چیئرمین میونسپل کمیٹی جلالپور پیروالا ڈرامائی انداز میں گرفتار

چیئرمین میونسپل کمیٹی جلالپور پیروالا ڈرامائی انداز میں گرفتار

جلال پور پیر والہ (نامہ نگار) ہفتے کی صبح ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والہ کے چیئرمین میونسپل کمیٹی خواجہ سلیم ستار ایڈووکیٹ کو تھانہ سٹی پولیس نے ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیا کچھ دیر تھانے میں رکھنے کے بعدپولیس اہلکارسلیم ستار کو پولیس وین میں بٹھا کر لے گئے اور وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ عدالت سے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے جا رہے ہیں جس کے بعدوائس چیئرمین میونسپل کمیٹی عبدالغفور نعمانی، کونسلرز (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

چوہدری ارشد نذیر، خادم حسین تھئیم، یحییٰ خواجہ اور لواحقین بڑی تعداد میں عدالت کے باہر انتظار کرتے رہے لیکن پولیس چیئرمین میونسپل کمیٹی کو عدالت لے جانے کے بجائے نامعلوم مقام پر لے گئی۔ لواحقین کے مطابق خواجہ سلیم ستار ہفتے کی صبح اپنی کار پر میونسپل کمیٹی میں اپنے دفتر کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں اچانک پولیس کی نفری نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور گاڑی سمیت تھانہ سٹی لے گئے۔ خواجہ سلیم ستار کے خلاف ان کی ایک رشتہ دار خاتون نے گذشتہ سال 18 جون کو الزام لگایا تھاکہ سلیم ستار اسے شادی کا جھانسہ دے کر جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ 2 روز بعد ڈی ایس پی جلال پور کے دفتر میں فریقین نے صلح کر لی تھی اور موقع پر ہی دونوں کا نکاح عمل میں آگیا تھا اس واقعہ کے اڑھائی ماہ بعد7 ستمبر کو خاتون نے پولیس کو دوبارہ اندراج مقدمہ کی درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کے نکاح میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی پولیس کی طرف سے مقدمہ درج ہونے پر خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے سلیم ستار نے ایڈیشنل سیشن جج اور پھر لاہور ہائی کورٹ ملتان میں عبوری ضمانت کے لیے رجوع کیا اور موقف اختیار کیا کہ اس کی منکوحہ خاتون نے چیئرمین شپ کے الیکشن میں شکست کھانے والے مخالف سیاسی گروپ کے ایمأ اور آشیر باد سے بلیک میل کرنے کے لیے ایف آئی آر درج کروائی ہے دونوں عدالتوں سے درخواستیں خارج ہونے پر 9 فروری کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں عبوری ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی۔سلیم ستار کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کرنے والے وکیل محمدعُزیر چغتائی کے مطابق رواں ہفتے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فوجداری مقدامات کی سماعت کے بنچ تشکیل نہ دئیے جانے کی وجہ سے ابھی تک ان کی دائر کردہ کریمنل پٹییشن نمبر 132 ایل سال 2018 اور دیگر افراد کے دائر کردہ فوجداری مقدمات کے لیے تاریخیں مقرر نہیں ہوئیں۔ قانونی طور پر سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر ہونے کے بعد کسی کو اس وقت تک گرفتار نہیں کیا جا سکتا جب تک سپریم کورٹ کوئی حکم جاری نہ کرے۔ سپریم کورٹ میں دائر شدہ کیس کی باضابطہ تصدیق شدہ نقول کی وصولی کے باوجود تھانہ سٹی پولیس کا سلیم ستار کو گرفتار کرنے کا اقدام غیر قانونی ہے اور تحویل میں لینے کے بعد مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی بجائے نامعلوم مقام پر رکھنا حبس بے جا میں رکھنے کے مترادف ہے۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی پولیس ظفر اقبال گرواہ سے اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کر لی۔

ڈرامائی گرفتار

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...