ایک ایسی اسلامی ریاست جہاں بھائیوں کو قتل کرنے کا سفاک قانون موجود تھا اور چار سو سال تک سینکڑوں معصوم بھائی اس وجہ سے قتل کئے جاتے رہے کیونکہ ۔۔۔

ایک ایسی اسلامی ریاست جہاں بھائیوں کو قتل کرنے کا سفاک قانون موجود تھا اور ...
ایک ایسی اسلامی ریاست جہاں بھائیوں کو قتل کرنے کا سفاک قانون موجود تھا اور چار سو سال تک سینکڑوں معصوم بھائی اس وجہ سے قتل کئے جاتے رہے کیونکہ ۔۔۔

  

لاہور(ایس چودھری)اقتدار کی راہ میں انسان اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگتا آیا ہے اور سر سے پاوں تک اس سفاکانہ جرم کی سیاہی میں لتھڑا ہوتا ہے ۔تخت و تاج کی جنگ میں انسان کا مذہب اسکی ذات بن کر رہ جاتا ہے۔اسلام میں کسی کا ناحق خون کرنے کی قطعاً اجازت نہیں لیکن تاریخ میں ایسے واقعات درج ہیں کہ جب اقتدار کی ہوس میں اپنوں کا خون کرنا بھی جائز بنا لیا گیا ۔سلطنت عثمانیہ کی تاریخ میں ایسا ہی ظالمانہ قانون اصول رائج تھا ۔ عثمانی نظام حکومت کا ایک بنیادی اصول برادر کشی تھا۔ یعنی بادشاہ بننے والا اپنے تمام بھائیوں کو قانونی طور پر قتل کر سکتا تھا تاکہ اس کی حکومت کے خلاف سازشوں کا امکان ختم ہو جائے۔ سلطنت عثمانیہ باقاعدہ طور پر 1299ء میں قائم ہوئی۔ چار سو برس تک برادر کشی کے اصول پر عمل ہوتا رہا۔ 1451 ء میں برسراقتدار آنے والے حکمران محمدثانی پر الزام ہے کہ اس نے برادر کشی کے اصول کی بنیاد پر ایک ہی رات میں اپنے انیس بھائی قتل کیے تھے ۔ ان میں سے سب سے بڑے بھائی کی عمر گیارہ برس تھے۔ سلطان محمدثانیفاتح کے نام سے مشہور تھے ،انہوں نے عیسائیوں کی سازشوں کا قلع قمع کیا اور یورپ تک سلطنت کی حدود بڑھادی تھیں، لیکن تاریخ ان کے برادر کشی کے اصول و قانون کو فراموش نہیں کرتی۔ہندستان میں مغلوں کی سلطنت میں برادر کشی کا یہ ظالمانہ اصول قائم رہا ہے۔

مزید : روشن کرنیں