سوشل میڈیا سے خطرہ نہیں،اخباری صنعت کا مستقبل تابناک ہے :سید سرمد علی

سوشل میڈیا سے خطرہ نہیں،اخباری صنعت کا مستقبل تابناک ہے :سید سرمد علی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سیدسرمد علی نے کہا ہے کہ اخباری صنعت اس وقت کسی طور پر بھی زوال پذیری کا شکار نہیں ہے اور اس کا مستقبل مجھے تابناک نظر آرہا ہے ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا ، پرنٹ میڈیا کچھ زیادہ اثر انداز نہیں البتہ اخبارات کو اپنے طور پر بہتری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی ریڈر شپ میں اضافہ ہو اور نوجوان نسل اس کی طرف راغب ہوسکے۔ سی پیک منصوبہ پاکستان میں ایک بڑا انقلاب لے کر آئے گا جس سے پاکستان کے عوام بہت زیادہ مستفید ہوسکیں گے۔ ان خیالات کا اظہار ان لوگوں نے کراچی ایڈیٹر کلب کے پروگرام ’’میٹ دی ایڈیٹر ز‘‘ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کلب کے صدر مبشر میر اور کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی ، مختار عاقل نے معزز مہمان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کیا۔ اس موقع پر معروف کالم نویس اور صنعت کار اشتیاق بیگ اور ان کے چھوٹے بھائی اختیار بیگ، آغا مسعود، کرنل مختار بٹ، قاضی اسد، اے پی این ایس کے جاوید مہر شمسی، ڈاکٹر تنویر ، قاضی سجاد اور بیچ لگژری ہوٹل کے سیلز منیجر آفندی اور نعیم الدین سمیت دیگر نے شرکت کی۔ سید سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مختلف چہ مگوئیاں ہیں کوئی کہتا ہے کہ اخبارات کامستقبل 2040ء تک مزید خراب ہوجائیگا لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اخبارات کا مستقبل تابناک ہے لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ یہ باتیں آج کی نہیں ہیں یہ پرانی باتیں ہوگئیں ہیں اس وقت میڈیا میں دو طرح کا رجحان ہے۔ پرنٹ میڈیا کے پاس 24گھنٹے ہوتے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیاکے پاس چندسیکنڈ ہوتے ہیں اکثر اوقات 15سکینڈ اور 30سکینڈ میں خبر کو نمٹا دیا جاتا ہے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ ہمیں اس وقت ینگ لیڈر شپ کی طرف توجہ دینی ہوگی ہمیں اسپورٹ اور کلچر کے علاوہ ینگ لیڈر شپ کیلئے ایسی چیزیں اخبارات میں شائع کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ اس طرف متوجہ ہوں اس سے اخبارات کی سیل بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ینگ جنریشن کے ساتھ اپنے آپ کو قریب کرلیں گے تو اس میں ایک نئی طاقت آجائے گی کیونکہ اس وقت ہمیں اخبارات میں Gapکوختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے خلاف فیک نیوز کی وجہ سے پوری دنیا میں اس کا Reaction سامنے آرہا ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ لوگ ان چیزوں سے بہت جلد اکتا جائیں گے۔ اس وقت کتابیں پڑھنے کا رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے مجھے قوی امید ہے کہ لوگ پرنٹ میڈیا کی طرف زیادہ سے زیادہ واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان میں جاری سی پیک منصوبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اسے اہمیت دی جارہی ہے یہ منصوبہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن بنے گا جبکہ دبئی کے مقابلے میں یہاں سے زیادہ بزنس ہوسکے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں چین اس وقت پوری دنیا کی مارکیٹ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کئے ہوئے ہے ہمیں اس لحاظ سے بھی میڈیا کو ری ڈور کی ضرورت ہے۔ میں اس سلسلے میں چانیز زبان کیلئے بھی پاکستان میں اس کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے اخبارات میں جگہ بنارہا ہوں اس وقت بڑی تعداد میں چینی باشندے سی پیک منصوبے میں حصہ لینے کیلئے مسلسل پاکستان آرہے ہیں جس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کے ای سی کے رہنماؤں اور ارکان کے سوالات کا اجواب دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں پاکستان میں چانیز باشندے کے ساتھ ہونے والا دہشت گردی کا واقعہ ہمیں اس انداز سے نہیں لینا چاہئے اس سے پاکستان میں چینی سرمایہ کاری پر کوئی بر اثر نہیں پڑے گا یہاں ایک واقعہ سمجھ کر ہمیں سوچناچاہئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ چائنیز باشندوں کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے منصوبے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ منصوبہ صرف اور صرف پاکستان کی بھلائی میں ہے ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور س کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ آخر میں مختار عاقل نے اختتامی کلمات ادا کئے انہوں نے کہا کہ KECاس وقت کمانڈنگ پوزیشن اختیار کرگیا ہے۔ آج کے پروگرام میں مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر /راولپنڈی صفحہ آخر /کراچی صفحہ اول


loading...