حسن ابدال ،13سالہ بچی کی 53سالہ بوڑھے سے شادی،دلہا ،لڑکی کا والد گرفتار

حسن ابدال ،13سالہ بچی کی 53سالہ بوڑھے سے شادی،دلہا ،لڑکی کا والد گرفتار

حسن ابدال(تحصیل رپورٹر)غربت کے نام پر 13سالہ بچی کی شادی 53سالہ بوڑھے سے کر دی گئی۔واقع کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ایکشن کر کے دولہے اور لڑکی کے والد کو گرفتار کر لیا جبکہ نکاح خواں گرفتاری کے خوف سے فرار ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر حسن ابدال کی حدود میں واقع گاوں پنڈ مہری میں چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کی اطلاع ملتے ہی قانون حرکت میں آ گیا ۔پولیس کو اپنے زرائع سے اطلاع ملی کہ مردان کا رہائشی محمد عارف جو کہ ان دنوں پنڈ مہری گاوں میں رہائش پذیر ہے نے اپنی 13سالہ کم عمر بچی کی شادی گاوں کے ایک بوڑھے شخص سے کر رہا ہے جس کا باقاعدہ شرعی نکاح 11فروری کو مقامی نکاح خواں مولوی محمد اسماعیل نے پڑھایا ہے مگر نکاح رجسٹرار نے کم عمری کے باعث اسے رجسٹرڈ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر کاروائی کرتے ہوئے رخصتی کے روز موقع سے دولہا 53سالہ اختر نواز ولد حمید اور لڑکی کے والد عارف خان کو موقع سے گرفتار کر لیا جبکہ کم عمر دلہن کائنات کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ اس موقع پر غیر شرعی نکاح پڑھانے کے جرم میں مولوی اسماعیل کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس کے مطابق کائنات کو دارلامان اٹک بھجوا دیا گیا جبکہ اس کے والد اور دولہا کو عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔پولیس نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے ۔پولیس زرائع کے مطابق لڑکی کا والد کم عمر بیٹی کی شادی کی وجہ غربت بتا رہا ہے جس کے باعث وہ اس کی اس عمر میں شادی کرنے پر مجبور تھا جبکہ مقامی زرائع کے مطابق دولہا اختر نواز نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی جبکہ کائنات سے شادی کے عوض اس نے دولہن کے والد کو تین لاکھ روپے دیے تھے جس کی تصدیق یا تردید پولیس زرائع نہیں کر رہے اور ان کے مطابق تفتیش کے بعد ہی اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /راولپنڈی صفحہ آخر /کراچی صفحہ اول