ اور دسترخوان دونوں وسیع تھے۔ حزب اختلاف کی رونقیں دوبالا ہو گئیں۔ اعلانِ تاشقند کے بعد شیخ مجیب الرحمن لاہور آئے تو ان ہی کے گھر ٹھہرے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان پل بنانے اور بننے کی آرزو ان کے دل میں کبھی مدھم نہ ہونے پائی۔

ایوب خان رخصت ہوئے، یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی تک نوبت آئی تو ان کا قلم تلوار بن گیا۔ یحییٰ خان کو نتائج وعواقب سے آگاہ کرنے کے لئے طویل خط لکھا، جسے ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ ملک غلام جیلانی پر زنداں کے دروازے کھل گئے، انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی عاصمہ درخواست گزار بن کر عدالت جا پہنچیں۔

اسی درخواست کے نتیجے میں چیف جسٹس حمود الرحمن کے زیر قیادت سپریم کورٹ کے بڑے بنچ نے یحییٰ خان کے مارشل لاء کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انہیں غاصب ٹھہرایا۔ اس مقدمے نے عاصمہ کی شہرت دور و نزدیک پھیلا دی۔ ملک غلام جیلانی کا یہ خط بھٹو صاحب کے دور کے آغاز میں میرے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ میں اس شان سے شائع ہوا تھا کہ سرورق پر ملک صاحب کی تصویر کا کیپشن تھا۔۔۔ ’’عوامی مارشل لاء کا پہلا اسیر‘‘۔۔۔ انہیں یحییٰ خانی قید سے رہائی دے کر پھر گرفتار کیا جا چکا تھا۔

ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کی اس جسارت نے ملک غلام جیلانی اور ان کی صاحبزادی کے ساتھ تعلق کی ایسی بنیاد رکھی کہ ماہ و سال جسے متاثر نہیں کر سکے۔

عاصمہ نے وکالت کا امتحان پاس کیا، پریکٹس شروع کر دی، مس عاصمہ جیلانی سے مسز عاصمہ جہانگیر بن گئیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی بنیاد رکھنے میں پیش پیش رہیں۔ اس کی صدارت بھی ان کے حصے میں آئی۔

عورتوں، اقلیتوں اور بے نواؤں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو خاص کر دیا۔ بے نظیر بھٹو کی دوستی کا دم بھرتی رہیں، نوازشریف پر افتاد پڑی تو ان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں۔

بین الاقوامی فورمز پر بھی ان کی بے باک آواز گونجی اور وہ پاکستان کی ایک عالمی شناخت بن گئیں۔ ایسی شناخت جو پاکستان کا سربلند کرتی اور اس میں سلگتی چنگاریوں کو دور و نزدیک متعارف کراتی تھی۔

وہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتی تھیں، جہاں رنگ، نسل، فرقے ، مذہب، علاقے کا کوئی تعصب نہ ہو، سب کے حقوق یکساں ہوں اور سب کا یکساں احترام کیا جائے۔ وہ سیکولر سیاست سے ناتا جوڑے ہوئے تھیں، قدیم فقہی ضابطوں کو تسلیم کرنے سے انکاری تھیں۔

فقہ کو اسلام سمجھنے والے ان پر شک کرتے رہے، لیکن وہ اپنی دھن کی پکی تھیں۔۔۔دل دریا سمندروں ڈونگے۔۔۔کون دلاں دیاں جانے ہو

’’دنیا نیوز‘‘ پر بہت پہلے ایک ایسا پروگرام شروع کیا گیا تھا، جس میں نوجوانوں کے ایک گروپ کے سامنے وہ، کامران شفیع اور مَیں اکٹھے بیٹھتے اور مختلف سوالات کے اپنے اپنے جواب دیتے تھے۔ عزیزم عمار مسعود اس کے پیش کار تھے۔

یہ پروگرام کچھ عرصہ جاری رہا، ہم آپس میں الجھنے کے بجائے مشترکات تلاش کرتے اور معاملے کی تہہ تک پہنچتے تھے۔ چند ہی ہفتوں بعد وہ کہنے لگیں کہ اگر رائٹسٹ آپ کی طرح ہو جائیں تو جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔

میری رائے تھی کہ لبرل اور سیکولر اگر دھیمے ہو جائیں تو دھینگا مشتی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے زیادہ تر مسائل ایسے ہیں جنہیں حل کرنے کے لئے مختلف الخیال عناصر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے سکتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر رخصت ہوئیں تو ان کے عقائد، نظریات اور خیالات کے بارے میں بدتمیزی کا طوفان برپا ہو گیا۔ وہ فرشتہ نہیں تھیں، انسان تھیں، اُن کی ہر بات سے اتفاق ضروری نہیں تھا اور وہ اس پر مصر بھی نہیں تھیں، ان کی کوتاہیوں یا خامیوں کو ڈھونڈ کر بغلیں بجانے والے، ان کی خوبیوں کو یاد کریں اور اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔

بے شک وہ پاکستان کی شان تھیں، کمزوروں کا سائبان تھیں، ہر صوبے کی زبان تھیں۔۔۔ انسانی حقوق کی پاسبان تھیں۔۔۔ دبانے والے ان کے سامنے دب جاتے تھے، گھبرا سے جاتے تھے، سینہ تان کر کھڑے نہیں ہو پاتے تھے۔۔۔ ان کی یہ ادائیں ہمیں ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔۔۔ قاسم جعفری نے کیا خوب شعر یاد دلایا ؂

زباں سخن کو، سخن بانکپن کو ترسے گا

سخن کدہ تری طرزِ سخن کو ترسے گا

دو اور جنازے

جس روز عاصمہ رخصت ہوئیں، اسی دن دو اور جنازے بھی اٹھے۔لاہور میں پروفیسر حنیف شاہد اور کراچی میں قاضی واجد نے داعیء اجل کو لبیک کہا۔ ان دو حضرات نے بھی بھرپور زندگی گزاری اور اپنے اپنے دائرے میں مثال بن گئے۔

حنیف شاہد اسی سال کے ہونے والے تھے، جبکہ قاضی واجد ستاسی بہاریں دیکھ چکے تھے۔ اول الذکر نے علامہ اقبال ، قائداعظم اور تحریک پاکستان کو موضوع بنایا، اور آخر دم تک تحقیق و تصنیف سے تعلق جوڑے رکھا۔

ان کی متعدد کتابیں چھپ کر خراج تحسین حاصل کر چکیں، جبکہ کئی ہنوز زیر طبع ہیں۔ ان میں سر شیخ عبدالقادر کی ضخیم سوانح حیات بھی شامل ہے۔

وہ بزم اقبال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر تھے، لیکن یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ سرکاری سطح پر ان کی وہ پذیرائی نہیں ہوئی، جس کے وہ مستحق تھے۔

قاضی واجد آواز اور عکس کی دنیا کے بادشاہ تھے۔ پہلے ریڈیو اور پھر ٹیلی ویژن کے ذریعے انہوں نے پاکستان کے ثقافتی ورثے میں بے پناہ اضافہ کیا۔مختلف ڈراموں میں ان کے کردار مقبول ہو کر ہر گھر کا حصہ بن گئے۔انہیں تمغہ حسن کارکردگی بھی عطا ہوا، لاریب وہ ایک نہیں ایسے کئی تمغوں اور اعزازات کے مستحق تھے۔

[یہ کالم روزنامہ ’’دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

مزید : رائے /کالم