مردان ،اسماء قتل کیس ،ملزم کا اعترافی بیان ،پولیس دعوؤں کی نفی

مردان ،اسماء قتل کیس ،ملزم کا اعترافی بیان ،پولیس دعوؤں کی نفی

مردان (بیورورپورٹ) آسماء قتل کیس ، ملزم کے اعترافی بیان نے پولیس کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ،گرفتار ملزم کا اعترافی بیان منظر عام پر آگیا ،وحشی درندے نے معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کی پوری کہانی سنادی ،زیادتی کے بعد دایاں ہاتھ منہ پر رکھااوربائیں ہاتھ سے معصوم کلی کو مسل دیا، مردان کے تھانہ صدر کے علاقہ گوجرگڑھی میں 13جنوری کو چارسالہ اسماء گھر کے سامنے کھیلتی ہوئی لاپتہ ہوگئی تھی جس کے دوسرے روز گنے کے کھیتوں سے اس کی قتل شدہ لاش ملی پولیس پہلے روز سے بضد تھی کہ چارسالہ آسماء کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی ہے تاہم فرانزک رپورٹ کے بعد ڈی این اے میچ ہوگیا تو پولیس نے بچی کے قریبی رشتہ محمدنبی کوگرفتارکرلیا ملزم محمدنبی کا عدالت میں دیئے گئے بیان کے بعد کم ازکم یہ گھتی سلجھ گئی ہے کہ قتل سے قبل معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے پولیس نے گذشتہ روزملزم کو سینئر سول جج کی عدالت میں پیش کیاجہاں اس نے دفعہ 164/364سی آرپی سی کے تحت اپنا بیان قلمبند کرایا جو ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی بارہ صفحات پر مشتمل اعترافی بیان میں ملزم نے عدالت کو بتایاہے کہ وہ ایک ہوٹل میں روزانہ کی اجرت پر ملازم ہے وقوعہ کے روز محلے میں شادی تھی جس کے باعث وہ کام پر نہیں گیا آسماء دیگر بچیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اس دوران بچے نزدیک عامرکے گھرگئے جبکہ آسماء دکان پر چلی گئی جہاں اس نے مجھے گنا لے کر دینے کا کہاجس پر میں نے اسے قریبی گنے کے کھیت میں لے گئی ملزم کے بیان کے مطابق اس دوران شیطانی خواہش نے اسے گھیر لیا اور بچی کو زبردستی قابو کرکے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ درد سے چلاتی رہی ملزم کے مطابق اس نے بچی کو چپ ہونے کو کہالیکن وہ مسلسل چیختی چلاتی رہی جس پر ا س نے معصوم کلی کے منہ پر بایاں ہاتھ اور گلے پر دائیں ہاتھ رکھ مسل دیا ملزم نے اپنے بیان میں تسلیم کرلیاہے کہ اس نے یہ سب کچھ اپنی شیطانی خواہش کی بھوک مٹانے کے لئے کیاہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /کراچی صفحہ اول


loading...