گورنمنٹ بوائز ڈگر ی کالج تونسہ کے طلبہ کا پرنسپل اور پروفیسرز کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

گورنمنٹ بوائز ڈگر ی کالج تونسہ کے طلبہ کا پرنسپل اور پروفیسرز کیخلاف احتجاجی ...

تونسہ شریف (تحصیل رپورٹر) غیر قانونی جرمانوں، باقاعدہ کلاسز کا اجرا نہ کرنے، طلبا کو بس و دیگر سہولیات فراہم نہ کرنے پر پرنسپل و پروفیسرز کے خلاف سینکڑوں طلباء نے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سے بھر پور احتجاجی ریلی نکالی۔ جسمیں سینکڑوں طلبا شریک تھے۔ ریلی کی قیادت مقامی سٹوڈنٹ محمد صدام، شکیل احمد نے کی۔ ریلی کے شرکا نے بینر، پوسٹر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر طلبا کے مطالبات (بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

درج ہونے کے علاوہ پرنسپل اور کالج پروفیسرز کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی فوڈ سنٹر سے ہوتی ہوئی تعمیر نو چوک پر پہنچی تو طلباء نے پھر مقامی پروفیسرز کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ اس دوران روڈ بلاک ہوگیا۔ تھوڑی دیر قیام کے بعد ریلی کالج روڈ پر پہنچی تو تونسہ شریف کے مقامی شہری بھی ریلی میں شریک ہو گئے اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی طالبات بھی اپنے سٹوڈنٹ بھائیوں کے ساتھ شامل ہو گئیں۔ ریلی صبح دس بجے نکالی گئی۔ ذوالنورین مسجد چوک پر بھی ریلی کے شرکا نے نجی تعلیمی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور تعلیم عام کرو، ڈنڈا نہیں قلم کتاب دو کے نعرے لگائے گئے۔ ریلی ایک گھنٹہ بعد کلمہ چوک پر پہنچی جہاں پر پرزور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی بہت بڑے جلوس کی شکل اختیار کر گئی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سٹوڈنٹ پاور تونسہ کے سرکردہ محمد صدام حسین نے کہا کہ 300طلبا سے فی کس 1500روپے اضافی جرمانے کی مد میں وصول کئے گئے۔ نہ دینے والوں کے داخلہ روکے گئے۔ آواز اٹھانے والے طلبا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ایمان سے عاری پرنسپل سے ہر مرتبہ مذاکرات کئے۔ جرمانے نہ وصول کرنے اور حکومت کی طرف سے دی جانے والی سہولیات مہیا کرنے کا وعدہ کیا لیکن پھر مکر گیا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پروفیسرز کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والے پرنسپل طلبا پر دہشت گردی کے مقدمات میں پھنسائے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اور آواز نہ اٹھانے کے لئے رات کی تاریکی میں اپنے چیلوں کو ہمارے گھروں پر بھیج دیتا ہے۔ مذکورہ پرنسپل نے لاکھوں روپے وصول کر کے رشوت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ اکیڈمی مافیا میں پڑھنے اور نجی کالج میں امیروں کے بیٹے پڑھنے والوں کے گورنمنٹ کالج کی طرف سے ریگولر داخلے بھجوا رہا ہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سٹوڈنٹ پاور تونسہ کے شکیل احمد نے کہا کہ حکومت نے کروڑوں روپے کی بلڈنگ تعمیر کی لاکھوں روپے پروفیسرز کو تنخواہ دی جاتی ہے ان کے پیٹ کی دوزخ ہمارے جرمانوں سے پوری ہوتی ہے۔جرمانوں کی معافی اور وصول شدہ جرمانے واپس کئے جائیں۔ اس کے علاوہ ایف اے، ایف ایس سی کی باقاعدہ کلاسز لگائی جائیں۔ پروفیسرز کی کالج میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ نجی تعلیمی اداروں سے وابستگی ختم کی جائے۔ لاکھوں کے فنڈز کی خورد برد کا احتساب کیا جائے۔ کالج میں سپورٹس سسٹم کو بحال کیا جائے۔ پرنسپل اور بھتہ خور اللہ وسایا پروفیسر عامر جمیل کو معطل کیا جائے ۔ ایڈمشن فیس ، رولنمبر سلپ داخلوں کی مد میں لاکھوں کی کرپشن کا احتساب کیا جائے۔ کنٹرولر امتحانات اللہ وسایا کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ 20فروری سے فوری طور پر باقاعدہ پروگرام آف ورک شروع کیا جائے۔ محمد شکیل اور محمد صدام حسین نے اپنے مطالبات پڑھ کر سنائے اور مطالبات کی کاپیاں مظاہرین میں تقسیم کیں۔ احتجاجی مظاہرے سے چیئرمین فاضلہ کچھ محمد اسلم بلوچ، محمد حفیظ اللہ ایڈوکیٹ، محمد صابر بلوچ رہنما یوتھ پارلیمنٹ نے بھی خطاب کیا۔ طلبا کے احتجاج میں جماعت اسلامی کے صادق کریم نے طلباء سے ہونے والی زیادتیوں کی مذمت کی اور ان سے حمایت کا اعلان کیا۔ تحریک روشن پاکستان کے رہنما محمد بخش بلوچ نے بھی طلبا کی حمایت کا اعلان کیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ذوالفقار بلوچ نے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹ عملے کے خلاف ڈی سی او ، کمشنر ڈیرہ اور ڈائریکٹر کالج سے فوری طور پر پرنسپل کی معطلی اور غیر قانونی جرمانوں کو واپسی کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف کلمہ چوک میں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما کی گرفتاری کے سلسلے میں کئے جانے والے احتجاجی مظاہرین طلبا کے احتجاج میں شریک ہو گئے۔ اپنے اور طلبا کے حق میں نعرے لگائے۔ طلبا نے جلوش کی شکل میں اے سی تونسہ شریف کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ وکلاء رہنما بھی طلبا کے دھرنے میں شریک ہوئے۔ اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف نے فوری طور پر طلبا سے مذاکرات کے لئے اپنے نمائندے بھیجے تو طلبا نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ طلبا کی مقامی قیادت محمد شکیل محمد صدام اور نصیب اللہ نے اے سی تونسہ شریف سے مذاکرات کئے۔ اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف رانا ساجد صفدر نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے طلبا کو غیر قانونی جرمانوں کا سلسلہ بند کرنے کا حکم دیا اور طلبا کو یقین دہانی کرائی اگر کوئی کرپشن میں ملوث ہوا تو اس کی رپورٹ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے علاوہ اس کے متعلقہ ادارے کو بھجوائی جائے گی ایکشن ہو گا۔ اسسٹنٹ کمشنر تونسہ نے طلبا کا وفد بروز بدھ اپنے دفتر طلب کر لیا۔ پرنسپل و دیگر پروفیسرز کو بھی طلب کر لیا گیا۔ جرمانے ادا نہ کرنے پر اے سی تونسہ نے مزید کہا کہ داخلوں کی فیس بینکوں میں ادا کی جائے اور کہا کہ کسی طالب علم کا داخلہ نہ کیا گیا تو کاروائی کروں گا۔ اے سی تونسہ نے کہا کہ میں نے خود جاکر کالج میں سپورٹس سرگرمیاں بحال کرائیں۔ طلبا کے دیگر جائز مطالبات کے لئے ہر ممکن کوشش کرونگا۔ طالبعلموں سے خصوصی لگاؤ کے لئے طلبا نے اے سی تونسہ کا شکریہ ادا کیا اور دھرنا اختتام پذیر ہوا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...