بہاول وکٹوریہ ہسپتال سی سی یو کارڈیالوجی میں لواحقین بلڈ ٹیسٹ کیلئے دربدر

بہاول وکٹوریہ ہسپتال سی سی یو کارڈیالوجی میں لواحقین بلڈ ٹیسٹ کیلئے دربدر

ڈیرہ بکھا (نمائندہ پاکستان) بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال سی سی یو کارڈیالوجی میں مریضوں کے لواحقین بلڈ ٹیسٹ کے لیے دربدر کے دھکیکھانے پر مجبور،سٹی سکین مشنین خراب باتھ روم بند،حشرات الارض کی بھرمار واڈ جونئیر ڈاکٹرز کے رحم وکرم پر۔ وزیر اعلیٰٰ نوٹس لیں۔مقامی صحافی آصف سلیم چوہدری صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ (بقیہ نمبر37صفحہ7پر )

14 فروری کی شام کو میرے والد خالد سلیم کے بازو اور سینے میں درد ہوا جن کو فوری طور پر بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال لے جایا گیا ایمرجنسی میں بنیادی ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا کہ ان کو دل کا دودہ پڑا ہے جس پر ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر سی سی یو کارڈیالوجی داخل کر دیا۔میں داخلہ بنوا کر اپنے والد کو سی سی یو کارڈیالوجی لے گیا جہاں پر کوئی بیڈ خالی نہ تھا تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہمیں بیڈ ملا تو ڈاکٹرز نے میرے والدکے ٹیسٹ کروانے کے لیے خون کے نمونے واڈ بوائے کے ذریعے ایمرجنسی کی لیباٹری میں بھجوائے لکین لیبارٹری سے خون کے نمونے یہ کہہ کر واپس کر دیے گئے کہ ہم صبح 8 بجے ٹیسٹ کریں گئے اب ٹائم ختم ہو چکا ہے۔ جس پر واڈ بوائے واپس آگیا اور ساری صورتحال سے سی سی یو کارڈیالوجی میں بیٹھے میل اور فی میل ڈاکٹرز کو آگاہ کیا۔جس پر میرے سمیت دیگر مریضوں کے لواحقین کو نمونے دے کر لیباٹری بھیجا گیا لیکن ہم سے بھی لیباٹری والوں نے نمونے نہ لیے اور کہا کہ اس وقت ہم یہ ٹیسٹ نہیں کر سکتے اب بہت دیر ہو گئی ہے میں نے کمرہ نمر 4 ایمرجنسی میں ایک ڈاکٹر سے بات کی کہ لیباٹری والے خون کے نمونے جمع نہیں کر رہے جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ کارٹیالوجی والے ڈاکٹرز خون کے نمونے بہت لیٹ بھجواتے ہیں اور اس وقت لیباٹری کے پاس مطلوبہ سٹاف اور کیمکلز کی کمی ہے اور اس لیے یہ ٹیسٹ ہم نہیں کر سکتے ہم اس وقت صرف شعبہ حادثات کے ایمرجنسی مریضوں کے ٹیسٹ ہی کر رہے ہیں،میرے سمیت تمام مریضوں کے لواحقین رات تین بجے تک دربدر ٹھوکریں کھاتے رہے لیکن ہمارے مریضوں کے انتہائی اہم خون کے ٹیسٹ جن کی فوری ضرورت تھی نہ ہو سکے۔اس کے علاوہ واڈ میں موجود سٹی سکین کی دونوں مشینیں بھی خراب ہو گیں اور صفائی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے بستر پر مختلف قسم کے حشرات الارض رینگتے نظر آ رہے تھے۔اس کے علاوہ رات کو واڈ جونئیر ڈاکٹرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔جبکہ تمام سینئر ڈاکٹرز اپنے پرائیویٹ کلینکس پر ہزاروں روپے فیس لے کر مریضوں کو لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں۔14 فروری کی رات کو وارڈ میں دو مریضوں کی وفات بھی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی جس کی فوری تحقیقات کی جائے۔صبح جب میں نے ساری صورتحال ایم ایس بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ مشینیں خراب ہوتی رہتی ہیں اور کارٹیالوجی کے مریضوں کے خون کے نمونے ایمرجنسی میں چیک نہیں ہوتے جونئیر ڈاکٹرز کو علم نہیں تھا اس لیے یہ معاملہ ہوا ہے۔ میری خادم اعلیٰ سے درخواست ہے کہ واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹے سی سی یو کارڈیالوجی میں سینئر ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقنی بنایا جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...